سعودی عرب کی سلامتی،بادشاہت کا تحفظ

سعودی عرب کی سلامتی،بادشاہت کا تحفظ
سعودی عرب کی سلامتی،بادشاہت کا تحفظ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سعودی عرب میں حال ہی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں، مسلح افواج میں بھی اور وزارتوں میں بھی۔ جس میں کمانڈرز کی تبدیلی نئے افسروں(ذاتی وفاداری) کی تعیناتی، مسلح افواج کے ’’جوائنٹ‘‘ ہیڈ کوارٹر کا قیام شامل ہے۔

یہ سب کچھ سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط اور موثر کرنے کے نام پر کیا گیا، لیکن ماضی قریب میں وقوع پذیر حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے تجزیہ کار اسے سعودی عرب کی سلامتی کے نام پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ذاتی سلامتی اور مضبوط گرفت کو یقینی بنانا قرار دیتے ہیں۔

فروری میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں یا یمن میں جاری خانہ جنگی پر سعودی مفادات کی حفاظت کے لئے شہزادہ (لیفٹیننٹ جنرل) فہد بن ترکی بن عبدالعزیز کی تعریف کی ہے، لیکن غالب امکان ہے کہ وہ مخصوص ٹارگٹس کے حصول کے لئے ’’جوائنٹ‘‘ ہیڈ کوارٹر میں نئے سربراہ ہوں گے، اگرچہ وہ مسلح افواج آرمی، نیوی، فضائیہ کے موجودہ سربراہان سے جونیئر ہیں۔

چیف آف جنرل سٹاف فائدالروالی کو جو مسلح افواج میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں، یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ سینئر افسران کو شہزادہ فہد بن ترکی کے ساتھ مکمل تعاون پر آمادہ کریں۔

ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ 800 نئے افسران کی بھرتی اور تقرری بھی اس عمل کا حصہ ہے، جس میں آنے والے مہینوں میں عمل درآمد ہو جائے گا۔ ابھی تک فائدالر والی چیف آف جنرل سٹاف تو تھے، لیکن مسلح افواج کی مشترکہ کمان کا سربراہ کوئی نہیں تھا۔(بادشاہوں کے اپنے مسئلے ہوتے ہیں کہ کوئی ’’جوائنٹ‘‘ سازش نہ تیار کی جاسکے اور نہ اس پر’’جوائنٹ‘‘ عمل درآمد ممکن ہوسکے)۔

ابھی تک ڈپٹی وزیر دفاع بھی اسی لئے نہیں مقرر کیا گیا کہ مسلح افواج کے سربراہان بلاواسطہ وزیر دفاع کے ماتحت ہوں اور اس سے ہی احکامات اور ہدایات لیں جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خود ہیں۔ البتہ پانچ نئے اسسٹنٹ وزیر دفاع مقرر کرنے کے لئے انٹرویو کرلئے گئے ہیں، جو الگ الگ ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور وہ بھی کوئی ’’جوائنٹ‘‘ حکمت عملی کی بجائے وزیر دفاع سے ہی احکامات اور ہدایات لیں گے اور انہیں ہی رپورٹ کریں گے۔

یہ تمام اقدامات ذاتی تحفظ کے لئے ہوں گے، کیونکہ عملی اور زمینی صورت حال یہ ہے کہ 2009-2010ء سے لے کر آج تک یمن میں فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہوئی، سعودی عرب کی مسلح افواج تربیت و تیاری کے لحاظ سے مایوس کن حالت میں ہیں،اسی لئے اتحادی افواج کی ضرورت محسوس کی گئی، بحریہ کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔

تربیت اور تیاری تودور کی بات ہے، ان کے پاس جدید ترین سازو سامان بھی نہیں ہے، حالانکہ ولی عہد جو ایڈونچر کررہے ہیں، اُس میں اولیت بحریہ کو مضبوط کرنا ہونا چاہئے، لیکن ان کے مشیر صرف فضائیہ اور بری فوج کے لئے امریکہ سے ایسے جدید ترین ہتھیار خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں، جن میں انہیں بھی ’’کچھ مضبوطی، کچھ سلامتی، کچھ تحفظ‘‘ مل جاتا ہے۔

یمن میں مزید اور بھرپور مداخلت نہ کرنے کی سیاسی اور عملی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ اب تک ہونے والا جانی اور مالی نقصان اس کی اجازت نہیں دیتا(سعودی عرب اس نقصان کو بہت کم کرکے ظاہر کرتا ہے) اس کے علاوہ ولی عہد اس بات سے بھی گریز کرتے ہیں کہ بہت زیادہ اور بہت مضبوط سپاہ کسی بغاوت میں حصہ دار بن سکتی ہے، اسی ڈر کی وجہ سے سعودی شاہی خاندان اپنے قبیلے کے افراد پر مشتمل سعودی عرب نیشنل گارڈ Sang پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے، جو باقاعدہ مسلح افواج سے الگ ایک ادارہ اور وزارت ہے۔یہ ’’فوج‘‘ شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جو بعد میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بنے، 50سال پہلے قائم کی تھی، نومبر 2017ء تک اُن کے صاحبزادے شہزادہ مطب اس کے سربراہ تھے، آج کل اس کے سربراہ شہزادہ خالد مقرن ہیں جو سعودی عرب کے شاہی خاندان میں ایک کم درجے کے شہزادے سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ اُن کی والدہ غالباً سعودی نہیں تھیں۔

اسی وجہ سے انہیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کا خطرہ یا خطرے کا حصہ نہیں بن سکتے، لیکن Sang کے اندر ان کا بہت احترام ہے، کیونکہ وہ اس سے شروع ہی سے وابستہ ہیں اور بٹالین کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

سعودی نیشنل گارڈز کو رائل سعودی لینڈ آرمی (RSLA) جو باقاعدہ بری فوج ہے، سے زیادہ مراعات حاصل ہیں، تربیت اور تیاری بھی ان سے بہتر ہے،لیکن سرحدی محافظوں کی طرح انہیں بھی یمن کے معاملے میں ہزیمت اُٹھانا پڑ رہی ہے، ان کا باقاعدہ جنگ کا تجربہ نہیں ہے، اسی لئے انہیں یمنی تربیت یافتہ گوریلا کارروائیوں سے نپٹنا مشکل ہوتا ہے، پھر ان کے ذمے سعودی عرب کے بارڈر کے ساتھ ساتھ بحرین کے بارڈر کا دفاع بھی کرنا ہوتا ہے، جہاں شیعہ اکثریت پر سنی حکمران ہیں، جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔

اب جبکہ ولی عہد’’جوائنٹ‘‘ہیڈ کوارٹر کارروائیوں کے لئے مصروف عمل ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ سعودی نیشنل گارڈز کو کچھ مراعات سے محروم کرسکیں گے، اگر وہ سعودی نیشنل گارڈز کو باقاعدہ وزارت دفاع کے ماتحت کرنا چاہتے ہیں جو اس وقت وزارت داخلہ کے ماتحت ہے تو اس کے لئے بہترین وقت نومیر کے قریب تھا، جب شہزادہ مطب کو تبدیل کیا گیا تھا یا عہدے سے ہٹایا گیا تھا، اس میں شک نہیں کہ سعودی نیشنل گارڈز کو ’’مرمت، تزئین و آرائش‘‘ کی ضرورت ہے، کیونکہ کافی سینئر لوگ جو تجربہ کار بھی تھے، وہ ریٹائر ہوگئے یا چھوڑ گئے ہیں، لیکن ابھی بھی Top Brass موجود ہے، لیکن انہیں بھی خدشہ ہے کہ اگر ’’جوائنٹ‘‘ کمانڈ بنادی جاتی ہے تو انہیں مراعات سے محروم ہونا پڑے گا۔

اس وقت ان کے پاس اپاچی اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں۔جو ہتھیار کے ساتھ ساتھ اعزاز بھی ہے، جو ان کے پاس نہیں رہیں گے، اس کے علاوہ کچھ اختیارات اور ذمہ داریاں آر، ایس، ایل، اے کی بھی ملی ہوئی ہیں، پانچ آرمر ڈوہیکل بریگیڈ ہیں، تین ائرونگ بریگیڈ ہیں جو اگر آر، ایس، ایل، اے کو مل جائیں تو اُن کی عسکری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، کیونکہ حالت جنگ میں تو اسی ادارے نے ذمہ داری سنبھالنی ہوتی ہے۔

اس وقت یہ سارے اخراجات ہورہے ہیں، حالانکہ ولی عہد کی اینٹی کرپشن مہم کے باعث دیگر اداروں کے اخراجات وزارت خزانہ کے این او سی کے بغیر نہیں کئے جاسکتے۔اس سارے ماحول میں یہ کہنا، سمجھنا بہت آسان ہے کہ آہستہ آہستہ سارے اختیارات کا مرکز ولی عہد بن رہے ہیں جو ان کی حیثیت کو تو تحفظ دے گا، مضبوط کرے گا، لیکن کیا یہ سارے اختیارات ان کے لئے پریشانی کا باعث بھی بن سکتے ہیں، جس کا خدشہ کئی بار ظاہر کیا گیا ہے۔

بظاہر ان کی آزاد خیالی اور مغربی طرز کی اصلاحات اس وقت بھی مذہبی اکابرین اور علماء کی طرف سے تنقید کا شکار ہیں۔ یہ سب مل کر کچھ ہوسکتا ہے؟یہ اہم سوال ہے، پچھلے دنوں آنے والی اطلاعات یا افواہیں بھی اسی خدشے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

وزارت داخلہ کے پاس ’’سینگ‘‘ کے علاوہ بھی عسکری نوعیت کی ذمہ داریاں ہیں۔ بادشاہت میں کچھ عجیب عجیب سا بھی لگتا ہے، جب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے شہزدہ محمد بن نائف جو (جون 2017ء میں ولی عہد کے عہدے سے برطرف کئے گئے تھے، وہ وزیر داخلہ بھی تھے) کی جگہ وزارت داخلہ سنبھالی تو اس وقت بھی شہزادہ محمد بن نائف کے بھائی کو مشرقی صوبے کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔

بہر حال بات وزارت داخلہ کے پاس عسکری نوعیت کی ذمہ داریوں کی ہورہی ہے، تو اس وقت ایک اہم شعبہ کاؤنٹرٹیرر ازم بھی ریاستی سیکیورٹی کے نام پر (P.S.S) کے پاس ہے جو ولی عہد نے 2017ء میں قائم کیا تھا اور اپنے قیام کے وقت سے ہی وہ براہ راست شاہ سلمان کے ماتحت ہے، اس کے سربراہ جنرل عبدالعزیز الحوارنی ہیں جو شہزادہ محمد بن نائف کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے، لیکن دراصل وہ سی آئی اے کا انتخاب تھے، جو ولی عہد کو بہت پسند ہے اور ان کو (C.T)کی تربیت، کمانڈ اینڈ کنٹرول سی آئی اے نے ہی دی ہیں۔ PSS کا سب سے اہم شعبہ جنرل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ ہے، جو بادشاہت ( وزارت داخلہ) کی آنکھ اور کان سمجھا جاتا ہے اور ہے بھی۔ اس کے سربراہ بریگیڈیئر بِسم العطیہ کا کہنا ہے کہ کرپشن، دہشت گردی سے زیادہ ریاست کے لئے خطرہ ہے، کیونکہ وہ ریاست کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔

اس ادارے نے نومبر 2017ء میں کارائن ہوٹل میں نظر بند کئے جانے والوں کی نشان دہی کی تھی۔ PSS کے ماتحت تین سپیشل فورسز ونگ ہیں، جو جوائنٹ کمانڈ میں بری افواج میں ضم ہو کر بہتر خدمات انجام دے سکیں گے، ان ساری تبدیلیوں، تبدیلی کے منصوبوں پر عمل درآمد ہر وقت درکار ہوگا، کیونکہ منصوبہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن اصل اور مشکل مرحلہ عمل درآمد اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوتا ہے، اگر تو ولی عہد واقعی مسلح افواج کو جنگ کے لئے یا خطرے کی صورت میں اسے ایک اعلیٰ پیشہ ور فوج بنانا چاہتے ہیں تو اور بات، لیکن اگر ان ساری تبدیلیوں کا مقصد اور محور ہی حیثیت مضبوط کرنا ہے تو شاید یہ سارا عمل ایک خود فریبی ہوگا۔

مزید : رائے /کالم