کمپیوٹر سے آنکھوں پر پڑنے والا دباؤ کیسے دور کریں؟

کمپیوٹر سے آنکھوں پر پڑنے والا دباؤ کیسے دور کریں؟

  

کمرے کی روشنی کچھ اس انداز سے رکھیے کہ

اس کا عکس کمپیوٹر کی اسکرین پر براہ راست نہ پڑے

کمپیوٹر اب اتنا عام ہو گیا ہے کہ ہر گھر اور دفتر میں استعمال ہو رہا ہے۔بڑے اور چھوٹے اس بات کا خیال کئے بغیر کہ اس کے سامنے کتنی دیر بیٹھنا چاہئے، اپنی آنکھیں خراب کر لیتے ہیں۔ آنکھوں پر پڑنے والے دباؤ سے آپ کے سر میں بھی درد ہونے لگتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہر دس میں سے آٹھ افراد کو اس ایجاد سے نقصان پہنچ رہا ہے مسلسل کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے سے درج بالا تکالیف کے علاوہ آپ کی آنکھیں بھی جلنے لگتی ہیں، بینائی دھندلا جاتی ہے اور ایک کے دو دکھائی دینے لگتے ہیں چنانچہ آپ کے لئے نظر کا چشمہ پہننا ضروری ہو جاتا ہے۔ کمپیوٹر کے سامنے غلط طریقے سے بیٹھنے پر گردن اور شانوں میں بھی درد شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ساری تکالیف ہونا لازمی نہیں ہے، اگر آپ اس معاملے میں احتیاط بر تیں گے تو نہایت خوش اسلوبی سے اپنا کام انجام دے سکیں گے۔آپ کی آنکھوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکے گا،اس کے لئے احتیاطی تدابیر بے حد آسان ہیں، ان پر عمل پیرا ہونے کے بعد نہ صرف یہ کہ آپ اپنی بینائی کو محفوظ رکھ سکیں گے،بلکہ آپ کو جسمانی پریشانیوں کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

اپنا کمپیوٹر ایسی جگہ پر رکھئے کہ وہ دیوار سے لگا ہوا نہ ہو۔ کمپیوٹر کے بالکل سامنے بیٹھتے اور کمپیوٹر سے آپ کا فاصلہ 18-24 انچ تک ہونا چاہئے۔ ٹائپ کرتے وقت آپ کی کلائیوں اور کہنیوں کی سطح برابر ہونی چاہئے۔ مسلسل کمپیوٹر سکرین پر نظریں جمائے رکھنے سے آپ کی آنکھیں دباؤ اور کھچاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں، گاہے گاہے گردو پیش کی چیزوں پر بھی نگاہ ڈالتے رہیں۔ کمرے کی روشنی کچھ اس انداز سے رکھیے کہ اس کا عکس کمپیوٹر کی اسکرین پر براہ راست نہ پڑے، ورنہ روشنی منعکس ہو کر آپ کی آنکھوں پر پڑتی رہے گی اور بینائی کمزور ہو جائے گی۔اگر کمپیوٹر پر حفاظتی اسکرین نہیں لگی ہوئی تو لگوا لیجئے، ورنہ مانیٹر سے نکلنے والی تیز روشنی آپ کی آنکھوں کو مسلسل نقصان پہنچاتی رہے گی،جہاں تک ہو سکے کمرے کی روشنی مدھم رکھیں۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے پلکیں تیزی سے جھپکاتے رہیں تاکہ دیدوں کی تری قائم رہے۔ جب آپ مسلسل کمپیوٹر اسکرین کی طرف دیکھتے ہیں اور پلکیں نہیں جھپکاتے تو پردہ چشم خشک ہو جاتا ہے اور بینائی کمزور ہو جاتی ہے۔ یاد رکھئے، قدرتی طور پر آپ ایک منٹ میں 10-12 بار پلکیں جھپکانی چاہئیں۔ کم پلکیں جھپکانے پر جب آپ کا پردہ چشم خشک ہو جاتا ہے تو آنکھوں میں سرخی آ جاتی ہے اور آنکھوں میں چبھن اور جلن بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور پانی پیتے رہیں۔ کسی معالج سے رجوع کریں اور اپنے لئے آنکھوں میں ڈالنے والے قطرے (آئی ڈراپس) لکھوالیں جو آنکھوں کی کثافت نکالتے اور ٹھنڈک پیدا کرتے رہیں گئے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -