گرفتاریوں کا جھکڑ بمقابلہ مہنگائی کا سونامی

گرفتاریوں کا جھکڑ بمقابلہ مہنگائی کا سونامی
گرفتاریوں کا جھکڑ بمقابلہ مہنگائی کا سونامی

  


بعض اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں،مثلاً جب چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی مبینہ آڈیو وڈیو کا سکینڈل سامنے آیا تو یہ کہا گیا کہ اب وہ یا تو مستعفی ہو جائیں گے یا پھر نیب کو بڑی گرفتاریوں سے روک کر چھوٹے چھوٹے کیسوں پر توجہ دیں گے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ثابت ہوئیں۔ انہوں نے استعفا دینے کے خیال کو مضحکہ خیز قرار دے دیا اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا۔ انہوں نے پہلے آصف علی زرداری کے وارنٹ جاری کئے، پھر فریال تالپور کے اور درمیان میں حمزہ شہباز کو بھی پہلے سے جاری وارنٹ کی تکمیل پر گرفتار کر لیا۔ اب کل ہی نیب نے پنجاب کے صوبائی وزیر سبطین کو گرفتار کرکے یہ پیغام دے دیا ہے کہ چھری دونوں طرف چلے گی، جانبداری کا الزام درست نہیں۔ پرویز خٹک اور شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں،جبکہ مولانا فضل الرحمن بھی نیب کے ریڈار پر آ چکے ہیں۔ شاہد خاقان اور پرویز خٹک تو کہتے ہیں کہ نیب جب چاہے انہیں گرفتار کرلے، وہ گھبرانے والے نہیں، لیکن مولانا فضل الرحمن نے جس طرح نیب کی تحقیق پر جلالی لہجے میں نیب کی دھجیاں اڑانے کی دھمکی دی ہے، وہ ناقابل فہم ہے۔ یہ کام تو آصف علی زرداری نے بھی کچھ عرصہ پہلے کیا تھا اور ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے متکبرانہ انداز میں کہا تھا کہ چیئرمین نیب کی کیا مجال کہ انہیں گرفتار کرے۔ انہوں نے تو نیب کے خاتمے کی پیش گوئی بھی کر دی تھی، مگر آج وہ نیب کی حراست میں ہیں، جہاں توقع کے عین مطابق ان کی طبیعت خراب ہو چکی ہے اور وہ نیب کی حراست میں رہنے کی بجائے کسی ہسپتال میں رہنا زیادہ پسند کریں گے۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد بندہ کم از کم نیب والوں کے سوال و جواب سے تو بچ جاتا ہے۔ ویسے بھی آصف علی زرداری اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے جب گیارہ سال جیل کاٹی تھی تو آتش جوان تھا، اب پیرانہ سالی نے آ گھیرا ہے۔ اس عمر میں قید تنہائی ہو یا کسی تفتیشی ٹیم کی موجودگی میں وقت گزارنا،دونوں ہی بہت مشکل کام ہیں۔

ایک جانب نیب نے گرفتاریوں کا جھکڑ چلا رکھا ہے تو دوسری جانب حکومتوں نے ٹیکسوں کے سونامی کو بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں گیارہ کھرب سے زائد کے ٹیکس لگانے کے بعد پنجاب کے بجٹ میں بھی 26فیصد ٹیکس بڑھا دیئے گئے ہیں، جن کا حجم بھی اربوں روپے میں بنتا ہے۔ یہ نیب کے گرفتاری تماشے نہ ہوتے تو ان ٹیکسوں پر وہ ہاہا کار مچنی تھی کہ الامان الحفیظ۔ وفاقی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی تو پنجاب حکومت کیسے پیچھے رہ سکتی تھی۔ ایسی ایسی مدات پر ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں کہ عوام کو جو تھوڑی بہت رعایت یا سہولت مل جاتی تھی، وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔ ایک سر پھرے نے سوال کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت تو ایک ہی دن خارج کی تھی، پھر اس روز فریال تالپور کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا، کیوں گرفتاری اس دن عمل میں لائی گئی جب پنجاب کا بجٹ پیش کیا جانا تھا؟ کیا اس سے آپ کو نیب اور حکومت میں گٹھ جوڑ نظر نہیں آ رہا۔ اب ٹائمنگ کی حد تک تو اس کا کہنا درست ہے، مگر یہ کہنا بلا ثبوت ہوگا کہ اس میں حکومت اور نیب کی کوئی باہمی رضا مندی شامل ہے۔ حسن اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت اور نیب میں کوئی گٹھ جوڑ ہو یا نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں نے اپوزیشن کو زچ کر رکھا ہے۔ اب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے مائیک دیئے جانے کے باوجود 35 منٹ تک تقریر کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکے۔ وہ اپنی نشست پر کھڑے ہوتے اور حکومتی بنچوں کی طرف سے ایک آواز پر بیٹھ جاتے۔ بالآخر چالیس منٹ بعد ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اجلاس سوموار کی شام تک ملتوی کر دیا۔ یہ بہت اہم موقع تھا کہ شہباز شریف بے شک کانوں پر ایئر فون چڑھا کر اپنا خطاب جاری رکھتے، قوم تو انہیں سن رہی تھی اور اس تک ان کی آواز بھی پہنچ رہی تھی، مگر لگتا ہے کہ شہباز شریف نے بجٹ پر تقریر ہی تیار نہیں کی تھی۔ انہوں نے جتنا خطاب کیا، اس میں حکومت کے بارے میں عمومی باتیں کرتے رہے۔ عمران خان نے ملک ڈبو دیا، دیوالیہ کر دیا، غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا، نا اہل اور غیر ذمہ دار حکمران ہیں، انہیں گھر بھیجنا پڑے گا۔ اب ایسی باتوں سے عوام کو کیا ریلیف مل سکتا ہے…… چاہئے تو یہ تھا کہ بجٹ پر تقریر کی جاتی اور اس کے ان پہلوؤں کی نشاندہی کر کے، جن کی وجہ سے غریب عوام مزید زیر بار آ سکتے ہیں، حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ بجٹ کی ان شقوں اور تجاویز کو تبدیل کرے جو عوام دشمنی کے زمرے میں آتی ہیں۔

گرفتاریوں کا خوف اب ہر طرف محسوس ہو رہا ہے۔ نیب نے اس حد تک تو اپنا سکہ جما دیا ہے، آج کل جو بھی گرفتار ہوتا ہے، اسے حکومت وقت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پہلے تو حکومتی وزراء رسماً تھوڑی بہت وضاحت بھی کر دیتے تھے یہ حکومت کا نہیں نیب کا کام ہے، مگر اب یہ کہا جاتا ہے جس نے ملک لوٹا ہے اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان تو کچھ زیادہ ہی آگے چلے گئے ہیں، وہ تو اب اپنی جان کے بدلے میں بھی احتساب کا عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں اور گرفتاریوں پر خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں ان کا اصل ردعمل اس وقت دیکھنے میں آئے گا، جب ان کی کابینہ یا خیبرپختونخوا کی حکومت میں سے نیب کچھ افراد کو اپنے شکنجے میں لے گی۔ کیا اس وقت بھی وہ یہی کہیں گے کہ چوروں اور لٹیروں کو نہیں چھوڑوں گا، چاہے میری جان چلی جائے یا ان کا رخ بدل جائے گا اور وہ نیب کو منتخب نمائندوں کی کردار کشی کرنے والا ادارہ قرار دیں گے۔ آج مریم نواز اس ایشو کو بہت اُچھال رہی ہیں، وہ تو بنی گالا کی غیر قانونی تعمیر میں بھی بے قاعدگیوں کا حساب مانگتی ہیں۔ علیمہ خان اور دیگر وفاقی وزراء کے بارے میں نیب کے جانبدارانہ کردار پر سخت تنقید کرتی ہیں، ایسے میں نیب اگر اپنے گرفتاری جھکڑ کا رخ حکومتی شخصیات اور وزراء کی طرف موڑ دیتا ہے، جن کے خلاف انکوائریاں ہو رہی ہیں اور اپوزیشن کی طرح انہیں بھی گرفتار کر لیتا ہے تو عمران خان کے لئے یہ مسئلہ ضرور پیدا ہوگا کہ وہ نیب کے خلاف بیان دیں یا پھر وہی بیانیہ دہرائیں کہ کسی کرپٹ کو این آر او نہیں ملے گا۔

افواہیں گرم ہیں کہ اسی جون میں دس سے پندرہ بڑی گرفتاریاں مزید ہوں گی۔ جس طرح نیب کا ”جھاکا“ اتر گیا ہے اور اس نے طویل عدالتی کشمکش کے بعد آصف علی زرداری، فریال تالپور اور حمزہ شہباز کو گرفتار کیا ہے، ان گرفتاریوں کے بعد بڑے سے بڑے ٹمن خان کی گرفتاری بھی کوئی بڑی ہلچل نہیں مچائے گی۔ اب ملک کے غیر سیاسی، مگر بادشاہ گر جیسی شخصیات کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔ جتنی زیادہ گرفتاریاں ہوں گی، اتنا ہی موجودہ حکومت کو فائدہ ہوگا، چاہے وہ گرفتاریاں تحریک اور حکومتی صفوں میں سے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے عمران خان کے اس موقف کی تائید ہوگی کہ کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوام اس حکومت کو باوجود ناقص اقتصادی کارکردگی کے صرف احتساب کی وجہ سے برداشت کئے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی ہر جگہ تان بھی اسی نکتے پر ٹوٹتی ہے اور وہ حکومت کی ہر مشکل کا حل اسی بات سے نکالتے ہیں۔ عوام کسی بڑی شخصیت کی گرفتاری پر تھوڑی تالیاں بجا لیتے ہیں، مگر جلد ہی انہیں مایوسی آگھیرتی ہے۔ جب گرفتار ہونے والے بغیر کچھ نکالے ضمانت پر باہر آجاتے ہیں، یہ سلسلہ کب تک کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادے چلی جارہی ہے، ڈالر مہنگے سے مہنگا ہو رہا ہے، لوگوں کی آمدنی سکڑتی اور قیمتیں پھیلتی جارہی ہیں۔ ایسے میں کب تک نیب کی گرفتاریاں عوام کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں گی۔ عوام ان گرفتاریوں کے بعد یہ بھی سننا چاہتے ہیں کہ پکڑے جانے والوں سے اربوں روپے برآمد ہو چکے ہیں اور لوٹے گئے مال کی واپسی سے خزانہ بڑھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ تو نہیں ہو رہا، ایک طرف خواب و خیال کی باتیں اور دوسری طرف سنگلاخ حقیقتیں ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ کیا یہ دونوں چیزیں متحارب کھڑی رہیں گی یا اکٹھی بھی ہوں گی۔ یہ جب تک اکٹھی نہیں ہوتیں، شکوک و شبہات اور مایوسی عوام کا مقدر بنی رہے گی۔ اس تلخ حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے۔

مزید : رائے /کالم