صحافی ولی بابر کا سزا یافتہ مرکزی قاتل کراچی سے گرفتار

صحافی ولی بابر کا سزا یافتہ مرکزی قاتل کراچی سے گرفتار

  

کراچی)مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی پولیس نے 2011 میں صحافی ولی خان بابر کو گولی مار قتل کرنے والے ملزم کامران عرف ذیشان کو گرفتار کرلیا۔کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ولی بابر جیو ٹی وی کا فعال کرائم رپورٹرتھا اس لیے میڈیا پر بہت اجاگر ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ولی خان بابر کو 23 جنوری 2011 کو قتل کیا گیا ہے جس میں 5 گواہ تھے جن میں سے پہلا گواہ رجب بنگالی کو 29 جنوری 2011 کو مارا گیا اور اسی طرح دیگر 4 گواہوں کو بھی مختلف مقامات پر قتل کیا گیا۔تفتیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملزم نے ولی خان بابر کو مارنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے لیے کام کرتا تھا اور طالب علمی کے زمانے میں بھی پشتون تنظیم کے لیے کام کرتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دوسری وجہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف خبریں بنا کر ٹی وی پر چلاتا تھا اس لیے ان کو نشانہ بنایا گیا۔کراچی پولیس چیف نے ملزم کے حوالے سے کہا کہ جب یہ ولی خان بابر کو قتل کرنے جارہے تھے تو اس وقت تین ٹیمیں موٹر سائیکل پر تھیں جس میں سے ایک ان کی تھی، دو موٹرکار کی ٹیمیں تھی اور مجموعی طور پر 5 ٹیمیں اس واردات میں شامل تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب ولی بابر کو قتل کیا گیا تو ان کا ساتھی اس لیے فرار ہوا کہ ان کی موٹرسائکل خراب ہوئی لیکن اس نے پرواہ کیے بغیر قتل کیا اور ٹوٹی ہوئی موٹرسائیکل لے کر وہاں سے نکل گیا۔انہوں نے کہا کہ جب اس کا نام سامنے آیا تو پولیس نے اچھا کام کیا جبکہ یہ ٹیکنالوجی کے بارے میں تجربہ کار تھا کہ پولیس سے کس طرح چھپنا ہے لیکن آج ان کی باری تھی اور پکڑا گیا۔

ولی بابر

مزید :

صفحہ آخر -