جب بشکک میں مصافحہ اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہورہا تھا فوٹو گرافر کہاں تھے؟

جب بشکک میں مصافحہ اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہورہا تھا فوٹو گرافر کہاں تھے؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

کہتے ہیں مصافحہ بھی ہوا ہے اور مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی، لیکن اس وقت شاید فوٹو گرافر دستیاب نہ تھے جو ان تاریخی لمحات کو قید کرلیتے، اس لئے یہ تاریخ ساز لمحے آنکھوں سے اوجھل رہ گئے، دیکھتی آنکھوں نے روسی صدر پیوٹن اور چین کے صدر شی چن پنگ کے ساتھ تووزیراعظم عمران خان کو مصافحہ کرتے بھی دیکھا اور مسکراہٹوں اور خیالات کا تبادلہ کرتے بھی، اور بھی کئی سربراہوں کے ساتھ تصویریں دیکھی جاسکتی ہیں، لیکن شاید مودی کے ساتھ مصافحے کی کوئی خبری قیمت (نیوز ویلیو) نہیں تھی اس لئے نہ تو کسی رپورٹر نے اس طرف توجہ دی اور نہ ہی کسی فوٹو گرافر کو یہ خیال رہا۔  بھارتی فوٹو گرافروں نے تو دانستہ یہ حرکت کی ہوگی تاکہ اندرون ملک مودی کے انتہا  پسند دوست پریشان نہ ہو جائیں۔ پاپا رازی ان ملکوں میں ویسے ہی نہیں ہوتے جو پورے یورپ میں ہر وقت وی وی آئی پی تصویروں کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ لیڈی ڈیانا اور  دودی الفائد انہی پایا رازیوں سے چھپتے چھپاتے پیرس میں ایک انڈر پاس کی دیوار سے جا ٹکرائے تھے اور جان دے دی تھی۔

یہ درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور مودی کی ملاقات طے نہیں تھی لیکن کانفرنس ہال میں آتے جاتے یا کھانے وغیرہ کے دوران کسی راہداری میں یا کسی بھی ایسی جگہ جہاں یہ مصافحہ وقوع پذیر ہوگیا تھا کسی فوٹو گرافر کا نہ ہونا بظاہر عجیب لگتا ہے، محسوس یوں ہوتا ہے کہ اس امر کا پورا اہتمام کیا گیا تھا کہ ہاتھ ملاتے ہوئے کسی کی نظر دونوں رہنماؤں پر نہ پڑ جائے، ورنہ دنیا میں یہ خبر جائے گی کہ بالآخر عمران خان اور مودی نے شنگھائی  کانفرنس کی سائیڈ لائنز میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا ہی لیا۔ یہ معاملہ جو اس وقت عمران خان اور مودی کو درپیش رہا پاکستان اور بھارت کے سربراہان حکومت پہلے بھی اس راستے سے گزر چکے ہیں۔ نیپال میں  سارک کانفرنس ہو رہی تھی اور جنرل پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی اس میں شریک تھے۔ اسے حسن اتفاق کہہ لیں یا سوئے اتفاق کانفرنس میں دونوں کی آنکھیں چار ہوئی تھیں نہ ملاقات ہوئی تھی، نہ مصافحہ ہوا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے خطاب کا وقت آگیا۔ انہوں نے تقریر ختم کی تو سیدھے واچپائی کی طرف بڑھے اور ان کی نشست پر جاکر ان سے مصافحہ کیا۔ واجپائی کے گھٹنوں میں تکلیف تھی اس لئے وہ اٹھ نہ سکے اور بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملا لیا۔ واجپائی  اور جنرل پرویز مشرف کی اس سے پہلے آگرہ  سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات ہو چکی تھی۔ اس دورے میں جنرل پرویز مشرف میڈیا پر تو چھائے رہے اور ہر ہر پہلو سے ان مذاکرات پر روشنی ڈالی جاتی رہی، لیکن کیمروں کی یہ روشنیاں اتنی تیز تھیں کہ یہ مذاکرات ہی ان میں ”چندھیا“ کر رہ گئے اور کسی کو کچھ سجھائی نہ دیا کہ ان ملاقاتوں سے حاصل کیا ہوا ہے۔ جنرل پرویز مشرف تو جیسے کہ انہوں نے بعد میں اسلام آباد میں خود اخبار نویسوں کو بتایا، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آگرہ گئے تھے لیکن یہ مسئلہ تو خیر کیا حل ہوتا دورے کے اختتام پر دوسطری اعلان تک نہ ہوسکا۔ ہوا یوں کہ اعلان کا ایک مسودہ تیار تو ہوا لیکن اس میں کبھی ایک جانب سے اور کبھی دوسری جانب سے  ترمیم و تبدیلی ہونا شروع ہوئی تو مسودہ ہی غائب، اب جنرل صاحب انتظار کر رہے ہیں کہ حتمی مسودہ آئے تو وہ دیکھ کر وطن روانہ ہوں، لیکن مسودہ جن عقابوں کے ہٹھے چڑھ چکا تھا وہ اسے غائب کرکے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ انتظار کے بعد جنرل صاحب ائرپورٹ چلے گئے کہ مسودے کا آخری دیدار وہیں کر لیں گے، لیکن مسودہ آتا تو دیکھتے۔ یوں اس کے بغیر ہی واپسی کرنا پڑی۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف اور واجپائی کی کہیں ملاقات نہ ہوئی تھی۔ نیپال کی جس ملاقات کا ذکر پہلے آیا ہے اس میں  پہل کاری بھی جنرل پرویز مشرف نے ہی کی تھی۔ ورنہ واجپائی تو نظریں نیچی کرکے تقریر سن رہے تھے اور آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ رہے تھے کہ کہیں آنکھوں آنکھوں میں کوئی نامہ وپیام نہ ہو جائے۔ شاید بشکک میں بھی کوئی ایسا ہی معاملہ تھا کہ ہاتھ ملے بھی تو ایسے موقع پر کہ کوئی دیکھنے والا نہ تھا، یعنی دمِ مصافحہ کوئی شاید عادل بھی وہاں نہ تھا اس لئے یہ تاریخی لمحہ بغیر تصویر ہی کے ریکارڈ ہوگیا۔  شاہ محمود نہ بتاتے تو پتہ ہی نہ چلتا کہ کوئی حادثہ خاموشی سے ہو بھی چکا، جس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی، بھارتی میڈیا کے متعلق تو سمجھ آتی ہے کہ ان کے خیال میں مصافحے کی تصویر سامنے آنے کے بعد مودی کے وہ مداح ناراض ہو جاتے جنہوں نے پاکستان کے خلاف ان کی شعلہ نوائیوں سے متاثر ہوکر انہیں دوسری مرتبہ ووٹ دیئے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مودی نے پاکستان کے خلاف جو معاندانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے وہی ان کے مفاد میں ہے، لیکن کیا بھارت نے کوئی ایسا اہتمام بھی کر رکھا تھا کہ کسی دوسرے ملک کا فوٹو گرافر بھی وہاں نہ ہو اور کیا پاکستان کا  آفیشل میڈیا بھی غیر حاضر تھا یا اتنی اہم کانفرنس کے لئے پاکستان کے آفیشل میڈیا کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی تھی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مودی ابھی الیکشن موڈ سے باہر نہیں نکل رہے، بات تو درست ہے لیکن یہ جو مودی کو بار بار مذاکرات کی دعوت دی جارہی ہے اس میں کیا حکمت و دانش پوشیدہ ہے۔ شاہ محمود اس پر بھی تھوڑی سی روشنی ڈال دیں تو بہتوں کا بھلا ہوگا۔

فوٹو گرافر کہاں تھے؟

مزید : تجزیہ