اے خانہ براندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی

اے خانہ براندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی
اے خانہ براندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی

  

اب اسے الفاظ کا گورکھ دھندہ کہیں یا اعدادوشمار کی جادوگری، بجٹ تو بجٹ ہی ہوتا ہے جو معیشت کا سالانہ میزانیہ ہے۔ اسے ہر سال ہر حال میں آنا ہوتا ہے۔ زلزلہ ہو، سیلاب ہو، آفاتِ ارضی و سماوی ہوں یا کورونا جیسی وبا ہو، کوئی بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔ اگر یہ بھرپور گرمیوں میں آتا ہے تو اس میں بھی اس کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارا مالی سال ہی یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے۔ ایک آدھ عشرہ قبل تک صورت حال یہ تھی کہ اس کی آمد ”آدم بو۔ آدم بو“ جیسی ہوتی تھی۔ نئے ٹیکسوں کے خوف سے اہل تجارت و صنعت کے علاوہ عام آدمی بھی تھر تھرکانپ رہا ہوتا تھا۔ ہمارے درویش صفت شاعر دوست ناصر بشیر کے بقول:

ڈکیتی ہوگی سرکاری، بجٹ پھر آ رہاہے

کرو لٹنے کی تیاری، بجٹ پھر آ رہا ہے

عوام الناس کو پھر قتل ہونا ہے،

چنانچہہے ان پر کپکپی طاری، بجٹ پھر آ رہا ہے

.

لیکن جب سے بجٹ ٹکے ٹوکری ہوا ہے اس کا خوف اور دبدبہ کم ہو گیا ہے۔ اب تو بجٹ بچے جننے لگ گیا ہے۔ پتہ ہی نہیں ہوتا اور اچانک اس کے صاحبِ اولاد ہونے کی نوید آ جاتی ہے۔ اسے عرف عام میں ”منی بجٹ“ یا بجٹ کی مُنی کہا جاتا ہے۔ پہلے سارے نئے ٹیکس جون میں آنے والے سالانہ میزانیے میں لگا دیئے جاتے تھے۔ اب تو پٹرولیم مصنوعات، بجلی، قدرتی گیس، ایل پی جی کی قیمتیں مادر پدر آزاد ہو چکی ہیں۔ کبھی ایک کے نرخ بڑھتے ہیں تو کبھی دوسری کے۔ یوں سارا سال ہی بجٹ عوام کے سروں پر تابڑ توڑ نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اتنی بہتات نے اس کی اہمیت ہی ختم کر ڈالی ہے۔ تازہ ترین بجٹ کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پوری قوم کورونا کے خوف نہیں دہشت کی زد میں ہے۔ کاروبار جو ”عمرانی مہارتوں“ کے سبب پہلے ہی روبہ زوال تھے۔ اب کورونا کی زد میں آکر گھٹی گھٹی سانس لے رہے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری نے اچھے اچھوں کے کس بل نکال دیئے۔ ایسے میں بجٹ بجٹ وہی کھیل سکتے تھے جن کو اسمبلی آنے جانے کے پیسے ملتے ہیں یا جن کی تجارت اور صنعت پر بجٹ اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔ عوام تو بیچارے پہلے بھی ”ننگی نہائے گی کیا، نچوڑے گی کیا؟“ کی تصویر بن چکے ہیں۔ اس سال آنے والا نیا بجٹ البتہ کچھ (بظاہر) وکھری ٹائپ کا ہے۔ اسے وزیر صاحب نے ”ہومیو پیتھک بجٹ“ بنا کر پیش کیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا خوش کن اعلان شامل ہے، مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، یعنی ”نہ فائدہ نہ نقصان“…… بجٹ کے چیدہ چیدہ نکات کے مطابق یہ خسارے کا بجٹ ہے، جس کا مطلب آمدنی کم خرچہ زیادہ ہوتا ہے۔ اقتصادیات کی زبان میں اسے عوام دوست کہا جاتا ہے کہ اس میں عوام پر زیادہ بوجھ ڈالنے کی بجائے ان کی بہبود پر آمدنی سے بھی زیادہ خرچ کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بجٹ کے مطابق مجموعی اخراجات 71کھرب 37ارب روپے ہوں گے جبکہ آمدنی 37کھرب روپے ہو گی۔

اس طرح خسارہ 34کھرب 37ارب روپے ہوگا، اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 9.1 فیصد ہے جس کو کم کرکے 6.5فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شائد اسی وجہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب تنخواہیں بڑھتی ہیں تو افراطِ زر بڑھنے سے مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور عملاً ملازمین کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جتنی تنخواہ بڑھتی ہے، اس سے زیادہ قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ملک میں سرکاری ملازمین اور پنشنروں کی تعداد تیس چالیس لاکھ کے درمیان ہے۔ یہ چالیس لاکھ خاندان ہیں۔ پانچ افراد فی خاندان / گھرانہ کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ تقریباً دو کروڑ افراد بنتے ہیں جن کی زیادہ تعداد شہروں میں آباد ہے۔ دیہی آبادی میں ان کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ قیمتیں بڑھنے سے شہری و دیہی دونوں آبادیاں متاثر ہوتی ہیں۔ مجبوری کے اس بجٹ میں حکمران تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا بھی کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔وعدہ کیا گیا تھا کہ تعلیم اور صحت کو ترقیاتی اور دفاعی امور سے بھی زیادہ اہمیت دی جائے گی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اس بجٹ میں بھی سبسڈیز پر زور ہے۔ واپڈا کو 124ارب، کے الیکٹرک کو 25ارب، پیسکو کو 19ارب اور یوٹیلٹی سٹورز کے لئے 3ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان ہوا ہے۔ خدا کرے کہ اس کا فائدہ عوام کو ہو اور بجلی سستی نہیں بھی ہو سکتی تو مزید مہنگی نہ ہو۔ چھوٹے دکانداروں کے لئے خوشخبری ہے کہ پہلے 80ہزار کی خریداری پر خریداری کے شناختی کارڈ کی شرط تھی اب یہ حد ایک لاکھ روپے کر دی گئی، اب انہیں حساب کتاب میں کچھ سہولت رہے گی۔ بجٹ میں تعلیم کے حوالے یکساں نصاب، سمارٹ سکولوں کے قیام اور مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 5ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سیمینٹ پر ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ہوٹلوں پر ٹیکس کی کمی کی گئی ہے۔ غریبوں کی مدد کے احساس پروگرام کا حجم 187ارب سے بڑھا کر 208ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ دیامربھاشا سمیت تین ڈیموں کی تعمیر کے لئے اس سال 70ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ فنکاروں کے بہبود فنڈ کو 25کروڑ سے بڑھا کر ایک ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ کامیاب نوجوان پروگرام کے لئے دو ارب روپے، وفاق کے زیر انتظام چلنے والے چھ ہسپتالوں کے لئے 13ارب روپے، ٹڈی دل پر کنٹرول کے لئے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

یہ سب اعداد و شمار ”عوام دوست“ ہی نظرآ رہے ہیں۔ خدا کرے کہ ان پر حسنِ عمل کا اظہار بھی ہو۔ اس سارے حساب کتاب میں کچھ خدشات بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ خسارہ پورا کرنے کا کوئی واضح میکنزم نہیں دیا گیا۔ اس سے جلد ہی ”منی بجٹ“ کا خطرہ موجود ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ساری عوام دوستی کا تاثر ختم ہو جائے گا۔ یہ بات تو بجٹ کے تیارہ کنندہ حفیظ شیخ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں تسلیم کر چکے ہیں کہ پٹرول لیوی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر پٹرول مزید سستا ہوا تو پاکستان میں نہیں ہوگا۔ لیوی بڑھا کر یہی قیمت برقرار رکھی جائے گی۔ یعنی فائدہ عوام کو نہیں ہوگا، اس طرح بجلی، گیس کے نرخ بڑھنے کی افواہیں عام ہیں، حالانکہ بجلی بنانے کے کئی پلانٹ پٹرولیم مصنوعات سے چلتے ہیں۔ پٹرول عالمی سطح پر انتہائی سستاہو چکا ہے۔ بجلی سستی کرکے عوام کی دعائیں لی جا سکتی تھیں۔ بجٹ پر ہمارا اعتراض بھی بنتا ہے۔ بجٹ میں آزاد کشمیر کے لئے 55، ارب، گلگت بلتستان کے لئے 32 ارب، کے پی کے میں ضم اضلاع کے لئے 56ارب، سندھ کے لئے 19ارب اور بلوچستان کے لئے 10ارب روپے کی خصوصی گرانٹس رکھی گئی ہیں۔یہ گرانٹس این ایف سی ایوارڈ کے علاوہ ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ متذکرہ تمام علاقے پسماندہ ہیں مگر ایک پسماندہ علاقہ سرائیکی بیلٹ بھی ہے۔ ہو سکتا ہے وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے کر دیا گیا ہو کہ ”تم جانو تمہارا علاقہ جانے“ مگر ماضی یہی بتاتا ہے کہ ایسا ہوتا نہیں۔ بجٹ میں اس علاقے کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ وزیراعلیٰ کے آبائی گاؤں تک سڑک اور بجلی پہنچانے کا نام جنوبی پنجاب کی ترقی نہیں ہے:

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو اِدھر بھی

مزید :

رائے -کالم -