اسرائیلی طرز پر قادیانیوں کی بستیاں

اسرائیلی طرز پر قادیانیوں کی بستیاں
 اسرائیلی طرز پر قادیانیوں کی بستیاں

  


ابھی کچھ عرصہ قبل ہی برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسرائیل اور بھارتی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت مسلم مخالف اتحادی ہیں اوربھارت اسرائیلی ہتھیاروں کی سب سے بڑی منڈی بن چکا ہے۔ پاکستان میں جو بم گرائے گئے وہ بھی اسرائیلی ساختہ تھے، جو ہتھیار فلسطین اور شام میں استعمال ہو رہے ہیں، وہی بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کے 45 کمانڈوز کو اسرائیل میں ٹریننگ دی گئی۔ بھارت اسرائیل کو صرف اس لئے پسند کرتا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل برما کو بھی ہتھیار فراہم کرتا ہے، جہاں مسلمانوں پر زمین تنگ کی گئی ہے۔

پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں ا سرائیل نے انتہائی مہلک سپائس 2000 میزائل اور اپنے پائلٹ انڈیا کو دیے جو جدید ترین روسی ساختہ سخوئی 30 جنگی طیارے اڑا رہے تھے۔ ایسا ہی ایک طیارہ ہٹ ہو کر بڈگام میں جا گرااور اسکا پائلٹ جل کر مر گیا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی تھا۔

بھارت کی طرف سے کی جانے والی زمینی جنگ میں طے کیا گیا تھا کہ فوج اور اسرائیلی کمانڈوز کراچی اور بہاولپور پر حملہ کر کے پاکستان کی افواج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبورکر دیں گے۔ اس کے لئے انتہائی مہلک سیٹلائٹ گائیڈڈ اسرائیلی میزائل سپائس 2000 کا وسیع پیمانے پراستعمال کر کے پاکستان کو زبردست تباہی کا شکاربنایا جاتا۔ سپائس 2000 میزائلوں سے اسرائیل نے شام کے شہر حلب کو تباہ کردیا تھا۔

اس میزائل میں انتہائی مہلک 2000 نامی بارود ہوتا ہے جو 3 سے 5 کلومیٹر تک علاقہ تباہ کر دیتا ہے۔بھارتی پائلٹ پاکستان کی حدود میں اپنا جو فالتو سامان گرا کر بھاگے تھے اس کے ساتھ 4 سپائس 2000 میزائیل بھی گرا گئے تھے، جس پر پاکستانی سائنسدان ریسرچ کررہے ہیں۔

بھارت اسرائیل کی مشترکہ جنگی حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو 48 گھنٹوں میں تہہ نہس کر دینا تھا، لیکن ہمارے قابل فخر محافظوں کو تمام منصوبے کا بروقت علم ہو گیا اوردونوں دشمن طاقتوں کو خاک چاٹنی پڑی۔ روس کو جب سے پاکستان نے سی پیک منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی ہے وہ پاکستان کا اتحادی بن گیا۔ موجودہ حالات میں روس نے پاکستان کو انتہائی حساس معلومات دے کر حملے کو ناکام بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے ان اہم معلومات کی مدد سے اسرائیل بھارت منصوبہ کی تفصیلات بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت اور وزیر دفاع راج ناتھ کو بھجوا دیں، جس کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں تلے اندھیرا آ گیااور بھارت کو فوراً اپنے جنگی منصوبے ختم کرنے پڑے۔

مقبوضہ کشمیر میں 1990ء سے ہی اسرائیل فورسز کی تربیت، سراغرساں امور میں تعاون اور کشمیری حریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لئے بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اپنے اس تعاون کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کا فیصلہ کیا اور بھارت،اسرائیل کے ایک مشترکہ وفد کی مقبوضہ کشمیر آمد اور بعض لوگوں سے ملاقاتیں اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

کشمیری عوام یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ بھارتی حکمران اسی طرح کشمیر میں مسلمانوں کو بے بس اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جس طرح اسرائیل نے فلسطین میں کیا۔ بھارتی حکمران کشمیر یوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے اور اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے دستبردار کرنے کیلئے مکمل طور پراسرائیل کی رہنمائی میں کام کرنا چاہتے ہیں۔اب بھارت بھی چاہتاہے کہ کشمیر میں اسرائیل کی موجودگی کو تعلیم، طب، کلچر اور تجارت کی شکل میں مضبوط اور موثر بنایا جائے۔

اسرائیل نے دھوکے اور چالاکی کے ساتھ فلسطین میں زمین حاصل کی اور اپنی ریاست کی بنیاد رکھی۔ امریکی امداد کے ساتھ فلسطین میں یہودیوں نے منہ مانگے دام دے کر مقامی مسلمانوں سے زمینیں خریدیں اور اب وہاں اسرائیل قائم ہے،جو رقبے میں چھوٹا مگر انتہائی طاقتور ملک کے طور پر منظر عام پر آیا اور تمام عالم اسلام کو تنگ کیا ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح آج کل پاکستان میں بھی قادیانی مقامی مسلمانوں سے منہ مانگی قیمت دے کر زمین خرید رہے ہیں اور اپنی نئی بستی تشکیل دے رہے ہیں۔

حالیہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) جس جگہ آباد ہے اس جگہ کا پرانا نام“چک ڈھگیاں ”تھا، تقسیم ہند کے وقت اس وقت کا قادیانی خلیفہ جب اس“قادیان”سے سکھوں کے ڈر سے بھاگ کر پاکستان آگیا تھا۔ سر ظفر اللہ خان کی کوششوں سے اس جگہ قادیانی جماعت کے لئے بنیادی طور پر مبلغ بارہ ہزار روپے کے عوض 1034 ایکڑ زمین کی لیز مورخہ 11 جون 1948 کو پاس کی گئی۔اس وقت اس جگہ کا نام“ربوہ”رکھا گیا۔دنیا کے ہر کونے کھدرے سے قادیانیوں کو لاکر یہاں آباد کیا گیا اور کسی بھی مسلمان کے لیے یہاں زمین حاصل کرکے گھر بنانا ممنوع قرار دیا گیا۔ یوں یہاں ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی گئی۔

اس وقت چناب نگر شہر کا آباد رقبہ تقریباً 24 مربع کلومیٹر ہے۔اس کی لیز 2047ء میں ختم ہونے والی ہے اور قادیانی جانتے ہیں کہ مسلمانان پاکستان اس لیز کی تجدید کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ اس لئے قادیانیوں نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے چناب نگر سے سرگودھا کی طرف کی زمینیں منہ مانگی قیمت پر خریدنی شروع کردی ہیں کہ اگر چناب نگر کی زمین کی لیز منسوخ ہو تو ہمارے پاس اپنی ذاتی ملکیتی زمین اس کے متبادل کے طور پر موجود ہو۔اس مقصد کے لئے سب سے پہلے چناب نگر کے ساتھ“احمد نگر ”نام کی ایک بستی پہلے ہی بسائی جاچکی ہے۔ وہاں سے آگے بھی چار پانچ گنا زیادہ قیمت پر دھڑا دھڑ زمینیں خریدی جا رہی ہیں اور ہم مسلمان ہی پیسوں کے لالچ میں قادیانیوں کو اپنی زمینیں فروخت کر رہے ہیں۔

ہمیں مملکت خدا داد پاکستان میں ایک اور اسرائیل بننے سے روکنا ہوگا۔ اس کے لئے لوگوں کو بتانا ہوگا کہ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لئے اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔ اپنی زمینیں انہیں نہ بیچیں۔ اسرائیل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہودی فلسطین کے چھوٹے سے رقبے پر قدم جمانے کے بعد آج فلسطین کے بڑے حصے پر قابض ہو چکے ہیں اور جب چاہتے ہیں وہاں کے بقیہ مسلمانوں کا قتل عام کر دیتے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے پیچھے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہاں کہ تمام مسلمان ختم ہوجائیں اور ساری زمین یہودیوں کو مل جائے۔ایسا لگتا ہے کہ یہودیوں کی شہ پر ہی قادیانی ان کا فارمولا پاکستان میں اپنانا چاہتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو باہر سے حملہ کر کے نہیں توڑا جا سکتا، لیکن اندر کے غدار اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی ہاتھ 1971ء میں ہمارے ساتھ مشرقی پاکستان میں ہو چکا ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ مغلیہ دور سے لے کر اب تک مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی تو ان کے اندر چھپے غداروں کی وجہ سے ہوئی۔

مزید : رائے /کالم