سینیٹ، حکومت نے نوکریاں دینے کے بجائے منہ کا نوالہ بھی چھین لیا

    سینیٹ، حکومت نے نوکریاں دینے کے بجائے منہ کا نوالہ بھی چھین لیا

  

اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے حالیہ بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیا ہے، اپوزیشن اراکین نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی،لاقانونیت اور بے روزگاری پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اب لاکھوں افراد کو بے روزگار کیا جارہا ہے جبکہ حکومتی ارکان نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔سوموار کے روز سینیٹ اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں شروع ہوا۔بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ اس وقت ملک ایک راستہ ڈھونڈ رہا ہے لوگ ہسپتالوں کے باہر موجود ہے مریضوں کو بیڈ ہی نہیں مل رہے اور اسوقت ہسپتالوں پر اتنا دباؤ ہے کہ اموات تین لاکھ سے زیادہ ہوگی اگر اس معاملہ کو سنجیدہ نہیں لیا گیا تو مذید نقصان کا اندیشہ ہے۔ ذمہ دار وزراء کوبھی پتا نہیں کہ ملک کا ذمہ دار کون ہے؟ لگتا ہے کہ ملک کا وزیراعظم ہی نہیں ہے۔ حکومت نے دو سالوں کے دوران کوئی نیا ہسپتال نہیں بنایا ہے اورملک میں 1608 مریضوں کیلئے ایک بیڈ ہے۔ حکومت نے 18 مہینوں میں جو قرضہ لیا ہے وہ اکہتر سالہ تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں لیا۔ موجودہ حکومت نے 12 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔ حکومت نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا ہے اورجی ڈی پی کا 600 ارب ٹڈی دل لے گئی ہے۔قائد ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ اپوزیشن کا بس چلے تو چاند گرہن کا الزام بھی حکومت پہ لگا دے۔دنیا میں دس کروڑ لوگ بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے بھارت کی شرح نمو گیارہ سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں 20ملین کے قریب لوگ بے روز گار ہوئے ہیں اور کورونا کے باعث دنیا بھر میں 10کروڑ تک لوگ بے روز گار ہو سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی ہے۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاکہ موجودہ بجٹ میں عام آدمی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، جو تقریر ہوئی وہ اصل حقائق پر مبنی نہیں ہے، حقیقت میں بجٹ آئی ایم ایف کے پاس گروی ہے۔ مشیر خزانہ نے بجٹ میں خامیاں خود تسلیم کیں، یہ بجٹ دو ویڈیو کانفرنسنگ کے اوپر معرض وجود میں آیا ہے۔ پاکستان کے دفاعی بجٹ کو آئی ایم ایف کے کہنے پر منجمد کیا گیا،پاکستان سے متعلق فیصلے کہیں اور بیٹھ کر ہوتے ہیں۔مئی 2020 میں پہلے ہی سامنے آگیا تھا کہ منافع کما کر تیل کا بحران پیدا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے بڑے دعوے کیے کہ میں چائنہ کی طرح اس ملک کے حالات بدل دونگا،موجودہ بجٹ میں عام آدمی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، جو تقریر ہوئی وہ اصل حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہاکہ موجودہ غیرمعمولی حالات میں حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا ہے۔جب حکومت سنبھالی تواس وقت پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔کرنٹ اکاونٹ خسارہ بیس ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا ملکی ادارے سٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے، یونینز کے رحم و کرم پر تھے ایف بی آر ملکی تاریخ کا کرپٹ ترین ادارہ تھا اور میں نے یہ بات کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں کی تھی اور وزیر اعظم نے کہا ہم اس کو ٹھیک کریں گے۔اجلاس بدھ کی شام 4بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -