کب تک

کب تک

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابھی پاکستان بدترین معاشی صورت حال سے گزر رہا ہے اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ان حالات میں حکومتی لیڈروں کی بات تو چھوڑیں کیوں کہ وہ کبھی بھی اپنی حکومت کے خلاف بات نہیں کریں گے افسوس تو ہمیں اپوزیشن کے لیڈروں پے ہونا چاہیے جو اس کمر توڑ مہنگائی میں آواز ہی نہیں اٹھا رہے انہیں اپنی پڑی ہوئی ہے کسی بھی لیڈر کی دیانتداری کا پتا ایسے ہی لگتا ہے کہ اس کے دل میں عوام کے لیے کتنا درد ہے اور وہ حکومت میں نا ہوتے ہوے عوام کے کتنے کام آتا ہے،لیکن افسوس کہ ابھی اپوزیشن میں ایسا کوئی لیڈر نہیں جو عوام کہ مسائل پے بات کر سکے اگر یہ بولے گے بھی تو صرف اپنے حق میں یا اپنی مورثی سیاست کے حق میں لیکن پھر بھی عوام ان کو عوامی لیڈر کہتی ہے اب گزشتہ حکومت میں دیکھا جائے تو حکومت اگر کبھی بجلی یا گیس کا بل بھی زیادہ بھیج دیتی تھی تو ان کو سر عام آگ لگا دی جا تی تھی لیکن اب حکومت جو مرضی کریں جیسے بھی عوام کا خون چوس لے ان عوامی لیڈروں کی خاموشی کچھ اور ہی ظاہر کر رہی ہے یا تو یہ مکمل ہی خاموش ہو گئے ہوں لیکن ایسا بھی نہیں ہے جب ان کی ذاتیات پے بات آتی ہے تو ریلیوں کی شکل میں کبھی جیل چھوڑنے چلے جاتے ہیں کبھی عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے ہیں کیا کوئی ایک بھی پیشی ان کی عوام کے لیے ہے یا ایک دن کی بھی جیل انہوں نے عوام کے لیے لی ہو نا جی نا سب ان کی ذاتی کرتوتتیں، ہاں ہم ان کی تقاریر کی روشی میں مان لیتے کہ یہ واقع ہی جمہوریت کی پاداش میں سزا کاٹ رہے ہیں لیکن اگر جمہوریت کہ لیے ہوتی تو یہ آج ان غریبوں کے لیے آواز اٹھاتے جیسے ماضی میں موجودہ وزیراعظم اٹھاتا تھا مجھے یاد ہے جب پیٹرول 64 روپے لیٹر تھا اس وقت بھی تحریک انصاف کے لوگ کہتے تھے کہ یہ پیٹرول مہنگا بیچا جا رہا ہے اب 110 ہے اور اپوزیشن چُپ کا روزہ رکھی بیٹھی ہے اور اگر ابھی اپوزیشن جو عید کے بعد اکٹھ کر رہی ہے جس سلسلے میں گزشتہ دنوں افطاری کا اہتمام بھی کیا گیا وہ بھی عوام کے لیے بالکل نہیں ہے بلکہ صرف اپنی سیاست کو بچانے کے لیے ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ ہماری حکومت ذرا ڈھیلی ہے لیکن ہماری اپوزیشن تو نہایت ہی نالائق ہے مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے ہماری موجودہ حکومتی جماعت کا اصل مقام اپوزیشن ہے کیوں کہ ان کی اپوزیشن میں عوام سُکھ کا سانس لے رہی ہوتی ہے لیکن یہ تو صرف خیال ہی ہے۔

یہاں ایک بات اور بھی سوچنے والی ہے اپوزیشن کی سب سے زیادہ سیٹیں تو مسلم لیگ نواز کے پاس ہیں لیکن جو لیڈر آف اپوزیشن بلاول نظر آر ہا ہے اور جو حقیقی لیڈر آف اپوزیشن ہیں وہ لندن میں علاج کے بہانے گئے ہوے ہیں اب یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے حکومت کو پتا بھی ہے یہ بندہ ڈیفالٹر اور فرار بھی ہو سکتا ہے جس طرح سیاسی پناہ کی خبریں بھی گردش میں تھیں لیکن ان صاحب نے خود ان خبروں کی تردید بھی کر دی اور پریس کانفرنس بھی وہاں کی اور صرف اپنی مرضی کہ چینلز سے کی ان سب باتوں سے جو ایک بات ظاہر ہو رہی ہے جیسے حکومت کا اتنا یقین کرنا شہباز شریف صاحب پر پھر انکا سیاسی پناہ کی خبروں کی تردید پھر سخت سوالوں سے بچنے کے لیے اپنی مرضی کے صحافیوں سے پریس کانفرنس یہ ساری کی ساری باتیں صرف ایک چیز کی طرف اشارہ کر رہی ہیں وہ ہے، ''ڈیل'' جی ہاں جناب یہ ڈیل چل رہی ہے اور ذرائع سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ موصوف انگلینڈ میں علاج کروانے نہیں جائیدادیں بیچ کر پیسہ اکٹھا کرنے گئے ہیں، جو کہ تقریباً سات ارب بلین ڈالر بنتا ہے یعنی کہ جتنا ہم آئی ایم ایف سے مانگ رہیں ہیں اس سے بھی ایک ارب بلین زیادہ اور ساتھ ہی ساتھ حکومت ان سے کہہ رہی ہے کہ آپ سرکاری ٹی وی چینل پر آ کے اپنی کرپشن کا اقرار کریں اور معافی مانگیں لیکن میاں صاحبان یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں لیکن آ قریب ہماری سیاست میں کچھ نا کچھ ایسا دھماکہ خیز عمل ہونے والے ہے جو کہ سارے کا سارا ن لیگ پر ہی منحصر ہو گے۔ لیکن پھر بھی عوام کی آواز اپوزیشن میں کوئی نہیں ہو گا شاید ان پیسوں کی ادائیگیوں کے بعد عوام کو ریلیف بھی مل جائے اور ان لیڈران کی ویسے ہی عوام کو ضرورت نہ رہے اور پھر اگر ان کے شر سے بچا رہا ہو سکتا ہم بھی ریاست ترکی کی طرح دنیا میں اپنا معیار بنا لے لیکن اس کے لیے حکمرانوں کا نیک ہونا نہیں عوام کا دیانتدار ہونا بھی ضروری ہے۔

اس سے پہلے بھی بری بری سخت حکومتیں آئی لیکن ہمیں اتنی تکلیف نہیں ہوئی لیکن اب ہو رہی ہے کیونکہ جب بیمار جسم کا علاج کیا جائے تو تکلیف تو ہوتی ہے۔ہم سابقہ حکومتوں میں اتنے بیمار ہو چکے تھے کہ اب جب علاج کرنے کی ہلکی سی کوشش کی جا رہی ہے تو ہمیں تکلیف ہو رہی ہے اس حکومت میں سو ناکامیاں ہو لیکن اس میں ایمانداری ہے۔

باقی اس حکومت کی ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ ہمارے بیوروکریسی بھی ہے کیوں کہ وہ بھی گزشتہ حکومتوں کے نشے کی عادی تھی لیکن اب وہ ختم ہو چکا ہے اور ان کو تکلیف ہو رہی ہے جس وجہ سے یہ بہت سے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے جس سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکے۔آخر کب تک! ایسا چلے گا۔

مزید : رائے /کالم