گھریلو تشدد!

گھریلو تشدد!

  

اسلام سے پہلے عورتوں کے ساتھ بہت برْا سلوک کیا جاتا تھا، معاشرے میں ان کی کوئی عزت اور حیثیت نہیں تھی۔ اسلام نے عورت کو نہ صرف معاشرے میں مقام دلوایا بلکہ ماں، بیوی،بیٹی،بہن،انسان کا درجہ او ر بہت سے حقوق بھی عطا کیے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جِسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا مگر اس میں اسلامی تعلیمات مکمل طور پر رائج نہیں ہو سکیں۔ آزادی اور ترقی کے باوجود بھی عورت پر تشدد ختم نہیں ہو سکا۔

آج بھی عورت کو مختلف طریقوں سے ظلم وجبر کا نشانہ بنایاجاتا ہے،جن میں سے ایک گھریلو تشدد بھی ہے……گھریلو تشدد کسی بھی عورت، مرد یا بچے کے ساتھ ہو سکتا ہے مگر پاکستان میں زیادہ تر خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔گھریلو تشدد صرف جسمانی تشدد تک ہی محدود نہیں جس میں مارنا، پیٹنا شامل ہے،بلکہ گھریلو تشددکی اور بہت سی اقسام ہیں۔ ذہنی، معاشی،نفسیاتی تشدد بھی گھریلو تشدد ہی کی اقسام ہیں۔ جس میں چیخنا چلانا،دوسروں کو قابو کرنے کی کوشش کرنا، ڈرانا دھمکانا، ذہنی اذیت دینا شامل ہے۔

پاکستان میں گزرتے وقت کے ساتھ گھریلو ناچاقیوں کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گھریلو تشدد کی وجہ سے خواتین کی دماغی اور جسمانی صحت متاثر ہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال تشدد کا شکار ہونے والی خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں اور کئی معذورہو جاتی ہیں، کئی ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر خود کشی کر لیتی ہیں جبکہ زیادہ تر خواتین اپنا گھر بچانے کے لیے خاموشی سے ظلم برداشت کرتی رہتی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -