پنجاب اور سندھ کے نئے بجٹ

پنجاب اور سندھ کے نئے بجٹ

پنجاب حکومت نے بھی نئے سال کے بجٹ میں ٹیکسوں میں 26فیصد اضافہ کر دیا ہے اور درجنوں چھوٹے کاروبار ٹیکس کے اس نئے ریلے کی زد میں آ گئے ہیں، ایسے کاروباروں میں درزی، حجام، آئس کریم پارلر، فاسٹ فوڈ پوائنٹس، مٹھائی کی دکانیں، پراپرٹی ڈیلرز، بلڈنگ اینڈ مارکیٹنگ ایجنٹس، تمباکو وینڈرز، منی چینجرز، ہیلتھ کلبز، جیولرز، ایئر کنڈیشنڈ ریسٹورنٹس اور اسی طرح کے اور بہت سے چھوٹے کاروبار ایسے ہیں جن پر یا تو نیا ٹیکس لگایا گیا ہے یا اس میں اضافہ کر دیا گیا ہے، عمرے سمیت بیرون ملک سفر پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹکٹ مہنگے ہوں گے۔ ریسٹورنٹس پر پہلے ہی جی ایس ٹی نافذ ہے، جو وفاقی حکومت وصول کرتی ہے، صوبائی ٹیکس کے نفاذ کے بعد ان ریسٹورنٹس سے مستفید ہونے والے جو کچھ بھی کھائیں پئیں گے، اس پر اُنہیں پہلے سے زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا۔2357 ارب روپے کے بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کی مد میں ساڑھے تین سو ارب رکھے گئے ہیں، جس کا35فیصد جنوبی پنجاب کے لئے مختص ہے، راولپنڈی، لیہ، میانوالی، رحیم یار خان، بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان اور راجن پور میں 40 ارب روپے کی لاگت سے ہسپتال بنائے جائیں گے۔ ایک لاکھ50ہزار بزرگوں، معذوروں، بیواؤں اور یتیموں کے لئے کفالت پروگرام شروع کیا جائے گا، تنخواہوں اور پنشن میں وفاقی حکومت کے فارمولے کی طرح 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے، سندھ کے بجٹ میں البتہ یہ اضافہ15فیصد کیا گیا ہے اور سندھ کا بجٹ صفر خسارے کا بجٹ ہے۔

ایف بی آر کا خیال ہے کہ چھابڑی والوں کی رجسٹریشن بھی ہونی چاہئے، جو اگرچہ فی الحال تو نہیں ہوئی،لیکن اگر ٹیکسوں کا سلسلہ اسی انداز میں آگے بڑھتا رہا تو امید ہے آئندہ ایک دو برسوں میں یہ قدم بھی اُٹھا لیا جائے گا،حجاموں کی دکانوں پر تو ٹیکس لگ گیا ہے،جنہیں آج کے دور میں پارلر یا سیلون کہا جاتا ہے،کیونکہ ان دکانوں پر اُن نوجوانوں کو مجبوراً کام کرنا پڑتا ہے جنہیں بے روزگاری کے اس دور میں اور کہیں ملازمت بھی نہیں ملتی، اسی طرح کے بے روزگار نوجوان قینچی اور اُسترا چلانا سیکھ کر پارلر کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں، چونکہ چند برس سے نایوں کی روایتی دکانوں کی جگہ یہ نئے پارلر لے رہے ہیں،اِس لئے لگتا ہے ٹیکس حکام کو یہ ادا پسند آ گئی ہو گی، اب اگلے مرحلے میں ریڑھی والوں پر نظرِ کرم ہو گی۔

پنجاب کے بجٹ میں بعض فلاحی اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں، جو قابل ِ تعریف ہیں،مثال کے طور پر معذوروں، بیواؤں اور بزرگوں کو ماہوار وظیفہ دیا جائے گا،لیکن اس کے لئے احتیاط یہ کرنا ہو گی کہ اس کا حشر بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام کی طرح نہ ہو جسے نوسر بازی کا ذریعہ بنا لیا گیا اور ہر دوسرے موبائل فون صارف کو چاہے وہ لکھ اور کروڑ پتی ہی کیوں نہ ہو اس مفہوم کے ایس ایم ایس ملنا شروع ہو گئے تھے، بلکہ آج تک مل رہے ہیں کہ آپ کے لئے اس پروگرام کے تحت 25200 روپے نکلے ہیں آپ فلاں نمبر پر شناختی کارڈ کے ساتھ رابطہ کریں، نہیں معلوم اس طرح کتنے سادہ لوح لوگوں کو لوٹا گیا اور اب تک لوٹا جا رہا ہے،اِس لئے یہ خیال رکھنا ہو گا کہ پنجاب حکومت کے اس اچھے پروگرام کو بھی وہ لوگ نوسر بازی کا ذریعہ نہ بنا لیں،جو ایسے کاموں کے لئے پہلے سے تیار ہوتے ہیں۔

پنجاب کے کئی شہروں میں نئے ہسپتال بنانے کا اعلان بھی خوش آئند ہے،لیکن صرف چند ہسپتال بنا کر صحت کی سہولتوں میں بہتری نہیں لائی جا سکتی، اس وقت ہسپتالوں کی جو حالت ِ زار ہے اسے بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے، ہسپتالوں میں بستروں کی چادریں گندی، پھٹی پرانی اور بڑی حد تک ناقابل ِ استعمال ہیں، مریضوں کے رش کا یہ عالم ہے کہ ہر ہسپتال کے وارڈ اور آؤٹ ڈور میں دیکھ کر لگتا ہے کہ شہر کا شہر بیمار ہے اور یہ ملک بیماروں سے بھر گیا ہے، ڈاکٹر مریضوں اور اُن کے لواحقین میں گھِرے رہتے ہیں۔ ایک مریض کو دیکھتے ہیں تو دوسرا دہائی دے رہا ہوتا ہے، پہلے مجھے دیکھ لیں ایک افراتفری کا عالم ہے جس کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ لاہور جیسے شہر میں جہاں کے مخصوص امراض کے ہسپتالوں میں بہتر سہولتیں دستیاب ہیں پورے پنجاب سے آنے والے مریضوں کا دباؤ ہے،کیونکہ ایسی سہولتیں چھوٹے شہروں اور قصبات میں دستیاب نہیں، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جہاں پرائیویٹ شعبے کے مخیر حضرات کے تعاون سے بہت بڑا ایمرجنسی وارڈ بنایا گیا ہے،ڈاکٹر پورے نہیں ہیں اور جن مریضوں کے آپریشن کی فوری ضرورت ہے مجبوراً اُنہیں کئی کئی ماہ کی تاریخیں دی جاتی ہیں، ایسے مزید ہسپتال بنانے کی ضرورت ہے اور پہلے سے موجود ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور سہولتوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔لاہور میں جگر اور گردوں کی پیوند کاری کے انسٹیٹیوٹ نے کام تو شروع کر دیا ہے اور یہاں آپریشن بھی ہونے لگے ہیں،لیکن کیا یہ انسٹیٹیوٹ پروگرام کے مطابق مکمل ہو گا؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

حکومت ِ پنجاب نے ٹیکسوں اور تنخواہوں کے معاملے میں تو وفاقی حکومت کی پیروی کی ہے، ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی کا جو سونامی بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی آ چکا ہے اس میں پنجاب کا بجٹ بھی اپنا حصہ ڈالے گا اور معمولی معمولی کاروبار کرنے والے بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے کہ وہ اپنے روٹی روزگار کا بندوبست کریں یا سرکاری خزانہ بھرنے کے لئے ٹیکس دیں،جس کے خالی ہونے کا شور تو بہت ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے، حالانکہ یہ بات اشرافیہ کے بارے میں درست ہو تو ہو، تنخواہ دار طبقہ تو اس وقت تک تنخواہ کا منہ نہیں دیکھ سکتا، جب تک وہ ٹیکس ادا نہ کر دے، اسی طرح اگر کسی نے چند لمحے کسی ائرکنڈیشنڈ ریستوران میں گزارنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اب وہ جی ایس ٹی کے ساتھ پنجاب حکومت کا ٹیکس بھی دے گا، تب کہیں ایک کپ چائے یا کیک پیسٹری کے ایک ٹکڑے کا ذائقہ چکھ سکے گا، آئس کریم پارلر اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس کی ”عیاشی“کرنے والے اب ٹیکس دیں گے، بالواسطہ طور پر تو ہر کوئی ٹیکس دے رہا ہے اس کی استطاعت ہو یا نہ ہو، اور امیروں کے مساوی دے رہا ہے، جن اشیا پر سیلز ٹیکس عائد ہے اور جن سے خوردنی اشیا بھی مستثنیٰ نہیں ہیں، جو ہر مہذب ملک میں ہوتی ہیں اُن کی ادائیگی بھی خریداری کے ساتھ ہر کوئی کرتا ہے، پٹرول، سی این جی، موبائل فون کارڈ اور سینکڑوں دوسری اشیا پر بھی ہر کوئی ٹیکس دیتا ہے۔ اگر صنعتکار اور امیر طبقہ ایف بی آر کی ملی بھگت کے ساتھ ٹیکس بچاتا ہے، تو اس کا یہ مطلب تو نہیں نکلتا کہ وہ ٹیکس سرے سے نہیں دے رہا اس کا تو سیدھا سادہ مفہوم یہ ہے کہ وہ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مل کر کم سے کم ٹیکس دیتا ہے،جس سے ٹیکس اہلکار بھی مستفید ہوتے ہیں، کیا کوئی ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ سرکاری فنڈز کی لیکیج کایہ سلسلہ رُک جائے، ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہو گا، بلکہ جوں جوں ٹیکس بڑھیں گے ٹیکس اہلکاروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا،کیونکہ گریڈ17 سے22 تک کے جن افسروں کی تنخواہیں پانچ فیصد بڑھی ہیں اور ٹیکس سلیب میں تبدیلیوں کی وجہ سے یہ اضافہ بے اثر ہو گیا ہے، کیا وہ اپنے اختیارات کا استعمال اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے نہیں کریں گے، کسی کے پاس اس کا جواب ہو تو براہِ کرم مرحمت فرمائے۔

معتوب سندھ حکومت نے خسارے کے بغیر بجٹ پیش کر کے ایک اچھا اقدام کیا ہے، اور مزید اچھا یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنروں کی پنشن15فیصد بڑھائی ہے اور اس لحاظ سے سندھ پہلا صوبہ ہے،جس نے یہ اقدام کیا ہے۔اگرچہ سندھ کی حکومت وفاق کی نظروں میں معتوب ہے اور چند ماہ پہلے تو اسے ہٹانے کی پوری کوشش کی گئی تھی۔ اگر جواب میں پیپلزپارٹی بھی ڈٹ نہ جاتی تو شاید صوبائی حکومت کا جھٹکا کر دیا جاتا،لیکن جوابی وار کی وجہ سے جوشیلے وفاقی وزراء کچھ ٹھنڈے پڑ گئے اور چند دن کے اندر حکومت کے خاتمے کا اعلان کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی، اب ان میں سے اکثر منہ چھپاتے پھرتے ہیں، سیاسی دباؤ کے باوجود سندھ حکومت نے متوازن بجٹ دیا ہے اور سرکاری ملازمین کی دعائیں لی ہیں،جن کی توفیق دوسرے صوبوں کو نہیں ہورہی۔

مزید : رائے /اداریہ