یورپی یونین، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر تیار؟

یورپی یونین، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر تیار؟

  

یورپی یونین کے وزیر خارجہ جین ایسل بورن نے کہا ہے کہ اگر ِاسرائیل، مغربی کنارے کے علاقے کو ضم کرنے کے متنازع منصوبے پر آگے بڑھتا رہا اور اپنے اس ارادے سے باز نہ آیا تو یورپی یونین کے لئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ناگزیر ہو جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو اس معاملے میں ٹھوس موقف اختیار کرنا ہو گا محض اِسرائیل کو خط لکھتے رہنا 27ملکوں کے اس اتحاد کے لئے توہین آمیز ہے یورپی یونین اگر یہودی ریاست کو اس کے منصوبے سے باز رکھنا چاہتی ہے تو سخت اقتصادی پابندیوں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات کرنے ہوں گے، یورپی یونین کے وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار جرمن جریدے ”سپیگل“ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔

اس وقت تک یورپی یونین کے نو ملک، جن میں سویڈن،ہنگری اور پولینڈ شامل ہیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر یونین کے دوسرے ملک بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لیں تو یہ اقتصادی پابندیوں جیسے اقدامات کی نسبت زیادہ سود مند اور موثر ہو گا۔ اسرائیل کا یہ منصوبہ عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس سلسلے میں واضح موقف اپنایا ہے اور فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا ہے، مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنانا ”چوری“ کے مترادف ہے موسوی شریعت کے احکامات میں جس کی ممانعت کی گئی ہے، قیام اسرائیل فی نفسہٖ ایک ناجائز کارروائی تھی اور اس کے پس منظر میں استعماری مقاصد کار فرما تھے لیکن ستر عشروں سے اسرائیل توسیع پسندی کی جس پالیسی پر گامزن ہے اگر عالمی طاقتیں اس کی سرپرستی نہ کرتیں تو اسرائیل اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہوتا، ایک زمانے میں امریکہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام اسی صورت ممکن ہے جب فلسطین کی آزاد ریاست قائم ہو جائے، بہت سے امریکی دانشور اور سابق صدر کارٹر اس حل کی حمایت میں عالمی اخبارات میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔ہیلری کلنٹن کی وزارت خارجہ کے دور میں بھی اس فارمولے پر کام ہوتا رہا لیکن جب سے صدر ٹرمپ برسر اقتدار آئے ہیں انہوں نے ان سب پالیسیوں کو ریورس گیئر لگا دیا ہے، امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے القدس منتقل ہو چکا ہے اور اب نیتن یاہو مغربی کنارے کو بھی اسرائیل کا حصہ بنانے کے منصوبے کا اعلان کر چکے ہیں، صدر ٹرمپ نے جس ”ڈیل آف دی سنچری“ کا اعلان کیا تھا اس سے حوصلہ پا کر توسیع پسندی کے اس تازہ ترین منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے، فلسطینی قیادت ٹرمپ کے منصوبے کو مستر د کر چکی ہے۔

اس وقت اسرائیلی ریاست میں شام کی جولان کی پہاڑیاں اور اردن کے کئی علاقے شامل ہیں جن پر اس نے عرب اسرائیل جنگوں کے دوران قبضہ کیا، مصر واحد ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کر کے اور اسے بہت سی رعایتیں دے کر اپنے وہ علاقے واپس لے لئے جن پر اسرائیل نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا 73ء کے بعد تو عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کی کوئی براہ راست جنگ نہیں ہوئی لیکن وہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں مسلسل بساتا رہا ہے اب اس کا منصوبہ یہ ہے کہ مغربی کنارے سمیت مزید علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنا لیا جائے تاکہ اگر کسی وقت فلسطینی ریاست کا منصوبہ کامیاب ہو تو کم سے کم علاقے اس کا حصہ بنیں، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات زیر سماعت ہیں، ان کی انتخابی کامیابی بھی واضح نہیں تھی اور انہوں نے دوسری جماعتوں کے ساتھ جوڑ توڑ کر کے مخلوط حکومت بنائی ہے اس لئے وہ یہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنا لیں تاکہ عوام میں ان کی ساکھ بہتر ہو امریکہ تو اس منصوبے کا حامی ہے لیکن دنیا بھر میں اس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ وزیر خارجہ کے تازہ انٹرویو سے اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ یورپی یونین فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر تیار ہے اگر ایسا ہوا تو یہ فلسطین کی بڑی کامیابی ہو گی اور یہ اسرائیلی توسیع پسندی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو گا۔

سلامتی کونسل یہودی بستیوں کے خلاف کئی قرار داد یں منظور کر چکی ہے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے خلاف بھی سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے چودہ ارکان نے متفقہ حمایت کی تھی جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا جس کے بعد یہ معاملہ جنرل اسمبلی کے روبرو پیش ہوا تو چند ملکوں کے سوا پوری دنیا نے بیک آواز اسرائیل اور امریکہ کے اقدام کی مخالفت میں قرار داد منظور کی جس پر صدر ٹرمپ اس حد تک سیخ پا ہوئے کہ انہوں نے قرار داد کے حق میں ووٹ دینے والوں کی امداد بند کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی اور یہاں تک کہا کہ جو ملک ہماری مخالفت کرتے ہیں وہ امداد کے مستحق نہیں، اسرائیل امریکہ کی حمایت سے عرب ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور اس میں اسے کامیابی بھی ملی ہے۔ کئی ملکوں نے اپنا رویہ نرم کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی قائم کر لئے ہیں تجارتی روابط کے ساتھ ساتھ فضائی سروس کا بھی آغاز ہو رہا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اسرائیل اصل وجہ نزاع دور کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور اس کے باوجود امن کا خواہاں ہے اور توقع کر رہا ہے کہ عربوں اور فلسطینیوں کے حقوق دبا کر بھی وہ امن قائم کر سکتا ہے، صدر ٹرمپ بھی اپنے منصوبے کو ”صدی کی ڈیل“ اس لئے کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں فلسطینیوں کو ان چال بازیوں سے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل نہ تو کسی غیر یہودی کو اپنا شہری تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی فلسطینیوں کے اپنے آزاد ملک کو ماننے کے لئے آمادہ، ایسے میں امن کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے؟

اسرائیل کو مغربی کنارے پر قبضے کے منصوبے سے باز رکھنے کے لئے اگر یورپی یونین نے کھل کر عملی اقدامات کئے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تو ایک بڑی اہم پیش رفت ہو گی، مقامِ افسوس ہے کہ اس وقت مسلمان ملکوں کی تنظیم ………… او آئی سی ………… کوئی متحرک کردار ادا نہیں کر رہی اگر عرب اور مسلمان ممالک بھی یورپی یونین کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو اسرائیل پر دباؤ بڑھے گا لیکن او آئی سی کی پالیسیوں پر چند امیر ملکوں کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ وہ ان ملکوں کی حمایت کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پاتی اس تنظیم کے پاؤں میں سیاسی اور اقتصادی مجبوریوں کی ایسی بھاری زنجیر پڑی ہے کہ یہ کوئی بھی آزادانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے، یورپی یونین اگر اصولی موقف اپنا سکتی ہے اور اسرائیل کی توسیع پسندی کی کھل کر مخالفت کر سکتی ہے تو او آئی سی سے توقعات تو بہت زیادہ ہونی چاہئیں جو بدقسمتی سے پوری نہیں ہورہیں،ویسے دیکھا جائے تو ایک ننھی منی فلسطینی ریاست کا وجود تسلیم کر کے اسرائیل کو اگر امن نصیب ہو جائے تو یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے، اسرائیل تو قائم ہی فلسطینی سر زمین پر ہے اگر فلسطینیوں کے پاس طاقت ہوتی اور دنیا ان کی حمایت کرتی تو وہ تمام فلسطین پر اپنا دعویٰ کر کے اسرائیل کا وجود مٹا سکتے تھے، اب اگر وہ اپنے تمام تر دعوؤں سے دستبردار ہو کر ایک چھوٹی سی ریاست پر قانع ہونے کے لئے تیار ہیں تو اسرائیل کو بھی اس پر آمادہ ہونا چاہئے۔ ضرورت یہ ہے کہ جوع الارض نے اسرائیل کی آنکھوں پر حرص و ہوس کی جو پٹی باندھ رکھی ہے اسے ہٹایا جائے تاکہ زمینی حقائق صاف نظر آئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -