موت کا رقص اور نیرو کی بانسری

موت کا رقص اور نیرو کی بانسری
موت کا رقص اور نیرو کی بانسری

  

لاہور سے معروف شاعر محمد خالد کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کی خبر آئی تو دل غم میں ڈوب گیا۔ لاہور ہی میں مقیم ممتاز شاعر ڈاکٹر ابرار احمد نے ان کے علاج کی جو داستان سنائی وہ اس نظریئے کو بھی غلط ثابت کر گئی کہ کورونا مریض کا بروقت علاج ہو جائے، یا اسے ہسپتال میں جگہ مل جائے، وینٹی لیٹر پر آ جائے تو اس کی جان بچ سکتی ہے۔ پروفیسر محمد خالد کو یہ سب کچھ میسر تھا مگر اس کے باوجود وہ کورونا کے ڈر سے بچ نہ پائے اور چند دنوں ہی میں رحلت کر گئے۔ ادھر لاہور ہی سے ممتاز سماجی شخصیت محمد فاروق تبسم نے یہ اندوہناک خبر سنائی کہ محکمہ کسٹم کے ہر دلعزیز افسر محمد زاہد کھوکھر کورونا کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے، ان کی صرف ایک ہفتہ پہلے گریڈ 22میں ترقی ہوئی تھی اور انہیں ممبر کسٹم تعینات کر کے کراچی بھیجا گیا تھا جس دن انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالا کورونا انہیں لاحق ہوا اور بالآخر چند دنوں میں ان کی جان لے گیا۔ اب ایسی خبر اور ایسی کہانیاں تو روزانہ کا معمول بن گئی ہیں کوئی دن ہی جاتا ہے جب کسی ڈاکٹر کے کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر انتقال کی خبر نہ آتی ہو ایسے میں بھی جو ظالم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا کسی عزیز کو آپ نے کورونا میں مبتلا ہوتے دیکھا ہے، کیا اس کی اس سے موت واقع ہوتی ہے تو جی چاہتا ہے جوتا اتار کر اس کی اتنی پٹائی کی جائے کہ اسے کورونا کا یقین آ جائے۔

میں تو وفاقی وزیر اسد عمر کی اس بات کو وقت کی ضرورت قرار دوں گا جو انہوں نے جون کے آخر اور جولائی میں کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے کی ہے۔ انہوں نے جولائی میں کورونا کیسوں کی تعداد 12لاکھ تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور جوں کے آخر تک تعداد تین لاکھ ہو جائے گی، اب تو یہ بات بالکل حقیقت لگتی ہے کیونکہ جس تیزی کے ساتھ کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے تو یہ اعداد و شمار بھی کم نظر آتے ہیں اب تو یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ کاش اس وباء کا لوگوں میں خوف پھیل جائے، شعور تو ان میں آنا نہیں اور جب پانی سر سے گذر جائے گا تو ہر گھر سے جنازے اٹھنے کی نوبت آ جائے گی۔ پھر شاید ہوش بھی آ جائے اور اس بیماری سے پناہیں بھی مانگتے پھریں حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، ضد چھوڑ دینی چاہئے۔ اب تو مطالبہ خود عوام کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن نہیں بلکہ کرفیو لگا دیا جائے۔

اسد عمر نے جس بے احتیاطی کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ جولائی میں کورونا مریضوں کی تعداد بارہ لاکھ ہو سکتی ہے، اس بے احتیاطی کو ختم کرنے کے لئے عملی طور پر کیا کیا جا رہا ہے کیا صرف وعظ کر دینے سے لوگ باز آ جائیں گے۔ کیا حکومت صرف یہ وارننگ جاری کر کے بری الذمہ ہو جائے گی کہ احتیاط نہ کی تو ہر طرف موت پھیل جائے گی، کیا حکومت کی یہ آئینی ذمہ داری نہیں کہ وہ لوگوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔ اس کے لئے اقدامات اٹھائے فیصلے کرے اسد عمر کورونا کی وجہ سے کیسوں کی تعداد تو یقین کے ساتھ بتا رہے ہیں کیا وہ کم از کم ان شہروں یا علاقوں میں سخت کرفیو لگانے پر جہاں یہ وباء بہت زیادہ پھیل گئی ہے، بتا سکتے ہیں کہ بھوک سے کتنے لوگ مریں گے۔ یہ جو ٹائیگر فورس کا دم چھلہ تیار کیا گیا ہے وہ کس لئے ہے۔ اگر واقعی لوگ بھوک سے مرنے لگتے ہیں تو اس فورس کے ذریعے امداد پہنچانے کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے ہسپتالوں میں تو اب بھی جگہ نہیں رہی حالانکہ کورونا کیسوں کی تعداد ابھی ڈیڑھ لاکھ بھی نہیں ہوئی، ذرا سوچئے جب یہ تعداد بارہ لاکھ ہو جائے گی تو کیا حشر برپا ہو گیا۔ کیا سڑکوں اور گلیوں محلوں میں کورونا مریضوں کو ڈال کر ان کے مرنے کا انتظار کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ حکومتی ذمہ دار آخر یہ کسے سنا رہے ہیں کہ جولائی میں تعداد بارہ لاکھ ہو سکتی ہے۔ پہلے وہ خود تو اسے غور سے سنیں اور ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ایسا برا وقت اس ملک پر نہ آئے صرف وزیر اعظم کی زبان سے نکلے ہوئے انکار پر ساری حکومت واہ واہ کرنے لگتی ہے، کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو باور کرائے کہ صاحب جس راستے پر آپ چل رہے ہیں، اس پر معیشت بچے گی نہ عوام کی جانیں بچ سکیں گی۔ جب آسانی سے یہ کہہ دیا گیا ہے کہ جولائی میں تعداد 12لاکھ ہو سکتی ہے کیا اس آسانی سے یہ بھی کہا جائے گا کہ اگست میں 24لاکھ ہو سکتی ہے اس کے بعد چل سو چل، دنیا میں کہیں بھی ایسا کیلکولیٹر استعمال نہیں کیا گیا، جیسا ہمارے ہاں کیا جا رہا ہے یکطرفہ کیلکولیٹر میں یہ بتانے کی سہولت نہیں کہ جب تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی تو مریضوں کو ہسپتالوں میں رکھنے کے انتظامات کیا ہوں گے، اگر آئسولیشن کی سہولت بھی نہیں رہے گی تو اس وباء کو مزید پھیلنے سے کیسے روکا جائے گا۔

قسم سے اب تو میں نے لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا ہے۔ جو جھولیاں اٹھائے یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ یا اللہ ہمارے حکمران وزیر اعظم عمران خان کے دل میں رحم ڈال، انہیں اتنی سمجھ بوجھ عطا کر کہ وہ اچھے فیصلے کر سکیں۔ وہ اموات بڑھتی دیکھ رہے ہیں اور ان کا دل نہیں پسیج رہا۔ وہ سختی کرنے کی باتیں کرتے ہیں مگر عملدرآمد کیسے ہو گا، اسے بھول جاتے ہیں وقت بڑی تیزی سے گزرتا جا رہا ہے، کیلکولیٹر کی ٹک ٹک ہندسے بڑھا رہی ہے اور ہم نیرو کی طرح چین کی بانسری بجا رہے ہیں جن کے پیارے دنیا سے جا رہے ہیں اور وہ بے بسی کے ساتھ انہیں مرتا دیکھ رہے ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ وہ بھوک سے مرنا چاہتے ہیں یا کورونا سے، بھوک سے بچنے کے تو شور ڈالتے ہیں، آپ پیار کے ساتھ سوکھی روٹی کھاکے بھی گذارا کر سکتے ہیں، مگر اس نامراد کورونا سے بچنے کا تو ایک ہی راستہ ہے کہ اسے گھروں میں رہ کر روکا جائے، کل ایک ٹی وی چینل پر یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم انتہائی دکھی انداز میں بتا رہے تھے کہ اب لاہور کے ہسپتالوں میں جگہ نہیں رہی انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا وقت بھی گذر چکا ہے اب تو پندرہ دن کے سخت مارشل لاء کی ضروت ہے سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہزاروں جانوں کو ایک شخص کی ضد کے آگے قربان کیا جا سکتا ہے۔ کیا فوری کڑے فیصلے کرنے کا وقت نہیں آ گیا۔ کیا فوج اس سارے معاملے سے لاتعلق ہے، کیا اب سپریم کورٹ کو اس سنگین نوعیت کا نوٹس نہیں لینا چاہئے، یا بہت سے سوالات ہیں اور قوم بے چارگی کے ساتھ ان کے جواب ڈھونڈ رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -