”قاتل ڈور“ ایک اور جان لے گئی!

”قاتل ڈور“ ایک اور جان لے گئی!

  

قاتل ڈور کے وار مسلسل جاری ہیں، گزشتہ روز بھی ایک نوجوان کی جان گئی اور دوسرا شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔ لاہور ہی نہیں دوسرے شہروں میں بھی پابندی کے باوجود پتنگ بازی جاری اور قاتل ڈور بھی استعمال ہو رہی ہے۔ انتظامیہ ابھی تک ایسی ڈور کی تیاری نہیں روک سکی جس سے گردنیں کٹ جاتی ہیں۔ لاہور کینٹ میں ایک نوجوان شبیر حسین عسکری 10کے پاس سے موٹرسائیکل پر سوار گزر رہا تھا کہ اس کے گلے میں ڈور پھر گئی جس سے گلا کٹ گیا، اسے بھی امداد کے لئے لے جایا گیا لیکن جانبر نہ ہو سکا، مقتول شبیر حسین کی عمر صرف 24سال تھی، دوسرا نوجوان معین سبزہ زار کے علاقے میں زخمی ہوا، وہ بھی موٹر سائیکل ہی پر جا رہا تھا کہ ڈور گلے پر پھر گئی وہ شدید زخمی ہو گیا، اب زیر علاج ہے، جہاں تک پتنگ بازی کا تعلق ہے تو یہ بہت پرانا کھیل ہے اور ماضی میں اس کے بھی کچھ اصول تھے اور ڈور ایسے دھاگے سے تیار ہوتی جو ٹوٹ جاتا تھا، تاہم لالچ نے اس کھیل کو بھی خونی بنا دیا، نائلون کے پختہ دھاگے کو کیمیکل لگا کر ڈور تیار کی گئی اور دھاتی تار بھی استعمال ہونا شروع ہو گئی، اس کی وجہ سے جب مسلسل حادثات ہونے شروع ہو گئے تو بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی لگا دی گئی جواب مستقل ہے، تاہم لڑکے اور نوجوان اب بھی ”قاتل ڈور“ استعمال کرنے سے باز نہیں آتے، انتظامیہ اب تک ایسی ڈور تیار کرنے والوں اور نائیلون جیسے دھاگے ان کو فروخت کرنے والوں کا سراغ نہیں لگا سکی۔ البتہ پتنگ تیار کرنے والے کئی بار پکڑے گئے ہیں، ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے، پتنگ بازی کرنے اور ”قاتل ڈور“ تیار کرنے والے باز نہیں آتے اور نہ ہی ان کو یہ خیال آتا ہے کہ اس عمل سے کسی کی جان بھی چلی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں نہ صرف ڈور تیار کرنے والوں کی سرکوبی ضروری ہے بلکہ پتنگ بازی ختم کرنے کے لئے اڑانے والوں کے والدین کی سرزنش لازمی ہے۔ کچھ عرصہ قبل پتنگ اڑانے والوں کا سراغ لگانے کے لئے ڈرون (کیمرے) استعمال کرنے کا منصوبہ بنا، وہ کہاں چلا گیا کچھ علم نہیں، انتظامیہ کو موثر انتظامات کرنا چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -