پی آئی اے۔ عروج و زوال

پی آئی اے۔ عروج و زوال
پی آئی اے۔ عروج و زوال

  

قوموں کی شناخت اُن کے کریکٹر اور اداروں کی اہمیت سے ہوتی ہے۔ پی آئی اے اور پاکستان ٹیلی ویژن ایسے ہی دو ادارے تھے جو ملک کے اندر اور باہر بھی ایک کامیاب اور اُبھرتے ہوئے پاکستان کی پہچان تھے لیکن افسوس کہ یہ دونوں زوال کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں اور حکومت کیلئے ایک سر درد بن چکے ہیں اگرچہ ایک مضبوط فوج اور ہمارا کامیاب ایٹمی پروگرام بھی پاکستان کی مثبت شناخت ہیں لیکن آج بات پی آئی اے کی ہو رہی ہے ویسے تو پی آئی اے ہمیشہ خبروں میں رہتا ہے لیکن آجکل تازہ ترین کریش کی وجہ سے ایک دفعہ پھر فوکس میں ہے۔ بہت سے اہل قلم نے پی آئی اے کے معاملات پر لکھا ہے۔ ہمارے مہربان جناب اظہارالحق نے اپنے کالم میں اعدادوشمار کے ذریعے مسئلے کا بھرپور تجزیہ پیش کیا ہے۔ لیکن پی آئی اے بہت اہم قومی ادارہ ہے لہٰذا اس کے عروج و زوال کی داستان بھی بہت درد ناک ہے اور زوال کے اس المیے پر جتنا لکھا جائے کم ہے شاید اس طرح عوامی دباؤ سے حکومت اِس کو سنبھالنے کے لئے کوئی دوررس فیصلے کر سکے۔

آغاز میں پی آئی اے کی مثالی اُٹھان اور پھر نشیب کی طرف مسلسل سفر کا ذکر کافی دردناک ہے۔ لیکن بہرحال یہ ذکر نا پڑتا ہے کہ کس طرح یہ ادارہ موجودہ حالات تک پہنچا اور کس کس نے یہاں تک پہنچانے میں کیا کردار ادا کیا۔ بیماری کی شناخت تو ہو چکی ہے ضرورت سے زیادہ سٹاف، کرپشن، اقراباء پروری اور میرٹ کے قتل کے قصے زبان زدِعام ہیں۔ادارے کی تباہی میں یونینز کا بھی بڑا کردار رہا ہے جیسا کہ ہر ادارے میں ہوتا ہے یونینز کے عہدیدار اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کراتے ہیں اور ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں یہی کچھ پی آئی اے میں ہوا ہے۔پھر پی آئی اے انتظامیہ بھی یونین کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔عموماً یونین کے صدر کو ڈائریکٹ فلائیٹ آپریشن کی پوسٹ پر لگایا جاتا رہا ہے۔

اب تک شاید12 ہوائی حادثات ہوئے ہیں۔ اِن میں بھوجا ایئرلائن اور ایئربلیو کے حادثات شامل ہیں۔اگرچہ حادثات کی انکوائری رپورٹس پبلک نہیں کی گئیں لیکن کئی دوستوں جن کی عمر اِسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے کے مطابق زیادہ تر حادثات میں قصور پائلٹ کا ہی تھا اور اِس تازہ کریش کا ذمہ دار بھی پائلٹ ہی تھا اور ان کے خیال میں اس بدقسمت جہاز کے پائلٹ کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔ ماہر نفسیات نے ان صاحب کو پائلٹ کے جاب کیلئے اَن فٹ قرار دیا تھا۔ ایئرلائن میں پائلٹ بہت اہم جاب ہوتی ہے اور اسی لئے ہر چھ ماہ بعد ہر پائلٹ کی ٹریننگ ہوتی ہے اور سخت میڈیکل ٹیسٹ ہوتا ہے لیکن پائلٹوں کی بھرتی اور پھر اُن کی ٹریننگ کے تقاضوں کے ساتھ جو کچھ پی آئی اے میں ہوتا رہا وہ ایک افسوسناک قصہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ محترمہ بینظیر کی پہلی حکومت میں پائلٹ بھرتی کئے گئے تھے ا ور اطلاعات کے مطابق بھرتی کے ریٹ مقرر تھے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ایک سیکشن آفیسراس پروسس کی پہلی سیڑھی تھا۔ یہ صاحب بعد میں قیدوبند سے بھی گزرے پھر اوپر ایک مشہور بیوروکریٹ کا نام آتا تھا جو زرداری صاحب کے بہت قریب تھے۔

یہی طریق کار مروج رہا ہے کہ کچھ لوگ میرٹ پر بھرتی ہوتے تھے اور زیادہ تر غلط طریقوں سے ہمارے معاشرے میں سفارش اور رشوت تو عام ہے لیکن افسو س کی بات یہ ہے کہ اِس معاملے میں پائلٹ جیسے اہم اور حساس منصب کے معاملے میں یہی طریقہ رائج ہے پھر جب میرٹ کا قتل ہو گا اور معاشرہ خاموش رہے گا تو پھر نتیجہ یہی ہو گا جو ہم بھگت رہے ہیں۔ نااہل اور نالائق لوگوں کو اہم پوسٹوں پر بٹھانا ریاستی ڈھانچے کیلئے کتنا خطرناک ہوتا ہے اس کی وضاحت کیلئے ایک روایت پیش خدمت ہے۔ کہتے ہیں کہ سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کو پتہ چلا کہ حکومت کے ایک انتہائی اہم عہدیدار سی آئی اے کے جاسوس ہیں ایجنسی نے اُن کی کڑی نگرانی شروع کر دی لیکن انہیں کسی قابل گرفت حرکت کا پتہ نہیں چل سکا۔ آخرکار وہ صاحب ریٹائر ہو گئے اور بعد میں امریکہ میں سیٹل ہو گئے۔ خفیہ ایجنسی کے ایک افسر جو خود بھی ریٹائر ہو چکے تھے امریکہ گئے تو انہوں نے سوچا کیوں نا اپنے سابق باس سے ملاقات کی جائے۔ ملاقات میں انہوں نے اپنے سابق باس سے یہ سوال پوچھا کہ آپ پر سی آئی اے کی جاسوسی کا الزام تھا لیکن ہم پوری کوشش کے باوجود آپ کی کوئی ایسی حرکت تلاش نہ کر سکے آخر آپ کرتے کیا تھے۔ اُس نے بتایا کہ میرا کام یہ تھا کہ نالائق لوگوں کو اہم پوسٹوں پر تعینات کیا جائے۔ ہمارے ہاں یہ کام پیسوں اور نسلی اور مذہبی برادریوں کی محبت میں مسلسل ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے نتیجہ ظاہر ہے اور اس کی قیمت پوری قوم کو دینی پڑ رہی ہے لیکن افسوس یہ سلسلہ رُکتا نظر نہیں آ رہا۔

ماضی میں جائیں تو ادارے کی تباہی کے سلسلے میں پیپلزپارٹی کا ریکارڈ شاید ناقابل دفاع رہا ہے پھر مسلم لیگ کی حکومت نے پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور محکمہ موسمیات ایک مشکوک شہرت کی حامل شخصیت عظیم کے حوالے کر دیا۔ اُن سے کسی خیر کی توقع فضول تھی پھر سردار مہتاب آ گئے، سردار صاحب کی ایک سیاستدان کی حیثیت سے بہت اچھی شہرت ہے تاہم وہ نان ٹیکنیکل آدمی تھے کہا جاتا ہے کہ اُس دور میں ضروری ہوم ورک کر لیا گیا تھا اور پروگرام کے مطابق Essencial سروسز کے سوا باقی شعبوں کی نجکاری کرنا تھی لیکن پھر یونیز آڑے آ گئیں اور پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے بھی مزاحمت کی۔ پی آئی اے کے علاوہ سٹیل ملز اور ریلوے جیسے بڑے ادارے شدید بحران میں ہیں ایسا لگتا ہے کہ شاید کوئی حکومت سیاسی اتفاق رائے کے بغیر اِن بحرانوں پر اکیلے قابو نہ پا سکے۔

موجودہ حکومت کے سامنے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ اِن اداروں کو سنبھالے اور اُن رحجانات کی حوصلہ شکنی کرے جن کے نتیجے میں یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ابھی حکومت نے سٹیل مل پر ہاتھ ڈالا ہے لیکن اس عمل میں اپوزیشن سامنے کھڑی ہو گئی ہے اور پھر ماضی میں اِس معاملے پر وزیراعظم اور اسدعمر کے بیانات بھی قابل غور ہیں۔ پی آئی اے کا حل حکومت نے یہ نکالا کہ ایئرفورس کے سرونگ ایئرمارشل کو چیئرمین بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں ایئرمارشل نورخان نے پی آئی اے کو بلندیوں پہنچایا تھا لہٰذا یہی ایک نسخہ کیمیا ہے۔ ایئرمارشل صاحب یقینا بہت قابل آدمی ہوں گے اور کوشش بھی بھرپور کریں گے لیکن معذرت کے ساتھ ہر آدمی نورخان نہیں ہوتا اور پھر وقت اور اردگرد ماحول بہت بدل چکا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -