بے بسی،خواہشات۔۔حقیقی تبدیلی کب آئے گی ؟

بے بسی،خواہشات۔۔حقیقی تبدیلی کب آئے گی ؟
بے بسی،خواہشات۔۔حقیقی تبدیلی کب آئے گی ؟

  


"آپ پُرسکون زندگی گزاررہےہیں،نہ فکر،نہ فاقہ،نہ دھول،نہ مٹی،بہترین سڑکیں،خوبصورت پارک،دن میں رونق توشام ہوتے ہی ہرطرف روشنیوں کی جگمگ ، کیاٹھاٹ ہیں بھئی آپ کے؟آخری شہری جوبن گئے،اب گاؤں کی یادکب آتی ہوگی؟ایک ہم ہیں جوسارا دن گدھے کی طرح کام کرتے ہیں،علی الصبح اٹھ کر کوہلوکے بیل کی طرح سارا دن کام کرتے ہیں،مٹی کیساتھ مٹی ہوناپڑتاہے تب جاکرکام مکمل ہوتے ہیں اورچھ ماہ بعدجب فصل کٹتی ہے توپھرآڑھتی کے کھاتے سے کچھ بچنے کے بعدہی انہیں کچھ پیسے میسر آتے ہیں،اب آپ کی طرح ہرماہ ہمارے اکاؤنٹ میں تنخواہ توآتی نہیں"۔۔۔

میں جب بھی گاؤں جاتاہوں تومجھے میرے دیہات کے بڑوں چھوٹوں سے یہی باتیں سننے کوملتی ہیں،جس سے بھی حال دل سنیں،دردناک داستان ہے ، دلخراش کہانی ہے،کبھی آبدیدہ ہوجاتاہوں توکبھی آنکھیں نمناک ہوتے ہوتے رہ جاتی ہیں،کچھ ان کے مسائل پران پررحم آتاہے توکچھ اپنے ایسے مسائل ہوتے ہیں کہ سفید پوشی ان سے پردہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی،سبھی لوگ ناشکرے تونہیں ہوسکتے۔۔مگرجیسے کہتے ہیں کہ"دورکے ڈھول سہانے" دیہات میں رہنے والے زیادہ ترلوگوں کوشہری زندگی آسان لگتی ہے ،وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں سب کچھ آسانی سے دستیاب ہے مگرحقیقت تویہی ہے کہ زندگی دیہاتی ہویاشہری؟ مہنگائی تقریباایک جیسی ہے۔اگردیہات میں صبح سے شام تک کام کرناپڑتاہے توشہرمیں بھی مشین کی طرح مسلسل کام کرنا ضرورت ہے،جتنے گھرکے افراد ہیں اتنے ہی کام کریں گے توگزربسرہوگی۔ورنہ منہ پھاڑکردیکھتی مہنگائی عام آدمی کوکھاجائے گی۔۔

مسائل اپنی جگہ۔مگران سب کاذمہ دارکون ہے؟۔۔ریاست یاعوام؟ یاپھردونوں ہی۔۔کیاایساتونہیں کہ ہم حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے اورپھرنتائج بھگتناپڑتے ہیں۔۔اگرحکومت ہمارے اپنے ہی ووٹ کے نتیجے میں بنتی ہے ،اسی حکومت کی وجہ سے مسائل ہوتے ہیں تو پھرذمہ دارحکومت سے زیادہ ہم خود تونہیں؟۔۔

حققت یہ بھی ہے کہ سادہ لوح عوام اورصاف گودیہاتی ہربارعوام کے نام پر لگائے گئے نعروں پریقین کرلیتے ہیں کہ اب کی بار ان کی قسمت بدلے گی،اب کی بار مہنگائی کاجن بوتل میں بندہونے کیساتھ ساتھ ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا،اب کی باربجلی سستی ہوجائے گی اورلوڈشیڈنگ کانام ونشان تک نہیں رہے گا،اب کی باروہ بیمارہوئے تومفت اورمعیاری علاج میسرہوگااوروہ سسک سسک کرنہیں مریں گے،اب کی باران کے بچوں کی تعلیم مفت ہوجائے گی اوروہ بھی معیاری اداروں میں بغیرسفارش،بغیرپیسے کے پڑھ لکھ سکیں گے ۔ان کے بچے بھی بڑے ہوکربڑے آدمی بن جائیں گے،اب کی بارجب حکومتی عہدیدار اپنی ذمہ داریوں کونبھائیں گے توپھران کے کچن میں انواع و اقسام کے کھانے بنیں گے،وہ بچوں کی خواہش کے مطابق بکرے کاگوشت پکائیں گے،وہ دیسی مرغی کھائیں گے،وہ بھی ٹھنڈے ٹھنڈے شاپنگ مالزمیں جاکرجتنی چاہیں گے خریداری کریں گے،انہیں اب بسوں ویگنوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے،اب ان کے گیراج میں بھی گاڑی کھڑی ہوگی اوروہ جب چاہیں جہاں چاہٰیں بنا پریشانی پہنچ جائیں گے۔

اب کی بارحکومت بنتے ہی سب مسئلے حل ہوجائیں گے،مہنگائی نہیں ہوگی توان کی گرمیاں بھی سرد علاقوں میں گزریں گی،وہ بھی دبئی کی سیرکریں گے،وہ بھی ہرسال عمرہ اداکریں گے۔۔اب کی بارحکومتی دعوے سچ ثابت ہوجائٰیں گے کیوں کہ ریاست مدینہ کانعرہ کوئی عام نعرہ نہیں،یہ یقینا فلاحی ریاست بنے گی اوران کی فلاح وبہبود کے بڑے منصوبے شروع ہوجائیں گے۔مجرم سلاخوں کے پیچھے ہوں گے اوربے گناہ آزادی پائیں گے۔کاش حقیقت میں بھی ایساہوجائے اورکاش کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی آجائے۔میں،آپ اورہم سب عوام یہی چاہتے ہیں اورمجھےگفتگو سے لگتاہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں مگر یہ تبھی ممکن ہوگا جب سب ادارے اورحکومتی ومخالف بنچوں پربیٹھے ارکان اسمبلی بھی چاہیں گے۔سیاسی انتقام،تیری میری اورچورسپاہی کاکھیل ختم ہو گا تو سب ٹھیک ہوگا، حقدارکواس کاحق ملے،مظلوم کوانصاف ملے،ہرفرداپنی ذمہ داری پوری کرے اورملک کوترقی یافتہ بنانے کیلئے ہرشہری،ہرحکمران،ہرافسرخلوص نیت سے کام کرے گاتوہم آگے بڑھیں گے ورنہ یہ سب نامکمل خواہشات ہوں گی اورتبدیلی ایک ایساخواب ہی رہے گا جوشایدکبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

(بلاگرمناظرعلی کاتعلق چک بھٹی ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ مختلف اخبارات اورٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں،عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیاجاسکتاہے۔

https://www.facebook.com/munazer.ali)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید : بلاگ