ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ خواتین احتیاط برتیں!

ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ خواتین احتیاط برتیں!

  

اقوام متحدہ کے اہم ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO نے کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال کو مخدوش قرار دے دیا ہے اور اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہ مہلک وبا ملکی آبادی کی ایک کثیر تعداد کو متاثر کرے گی۔ اس لئے احتیاطی تدابیر میں ذرہ بھر کوتاہی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ پنجاب کی فعال اور انتھک وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اگرچہ امید افزا پیغام دیا ہے تاہم اس وبائی مرض سے بچاؤ اسی صورت ممکن ہے اگر ہر شخص حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف دیکھنے اور ان پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے رویے پر غور کرے اور ہر ممکن طریقے سے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو تو قومی سطح پر ہلاکتوں میں کمی اس صورت ممکن ہے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے طریقہ کار میں میں نے خواتین کو نسبتاً کم فعال دیکھا ہے۔ بازاروں میں خواتین ماسک کا استعمال بھی کم کرتی ہیں اور سماجی فاصلے پر دھیان نہیں دیتیں۔ پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔خواتین معاشرتی اور سماجی حلقوں میں خاصا اثر و رسوخ رکھتی ہیں اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ اپنے گھروں اور حلقہء اثر میں شامل افراد پر زور دیں کہ وہ کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔بچوں کو بالخصوص اس کے مضمرات سے آگاہ کریں۔

یاد رہے کہ پاکستان اس وقت مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ معیشت کے سدھار کا وقت تھا کہ کورونا وبا نے معاملات الٹ پلٹ کر دیئے۔ اب قوم کا رویہ جو اس کی روایتی عجلت کے زیر اثر ہے، دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ عوام اس موذی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، لہٰذا ان لوگوں کا خوف بجا ہے جو اس کی حقیقت سے آشنا ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کی بے فکری اور بے اعتنائی سے اس مرض کی تان کہاں ٹوٹے گی۔

کورونا سے نبٹنے کے ساتھ ساتھ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کئے ہوئے ہے جہاں کشمیری نوجوانوں کی شہادتیں روز مرہ کا معمول بنتی جا رہی ہیں۔ مقبوضہ وادی کے لوگ دو محاذوں پر برسرپیکار ہیں۔ ہندو غاصب فوج اور کورونا وائرس کے خلاف، اگرچہ کورونا کی وبا اتنی شہادتوں کا باعث نہیں بن رہی جتنا بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ مظالم سے کشمیری بچوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ غیر ملکی مقتدر ایوانوں میں پاکستان کا شور و غل رنگ لا رہا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کے اہل دل حضرات اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر رہے ہیں۔ بہرحال بھارت ہٹ دھرمی کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر اپنی روایتی زیادتیوں سے باز نہیں آ رہا اور آئے دن پاکستانی علاقے پر گولہ باری اور فائرنگ سے بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ صحت سے متعلقہ غیرملکی اداروں نے بھارت میں کورونا وبا کی صورت حال کو سنگین بتایا ہے لیکن بھارت ہے کہ اس کی مذموم حرکات میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے اس ضمن میں علیحدہ آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے۔ ایسے مخمصوں اور انتشار کو ہوا دی جا رہی ہے کہ لوگ اس مرض کے حوالے سے شک و شبہ میں پڑ گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کورونا وباکے بارے میں ٹھوس رائے رکھتے ہیں۔ زمینی حقائق پر ان کی گہری نگاہ ہے۔ وزیراعظم کی پوری کوشش ہے کہ وہ قوم کو وبا کے بارے میں بھرپور اعتماد میں لیں، لیکن قوم کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے ناک سے آگے دیکھ نہیں رہی۔ پھر ایسے وسوسوں نے عوام کو گھیر رکھا ہے کہ صحیح، درست اور صائب بات ان کے ذہنوں سے پھسل جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کورونا وبا سے بھی زیادہ خطرناک چیز کنفیوژن نے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وبا کا مکمل طور پر ادراک کیا جائے۔ یہ سمجھا جائے کہ ہمیں اس کے ساتھ گزارا کرنا ہے یہاں تک کہ رب رحیم اسے ہم سے دور کر دے اور ان تمام حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہے جو اس موذی مرض کے حوالے سے ہمیں بتائی جا رہی ہیں۔ سماجی فاصلہ اور ماسک کا استعمال بے حد ضروری ہے۔ خواتین سے میری التجا ہے کہ باہر نکلتے وقت وہ ان دونوں باتوں کا بطور خاص خیال رکھیں اور دوسروں کو ان تدابیر کو اپنانے کی تلقین کریں۔ ان لوگوں کو بھی جو رب رحیم کے اذن سے اس مہلک وبا سے محفوظ ہیں، احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل پیرا ہونا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ پورے معاشرے میں ان کا نفوذ ممکن ہو سکے۔

کورونا وائرس آنکھ سے دکھائی نہ دینے والا ایک وائرس ہے۔ یہ مرض قریبی میل ملاپ اور کھانسی، چھینک اور چھونے سے مریض سے تندرست شخص کو منتقل ہوتا ہے جو چند دنوں کے بعد بدن میں اپنی موجودگی ظاہر کرتا ہے۔ اس مرض کی ویکسین ابھی تیار نہیں ہوئی تاہم مختلف ادویات سے اس کے علاج کی کوششیں جاری ہیں جو ہنوز بار آور ثابت نہیں ہو رہیں۔ رب کریم سے التجا ہے کہ وہ ہمارے ملک پر رحم و کرم فرمائے اور اس وبا کو ہم سے دور کر دے۔ بہنوں سے التجا ہے کہ وہ حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کا ورد لگاتار کریں، رب رحیم ہم سب پر اپنا فضل فرمائے گا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -