اگر پرنٹ میڈیا کو باقی رکھنا ہے……

اگر پرنٹ میڈیا کو باقی رکھنا ہے……
اگر پرنٹ میڈیا کو باقی رکھنا ہے……

  

گزشتہ برس بھی یہی ایام تھے اور تحریک انصاف کا پہلا بجٹ تھا۔اس میں بھی میڈیا بجٹ کی مد میں جو رقم رکھی گئی تھی وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ تھی۔ کہاں گزشتہ تین چار عشروں میں کروڑوں اربوں کی بارش ہوتی تھی اور کہاں پار سال خشک سالی کا دور دورہ تھا۔ اور اس سال کے بجٹ میں تو کورونا نے آکر وہ رہی سہی کسر بھی نکال دی جو پرنٹ میڈیا کے بسمل مریض کی جانِ ناتواں میں موجود تھی۔ اس بجٹ میں اس ضمن میں نجانے کتنا کچھ رکھا گیا ہے…… کسی حفیظ شیخ نے اس کا ذکر تک کرنا گوارا نہیں کیا!

اس حقیقت کو فراموش نہ کیا جائے کہ میڈیا بجٹ سے میری مراد کسی الیکٹرانک میڈیا بجٹ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف پرنٹ میڈیا بجٹ سے ہے کیونکہ الیکٹرانک میڈیا کو کسی حکومتی بجٹ کی ضرورت نہیں۔ اس کے کمرشلز، اس کے مالی اخراجات کی کفالت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ میں تو پرنٹ میڈیا کی بات کر رہا ہوں۔ آپ کوئی سا قومی سطح کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیجئے اس میں حکومتی اشتہاروں کی نایابی کھل کر سامنے نظر آئے گی…… کہاں نون لیگ اور پی پی پی کے وہ ادوار جب اگلے پچھلے صفحات اشتہاروں سے بھرے ہوتے تھے۔ نون لیگ کے خادم اعلیٰ یا پیپلزپارٹی کے لیڈروں کی رنگین تصاویر اندر باہر نظر آتی تھیں۔ اخباری خبروں کی عبارت تو بس برائے نام ہوتی تھی۔ اندر کے بلیک اینڈ وائٹ صفحات میں مختلف سرکاری محکمہ جات کے اشتہارات اس کثرت سے ہوتے تھے کہ خبریں برائے نام رہ جاتی تھیں۔ جنگ اور ڈان / دی نیوز میں اشتہاروں کے صفحات کی ضخامت اگر اگست 2018ء سے پہلے ہاتھی کے برابر تھی تو اب لومڑی بن کر رہ گئی ہے۔ اخباروں نے اس ’کلہاڑے‘ کا مداوا یہ کیا کہ ضخامت کم کر دی کہ نیوز پرنٹ کا خرچہ پورا کیسے پورا ہوتا؟ نصف عملے کو جواب دے دیا اور صرف وہ ڈھانچہ (Skelton)باقی رکھا جو انتہائی ضروری کی ذیل میں آتا تھا۔ اس ڈھانچے کے مشاہروں میں بھی معتدبہ کمی کر دی گئی۔ کئی پرندے ازخود اڑ گئے اور کئی اڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی گزران کا وسیلہ اخباری ملازمت نہیں۔ یوں سمجھئے کہ بقول شاعر:

دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں، وہ شب کو ہم سے

رسمِ پابندی ء اوقات چلی آتی ہے

لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کی آن بان اور شان وہی ہے۔ موسم کوئی بھی ہو ان کی کمرشلز سے آمدن میں بس معمول سا فرق پڑا ہے۔ آج کل گرمیاں زوروں پر ہیں۔ چنانچہ روح افزاء، قرشی کا جامِ شیریں، شربت نورس اور شربت نوبہار تین درجن چینلوں پر بڑے تواتر سے دکھایا جا رہا ہے…… گرمیوں میں بجلی کے پنکھوں کے اشتہارات کا تسلسل بھی وہی ہے۔ پاک فین، رائل فین اور نجانے کون کون سے فین سکرینوں کی زینت بن کر ان چینلوں کی مشینری کو تیل مہیا کر رہے ہیں۔ آج کل ایک انرجی ڈرنک EXIT کا کمرشل بھی سکرینوں کی زینت بنا ہوا ہے جو کافی طویل ہے (کیونکہ اس میں جو محترمہ اس ڈرنک کو ’ہینڈل‘ کرتی ہے وہ بھی طویل قامت اور قلیل کمر ہے۔ چابک لہراتی ہے تو پوری چوکور میز کو اڑا کے رکھ دیتی ہے اور ایک نامحرم کو ٹانگ کا اڑنگا جو لگاتی ہے تو وہ ایک میز پر یوں جا گرتا ہے کہ ٹانگیں آسمان کی طرف اور سرزمین کی طرف اور میز دست و پا تڑوا کر زمین بوس ہو جاتی ہے) کیا یہ EXIT، یہ بسکٹ اور یہ شربت وغیرہ چینی کوٹہ حاصل کرکے بلیک میں فروخت کرنے کا بندوبست ہے؟

الیکٹرانک میڈیا پر سدا بہار کمرشلز ہیں بسکٹ، چائے اور واشنگ پاؤڈر پیش پیش رہتے ہیں۔ سرف ہو کہ بونس، ایریل ہو کہ ایکسپریس بڑے ریگولر وقفوں سے سکرینوں پر دکھائے جاتے ہیں اور یہ وقفے ہر دس منٹ کے بعد کر دیئے جاتے ہیں …… نیوز ریڈروں کی جوڑی میں ایک نسوانی آواز ابھرتی ہے: ”بس ایک مختصر سا وقفہ“…… اور ساتھ ہی ایک مردانی آواز گونجتی ہے: ”ہمارے ساتھ ریئے“……

ان چینلوں کا ایک اور ذریعہ ء آمدن وہ حکومتی اور اپوزیشن تجزیہ کار بھی ہیں جو باری باری شام 6بجے سے لے کر 12بجے شب تک مختلف چینلوں پر نمودار ہوتے ہیں اور اپنے اپنے حصے کا حقِ نمک ادا کرتے ہیں۔ اینکر حضرات و خواتین باری باری سب کو دعوت دیتے ہیں اور اس طرح رحمان کو بھی راضی رکھتے ہیں اور بھگوان کو بھی ناراض نہیں ہونے دیتے۔ بعض تجزیہ گو حضرات کی زبانیں کوثر و نسیم میں دُھلی ہوتی ہیں تو بعض شعلہ نوائی میں طاق ہوتی ہیں۔ ہر پارٹی نے اپنے ترجمانوں کو مارک کر رکھا ہے۔ شام ہوتے ہی یہ حضرات مختلف چینلوں کے دعوت ناموں پر سج دھج کر ٹی وی سٹیشنوں کا رخ کرتے ہیں اور گھر سے قسم کھا کر نکلتے ہیں کہ پاکستان کی اچھائی برائی کی بات نہیں کرنی بس اپنی پارٹی کے ترانے گانے اور قصیدے پڑھنے ہیں ……لیکن سچی بات یہ بھی ہے کہ اگر پاکستانی سوسائٹی کے ناظرین و سامعین کی اکثریت ان ٹاک شوز کی افیون کی عادی ہے تو ان کو کوئی بھی اینٹی نار کوٹک ایجنسی ہوش میں نہیں لا سکتی۔

مجھے یقین ہے اگر یہی صورتِ حال رہی تو بڑے سے بڑا اخبار آج نہیں تو کل بند ہو جائے گا۔اخبار کی تعدادِ اشاعت اور اس کی قیمت فروخت سے اخبار کا خرچہ کبھی نہیں نکلتا۔ اس کا علاج صرف اور صرف اشتہارات ہیں، وہ حکومت کی طرف سے آئیں یا نجی اداروں کی طرف سے…… وہ تقریباً بند ہو چکے ہیں اور اگر نہیں ہوئے تو ان کی بندش تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ کوئی بھی مالکِ اخبار اپنے ماضی کی کمائی پر حاضر کا کمرتوڑ خرچہ کیسے پورا کرے گا؟……

الیکٹرانک میڈیا کی بات دوسری ہے۔اس کو سیاسی پارٹیاں بھی Fund کرتی ہیں اور کمرشلز بھی۔ ہمارے ہاں چونکہ اشیائے صرف کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں اس لئے روح افزاء کی بوتل اگر آج 200روپے کی ہے اور کل 220ہو جاتی ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس لئے یہ کمرشل چلائے جا رہے ہیں۔ تمام چینلوں نے ملی بھگت کرکے اپنے اشتہاری نرخ بھی کم کر دیئے ہیں۔ اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر دی ہے تو اس کا اثر ان ”ملازمین“ پر ویسا نہیں پڑا جیسا پرنٹ میڈیا کے صحافیوں پر پڑا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا والوں کے مشاہرے تو اتنے زیادہ تھے کہ سن کر کانوں کو یقین نہیں آتا تھا۔ اب اگر ان میں کچھ کمی آئی ہے تو اس سے برائے نام فرق پڑا ہوگا۔ چونکہ کمرشلز 24گھنٹے چلتے ہیں اور ان کا حساب کتاب مشینوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے اس لئے ہر ہفتہ، ہر ٹی وی کا شعبہ ء اشتہارات حساب کرکے کارخانہ دار یا فیکٹری اونر کو بتا دیتا ہے کہ آپ کا بل اتنے لاکھ ہے، اسے ادا کر دیں اور وہ ادا کر دیا جاتا ہے جبکہ پرنٹ میڈیا والے ہمیشہ یہ رونا روتے ہیں کہ محکمہ اطلاعات کے ذمے اتنے ارب کا بقایا ہے اسے کلیئر کیا جائے…… اور یہ ”رنڈی رونا“ ہر وقت، ہر ماہ اور ہر سال رویا جاتا ہے۔

میں سوچتا رہا ہوں کہ آخر اس معمے کا کوئی حل بھی ہے یا نہیں؟…… میرے ذہن میں ایک حل کا خاکہ سا بن رہا ہے۔ چاہتا ہوں کہ قارئین کی سامنے رکھوں۔

اس پروگرام کو روبہ عمل لانے میں کلیدی کردار حکومت کا ہوگا۔ وزیراطلاعات و نشریات ان تمام کارخانہ داروں، فیکٹری مالکوں اور سٹیک ہولڈروں کا ایک اجلاس طلب کریں جن کے اشتہارات الیکٹرانک میڈیا پرچلائے جاتے ہیں۔ ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھیں کہ ملک میں پرنٹ میڈیا کا دم نکل رہا ہے اور اسے آکسیجن کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جیب خالی ہے اس لئے آپ سے تعاون کی اپیل ہے۔ ”تعاون“ یہ ہو گا کہ ہر کارخانہ / مل/ فیکٹری وغیرہ اپنی مصنوعات کے کمرشلز میڈیا کو دیتے ہوئے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مابین ایک تقسیمی فارمولا وضع کرے گی۔ یہ نسبت ففٹی ففٹی نہ بھی ہو تو 30،70 (یا اس طرح کی کوئی دوسری مساوات) ہو سکتی ہے…… اس طرح فیکٹریوں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ اپنی مصنوعات کا ایک مخصوص کوٹہ اخبارات کو دیں …… اس کے بعد ایک اور اجلاس بلا کر نجی ٹی وی چینلوں کے مالکان کو کہا جائے کہ یا تو حکومت آپ کے اشتہارات کو لاک ڈاؤن کر دے گی یا پھر آپ خود سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل کریں اور ”جیوا ور جینے دو“ کی پالیسی پر عمل کریں۔ چونکہ اول اول یہ پروگرام ”انقلابی“ معلوم ہو گا اس لئے اخباری تنظیمات (CPNEاورAPNSوغیرہ) اس مسئلہ کو اٹھائیں اور ان اخبارات کا بطور خاص خیال رکھیں جن کے اپنے نجی ٹی وی چینل نہیں ……

APNS کے سرکردہ رہنما سب سے پہلے وزیر اطلاعات کو اعتماد میں لیں اور ان سے اس خاکے کی چیدہ چیدہ باتوں پر ڈسکشن کریں اور بعد میں و زیراعظم سے ملاقات کریں اور ان کو بتائیں کہ اس فارمولے میں حکومتی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ وہ چینل جو اس تقسیم پر چیں بہ چیں ہوں یا چخ چخ کریں ان کو PEMRA کے ذریعے خاموش کروایا جا سکتا ہے۔ اگر الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کا منشور ایک ہے ہی تو اس پنجابی ضرب المثل کے مطابق کہ ”مجھاں، مجھاں دیاں بھیناں ہوندیاں نے“کسی کا نہ کسی قبیل کے بھائی چارے کی فضا ہموار کی جا سکتی ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ یہ خاکہ بالکل ادھورا، ناتمام اور بظاہر ناقابلِ عمل معلوم ہو گا۔ لیکن کوئی بھی نیا خاکہ یا پروگرام اول اول انہی رکاوٹوں سے دوچار ہوتا ہے۔ اس لئے:

مرد باید کہ ہراساں نشود

مشکلے نیست کہ آساں نشود

مزید :

رائے -کالم -