”ابو کے بعد پھوپھو بھی“ سمیع ابراہیم کے ساتھ ناروا سلوک!

”ابو کے بعد پھوپھو بھی“ سمیع ابراہیم کے ساتھ ناروا سلوک!
”ابو کے بعد پھوپھو بھی“ سمیع ابراہیم کے ساتھ ناروا سلوک!

  


کسی نے سوشل میڈیا پر کہا: ”اب پھوپھو بھی گرفتار ہو گئی ہیں“…… اسی حوالے سے ہمارے ایک مہربان اللہ لوک نے یہ سوال اٹھایا کہ ملک میں امتیازی سلوک کی بات کرنے والے بتائیں کہ محترمہ فریال تالپور کو مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کیس میں پکڑا گیا تو ان کے گھر ہی کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے، کیا وہ خواتین پاکستان کی شہری نہیں ہیں،جو بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کسی الزام کی زد میں آئیں تو ان کو پولیس والوں / والیوں کی گالیاں سہنا اور دھکے کھانا پڑتے اور پھر ان کا ٹھکانہ جیل ہوتا ہے، ہم ان خان صاحب کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ انہوں نے درست فرمایا،لیکن یہ امتیاز تو اشرافیہ اور عام شہری کے حوالے ہی سے نہیں خود اشرافیہ میں بھی ہو گیا، بلکہ کہا جائے کہ ایک ہی خاندان میں فرق آ گیا تو کچھ بعید نہیں، یاد کریں کہ سابق وزیراعظم قائد عوام کی خاتون اول بیگم نصرت بھٹو اور ان کی صاحبزادی دو مرتبہ کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کتنی بار اور کہاں کہاں نظر بند رہیں، اور ان کو کس کس جیل میں رکھا گیا، باقی رہی تشدد والی بات تو بیگم نصرت بھٹو کو قذافی سٹیڈیم کے باہر لاٹھی چارج کر کے زخمی کیا گیا،ان کے سر اور ماتھے سے بہتے خون والی تصویر آج بھی موجود ہے، تو محترم خان صاحب یہ فرق تو موجود ہے، اب آپ اس کو جو معنی پہنائیں۔

امتیاز ہی کی بات ہے تو پھر بہن بھائی میں بھی ملاحظہ فرما لیں، آصف علی زرداری سابق صدرِ مملکت اور قومی اسمبلی کے رکن ہیں، ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے گئے، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سندھ اسمبلی کی رکن اور وزیر ہیں، ان کے پروڈکشن آرڈر کی تیاریاں فوراً کر لی گئیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق پروڈکشن آرڈر کے تحت سندھ اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرنے والے سپیکر سراج درانی ہی نے دستخط کئے ہیں۔ یہ تو استقبال کرانے کے لئے سندھ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے لئے کراچی روانہ ہو جائیں گی اور سپیکر ہی کی طرح ریمانڈ پر ہونے کے باوجود پورا سیشن وہاں گذاریں گی۔ یہ سب زمینی حقائق ہیں ان سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی۔ اب بلاول بھٹو اس سب کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں، اسی طرح جیسے شریف خاندان کو ان کے حمایتی بے قصور گردانتے اور ان کے خلاف مقدمات /ریفرنسوں کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں،”یہ مخمصہ ہے، سمجھنے اور سمجھانے کا“ ہمیں بھی بتا دیجئے کہ یہ سب کیا ہے،کیونکہ نیب اور عدالتوں کا سامنا کرنے والے اشرافیہ پر لوگ الزام لگاتے ہیں کہ احتساب یکطرفہ ہے،بعض اِکا دُکا مثالوں کے باوجود یہ بڑی حد تک درست بھی ہے کہ“انصاف“ کے سایہ عاطفت میں بڑے بڑے لوگ پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اب تو عام لوگ کرکٹ میچ کی طرح اس حوالے سے بھی اپنی دلچسپی کھوتے چلے جا رہے ہیں کہ ان کی خواہش ”کرپٹ افراد“(چاہے کوئی اور کہیں ہوں) کو صرف پکڑا اور ریفرنس بنانا ہی ضروری نہیں ان کے خلاف جرم ثابت کرنا بھی لازم ہے اور اس سارے سلسلے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

جہاں تک ردعمل کا تعلق ہے تو یہ بھی فطری ہے۔ مسلم لیگ(ن) ہو یا پیپلزپارٹی ان کا احتجاج واجب ہے کہ جب تک عدالت مجرم قرار نہ دے قانون کی نگاہ میں قصوروار نہیں،اِس لئے یہ بھی لازم ہے،جہاں تک ان جماعتوں کی طرف سے کسی تحریک کا تعلق ہے تو اس کے لئے فضا اور زمین ہموار ہے،لیکن پیٹ پر پتھر باندھ دیئے جائیں تو ہلنا ذرا مشکل ہوتا ہے اور اس میں وقت بھی لگتا ہے، لہٰذا انتظار ہی بہتر ہے۔ آج کے اخبارات میں ایک خبر پڑھ کر بہت دُکھ اور افسوس ہوا کہ وزیر محترم فواد حسین چودھری نے ایک شریف النفس صحافی/اینکر سمیع ابراہیم کو بھری محفل میں تھپڑ مار دیا، فواد سے ہمیں یہ توقع نہیں تھی۔ اگرچہ جب سے محترم وزیر اطلاعات بنے انہوں نے پیشہ صحافت سے تعلقات بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، ہم نے کبھی توجہ نہیں دی کہ خالد قیوم جیسے دوست ناراض ہو جاتے تاہم ہر دم یہ ضرور سوچتے کہ ایک ایسا نوجوان جو صحافتی برادری میں دوستیوں میں بھی فائیو سٹار ہے،ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اس سلسلے میں کئی تنازعات سامنے آئے تاہم فواد کی جبیں پر شکن نہیں تھی،لیکن سمیع ابراہیم جیسے شخص پر ہاتھ ہی اٹھا لینا بہت ہی نامناسب عمل ہے، خود فواد چودھری کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہئے۔ آج تو یوں بھی ذہن مختلف امور میں الجھا الجھا ہے ورنہ اس پر تفصیل سے بھی بات ہو سکتی تھی، اِن شاء اللہ ہو گی۔درحقیقت صبح اپنے ہی اخبار پر نگاہ پڑی تو جھٹکا لگا کہ رحمت علی رازی اچانک وفات پا گئے وہ بھی اسی شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے کہ دِل کا دورہ پڑا اور اللہ کے حوالے ہو گئے،رحمت علی رازی کے حوالے سے ہم نے یہی کہا اور یہی درست بھی ہے رازی کے انتقال سے اپنی نوعیت کا ایک عہد ختم ہو گیا۔

مزید : کالم /رائے