مختلف ممالک میں درختوں سے محبت

مختلف ممالک میں درختوں سے محبت

درخت نہ صرف ماحول کو خوبصورتی بخشتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی سے بھی نجات دلا کر ہمیں صحت بخش ہَوا فراہم کرتے ہیں۔ آج انسان کی بقاء کو سب سے سنگین خطرہ موسمی تغیرات کی صورت میں درپیش ہے اور اس کا تدارک کرنے میں درختوں کا اہم کردار ہے۔ درختوں سے محبت کرنا اور اُن کا خیال رکھنا کئی اقوام کی تاریخی، تمدنی اور معاشرتی اقدار کا حصہ رہا ہے۔

فراعنہء مصر کے ہاں رواج تھا کہ مرنے والا قبر کی دیوار پر اپنی نیکیوں کی اجمالی فہرست درج کراتا۔ ایک بادشاہ نے تحریر کیا ”میں نے درخت نہیں کاٹے ہیں، نیل کا پانی گندہ نہیں کیا ہے“۔ قدیم مصر میں درخت کاٹنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ جو درخت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر جلتی جھاڑی ”برننگ بُش“ کی صورت میں نظر آئی تھی وہ سینٹ کیتھرین کے قدیم گھرجاگر کے اندر محفوظ کی گئی ہے۔ جس درخت کے نیچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ بی بی مریم کے ہمراہ دشمنوں سے چھپ گئے تھے وہ اَب ایک سوکھے تنے کی صورت میں قاہرہ کے ایک گرجا گھر کے صحن میں محفوظ ہے۔ بابل کے معلق باغات عہد قدیم کے سات عجوبوں میں سے تھے جو بخت نصرنے اپنی بیگم کی خوشنودی کے لئے لگائے تھے۔ یہ باغات من گھڑت افسانہ ہوں تب بھی ماوراء النہر کی تہذیبوں کا درختوں سے پیار کا ثبوت دیتا ہے۔ دیکھیں تو حسن بن صباح نے بھی تو اپنی خود ساختہ جنت میں درختوں کی فراوانی سے ایک ایسا سحر انگیز ماحول تیار کیا تھا جس نے کئی لوگوں کو گمراہی کی ایسی دلدل میں دھکیلا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اِن باغات کی نشانیاں باقی نہیں رہیں لیکن لبنان میں کئی ہزار سالہ صنوبر کے درخت آج بھی محفوظ ہیں جن کا ذکر انجیل میں ملتا ہے۔

اہلِ شام ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں تو تحفے کے طور پر پودے لے جاتے ہیں۔ دمشق کے باشندے گھروں کی چھتوں پر بھی پودے لگاتے ہیں۔ دمشق اور حلب میں کئی ریستوران ایسے لگتے ہیں جیسے کوئی باغیچہ ہوں۔ ہوٹلوں میں جائیں تو بالائی منزلوں سے منی پلانٹ کی بیلیں جھول رہی ہوتی ہیں۔ ائر پورٹ پر اُترتے ہی ہر طرف اِن ڈور پودے زیادہ تر منی پلانٹ کی موجودگی آنے والے کو تروتازگی کا احساس دلاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس قدیم شہر کے پرانے گھروں اور گلیوں میں بھی درخت لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کھلے گھروں میں تو باغیچہ ضرور ہوتا ہے۔ شہروں کے مضافات اور بھی سرسبز ہیں۔ یہ جنگ سے پہلے کے شام کا ذکر ہے۔ خدا کرے کہ اس خوبصورت ملک کی رونقیں پھر بحال ہوں۔ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنے والے اپنے گھروں میں پھلدار درخت لگاتے ہیں۔ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے سامنے سڑک پر دور تک سیب کے درخت لگے ہیں۔ ماسکو ہو یا سینٹ پیٹرز برگ، شہر کے ہر باشندے کا خواب ہے کہ اُس کے پاس اپنا ایک ”ڈاچا“ یعنی مضافات میں گھر ہو جہاں سرسبز درخت لگے ہوں۔ اہلِ ثروت حضرات کے ڈاچے دریائے ماسکو کے کنارے واقع ہیں۔یہاں سے دریاکے کناروں پر سبزہ اور درخت انتہائی خوشنما منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر اتنا خوبصورت ہے کہ یہاں فلموں کی شوٹنگ ہوتی ہے۔ ایک پاکستانی فلم ’میں اناڑی تو کھلاڑی‘ کی شوٹنگ میں نے بھی دیکھی تھی جس میں بابر علی، ریما، ریمبو اورصاحبہ مرکزی اداکارتھے۔ ماسکو سے باہر نکلیں تومضافات میں جو درخت لگے ہیں اور جو ہریالی ہے اِن کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ یہ روس کی مختصر بہار اور گرمی کو اتنا خوبصورت بناتے ہیں کہ دیکھنے والا جاڑے کے طویل، تاریک اور یخ بستہ روز و شب بھول جاتا ہے۔

لندن شہر میں کم و بیش تین ہزار پارک اور سرسبز جگہیں ہیں۔ شہرکا 47 فیصد رقبہ سبز و نیلے رنگوں یعنی پودوں اور پانی نے گھیرا ہے۔ یہاں ایک بلڈنگ سکائی گارڈن کے نام سے مشہور ہے جس کی آخری چھت پر پودوں کا دلکش منظر دیکھنے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ شہر کے قریب ”کیو گارڈن“ میں انواع و اقسام کے درخت محفوظ کئے گئے ہیں جو یونیسکو کاعالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ ہائیڈپارک میں ایک درخت ’ریفارمیشن ٹری‘ کے نام سے مشہور تھاجس کے قریب اظہار خیال کی آزادی کے لئے جد و جہد کرنے والے ملتے رہے پھر درخت جل گیا تو اُس کی جگہ پر کالے اور سفید رنگ کے پتھر زمین میں گھاڑ کر درخت کی شکل بنائی گئی تاکہ یادگار باقی رہے۔ جس درخت پر سے نیچے بیٹھے مشہور سائنسدان نیوٹن کے اُوپرسیب گراتھا جس کے مشاہدے سے اُس نے کشش ثقل کا اُصول دریافت کیا تھا وہ مرور زمانہ سے سوکھ گیا ہے لیکن کیمرج یونیورسٹی نے وہاں ایک نیا درخت لگا کر نشانی کے طور پر محفوظ کر دیا ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہر سال مارچ اپریل میں لوگ دور دور سے چیری کے پھولوں کی بہار ’چیری بلاسم‘ دیکھنے آتے ہیں۔یہ تین ہزار درخت1912ء میں جاپان نے امریکہ کو تحفتاً دیئے تھے۔ پھر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی، ایٹم بم گرائے گئے لیکن واشنگٹن میں دونوں ملکوں کی دوستی کی علامت چیری کے درخت پھلتے پھولتے رہے۔ آج لوگ بموں کو نفرت سے یاد کرکے رنجیدہ ہو جاتے ہیں اور درختوں کو محبت سے دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

مہرگڑھ، موہن جو داڑو اور ہڑپہ جیسی قدیم تہذیبوں کی وارث ا قوام نے بھی درختوں سے محبت کی ہوگی۔ ماحول کا تحفظ کیا ہوگا۔ آثار تو یہی بتاتے ہیں۔ وادی سوات کے دیوداروں کے سائے میں بیٹھ کر آریا نے اپنی مذہبی کتابیں وید لکھے اور پھر ہمالیہ کے شاداب دامن میں جا کے آبا د ہوئے۔ گوتم بدھ نے بہار کے جنگل میں برگد کے نیچے روحانی سکون پایا اور اُس کے بھکشو ٹیکسلا، سوات اور چترال کی پہاڑیوں میں رہنے کے بعد بامیان سے ہوتے ہوئے چین اور کوریا تک اپنے مذہب کو لے گئے۔ چشموں اور سبزے سے بھر پور مقامات خلوت کے لئے موذوں جگہیں تھیں۔ سرگودھا کے علاقے مڈ رانجھا میں دنیا کا دوسرا قدیم ترین برگد اب بھی موجود ہے۔ ٹیکسلا میں اُس درخت جس کے سائے میں گوتم روشنی پا چکا تھا، کی ٹہنی تناور درخت بن چکی ہے۔ پشاور میں تین سو سالہ برگد اور پیپل کے درخت گورنر ہاؤ س اور شہر کے پرانے حصوں میں باقی ہیں۔ شہر کے نزدیک چواں گجر میں سینکڑوں سالہ برگد آج بھی موجود ہے۔ ایک زمانے میں پشاورکو پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے تزکِ بابری میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے پشاور کی حدود میں شیر کا شکار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اتنے گھنے درخت تھے کہ ان میں شیر رہا کرتے تھے۔ آج پشاور کے گرد و نواح میں پرندے تک نہیں ملتے۔ یہاں بہنے والے دریاؤں میں پانی کی قلت ہو گئی ہے، مچھلیاں ناپید ہو رہی ہیں۔ درخت اَب کہاں ہیں؟ ہم کہاں سے کہاں پہنچے؟

اسلام جو امن و آشتی کا مذہب ہے۔ زندگی کو تحفظ دیتا ہے۔ درخت لگانا صدقہِ جاریہ قرار دیتا ہے جس سے مخلوق خداکو فائدہ پہنچتا ہے۔ جنگ کے دوران بھی درختوں کو برباد کرنے سے منع کرتا ہے۔ جنت میں سر سبز و شاداب باغات کی بشارت دیتا ہے جہاں رنگ برنگے پھل لگے ہونگے، بہتی نہریں ہونگی اور خوبصورت موسم ہوگا۔ ہم ایسے دین کے ماننے والے اپنے گرد ونواح میں جنت کی نعمتوں کو نقصان پہنچا کردنیا کو اپنے لئے اور آنے والی نسلوں کے لئے دوزخ بنا رہے ہیں۔ اضاخیل میں پشاور یونیورسٹی کے بوٹینکل گارڈن کوسنا ہے چڑیا گھر بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں پنجروں میں بند جانوروں کو دیکھتے ہوئے زیادہ خوشی ہوگی چہ جائیکہ سرسبز درخت دیکھیں۔ افسوس کہ ہم نے اپنے اسلاف کی اقدار کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ درختوں سے دوستی چھوڑ دی ہے۔ انہیں بے دردی سے کاٹنے لگے ہیں۔ آج ہمیں جہاں اچھی فصل نظر آئے یا خوبصورت درخت ہوں، وہ جگہ کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی خرید لیتی اور پلاٹ بنا کربیچ دیتی ہے۔ اگر اس سے بچ جائے تو صاحبِ ثروت حضرات اس پر گھر بنا لیتے ہیں۔

ہمارے ہاں درخت لگائے جاتے ہیں لیکن نظر نہیں آتے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہم شجر کاری کرکے بھول جاتے ہیں کہ پودوں کی بچوں کی طرح حفاظت کرنا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم پودوں کا صحیح انتخاب نہیں کرتے۔ ہم باہر کے درختوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا سے یو کلپٹس درآمد کر کے ملک کے طول و عرض میں لگایا گیا۔ یہ جلدی بڑھ کر تناور درخت توبن جاتا ہے لیکن پانی ضائع کرتا ہے۔ جب اسلام آباد بن رہا تھا تو زیادہ تر بیج باہر کے لگائے گئے۔ ایک اور تجربہ ہم نے کھجور کے درخت لگا کر کیا۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں شاہراہ قائد پر کھجور کے درخت لگانے کی کیا منطق ہے؟ جب تجربہ ناکام رہا تو پھر پشاور، اسلام آباد موٹر وے پر کھجور کے درخت لگائے گئے۔ کئی جگہوں پر ناریل کے درخت بھی لگائے گئے۔ یہ تو اس ماحول کے درخت نہیں ہیں یہاں کیوں لگائے جارہے ہیں؟ ایک اور غلطی ہم یہ کرتے ہیں کہ جب سڑک کے بیچ شجر کاری کرتے ہیں تو تناور درخت لگاتے ہیں۔ بعد میں سڑک کی توسیع ہوتی ہے تو ان کو اُکھاڑ دیتے ہیں اور بجلی، پانی یاٹیلی فون لائن بچھانی ہو توتب بھی اُن کو اُکھاڑنا پڑتا ہے۔ ہم چھوٹے پودے نہیں لگا سکتے جن کا لگانا اور اُکھاڑنا دونوں آسان ہوں؟ دیکھیں شیر شاہ سوری نے چار صدیاں پہلے جرنیلی سڑک پر جو درخت لگائے تھے وہ مقامی درخت جیسے شیشم کے تھے جو ماحول سے مانوس تھے اور سڑک سے فاصلے پر لگائے جو سالہاسال تک قائم رہے، اب وہ آہستہ آہستہ ناپید ہو رہے ہیں اس لئے کہ ہماری آبادی بڑھنے کی رفتار کے سامنے چرند،پرند یا شجر، کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔اگر ہم نے درخت لگانااور اپنے ملک کو سرسبز بنا نا ہو اور موسمی تغیرات کا سد باب کرنا ہو تو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ پودوں سے محبت کرنی ہوگی، صحیح جگہ پر صحیح درخت لگانے ہونگے اور اُن کی حفاظت بھی کرنی ہو گی۔

مزید : رائے /کالم