کورونا وباء سے پاکستان میں 10اگست کو 80ہزار اموات کا خطرہ

کورونا وباء سے پاکستان میں 10اگست کو 80ہزار اموات کا خطرہ

  

لندن(این این آئی)برطانیہ کے معروف امپیریل کالج نے اپنے حالیہ منصوبے میں پاکستان میں کورونا سے متعلق حیران کن تخمینے دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اگست 2020ء کے وسط تک پاکستان میں یومیہ کم از کم 80ہزار اور زائد سے زائد ڈیڑھ لاکھ تک افراد وبا ء کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امپیریل کالج لندن نے برطانوی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز سے متعدد اداروں اور ماہرین کیساتھ ایک الگورتھم منصوبے کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک میں کورونا سے متعلق تخمینوں کی رپورٹ مرتب کی۔آن لائن جاری کیے گئے منصوبے میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برازیل، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، روس، انڈونیشیا، شام اور ترکی سمیت درجنوں ممالک سے متعلق اندازوں پر مبنی حیران کن اعداد و شمار جاری کیے گئے۔مذکورہ منصوبے کے تحت کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے کورونا سے متعلق جاری کیے گئے اعداو شمار میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، سپین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کو شامل نہیں کیا گیا۔مذکورہ منصوبہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تمام ممالک میں جون کے پہلے ہفتے تک تصدیق ہونیوالے کیسز کے مطابق بنایا گیا۔الگورتھم منصوبے کے تحت 2 طرح کے 6اقسام کی رپورٹس تک صارفین کو رسائی دی گئی ہے۔منصوبے کو ورژ ن ون اور ورژن ٹو کے نام سے 6اقسام میں تیار کیا گیا ہے اور منصوبے کی تمام اقسام مختلف اعداد و شمار اور تخمینے فراہم کرتی ہیں۔منصوبے کے ورژن ون کے الگورتھم تخمینوں کے مطا بق پاکستان میں کورونا کی وبا اگست 2020ء کے وسط تک اپنے عروج پر پہنچ چکی ہوگی اور ملک میں سب سے زیادہ اموات 10اگست کو ہوں گی جو ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد ہوں گی۔اسی طرح ورژن ٹو کے الگورتھم تخمینوں میں بھی پاکستان میں اگست میں کورونا کی وبا ء کے عروج پر پہنچنے کے تخمینے لگائے گئے ہیں اور 10اگست 2020ء کو سب سے زیادہ یعنی 77 ہزار تک اموات ہوں گی۔اسی الگورتھم چارٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10اگست کے بعد پاکستان میں کورونا سے اموات کم ہونا شروع ہوجائیں گی اور دسمبر کے آخر تک وبا سے ملک میں زیادہ سے زیادہ 2تک اموات ہوں گی۔الگورتھم چارٹ میں بتایا گیا پاکستان میں جنوری 2021ء تک کورونا تقریبا ختم ہوچکا ہوگا، تاہم اس وقت ملک میں 22لاکھ سے 23لاکھ کے درمیان لوگ وبا کے باعث مر چکے ہوں گے۔حیران کن تخمینوں کے مطابق جنوری 2021تک پاکستان میں ایک کروڑ 35لاکھ سے لے کر ڈیڑھ کروڑ افراد وبا سے متاثر ہوچکے ہوں گے۔پاکستان کی طرح بھارت اور افغانستان سمیت دیگر ممالک کے حوالے سے بھی حیران کن تخمینے بتائے گئے ہیں، جس وجہ سے مذکورہ منصوبے کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اموات خطرہ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں 13 سے 16 اگست کے دوران کورونا وائرس اپنے عروج پر ہونے کا امکان ہے اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس دوران 80 ہزار افراد لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تحت کورونا وائرس کے حوالے سے آن لائن سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر سعید قریشی سمیت دیگر مقررین نے شرکت کی۔آن لائن سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سعید قریشی کا کہنا تھا کہ ملک کی مجموعی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے بگڑ تی جارہی ہے، ہم اس تباہ کن وبا کے نقصانات کو روک نہیں سکتے لیکن کم کرسکتے ہیں۔ وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 13 سے 16 اگست کے دوران کورونا اپنے عروج پر ہوگا اور عالمی طبی ماہرین نے اس دوران 80 ہزار ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ وبا ء کا خطرہ ٹل گیا، اس حکومتی اعلان تک مساجد میں ضابطہ کار (ایس او پیز) پر عمل کرائیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ کورونا کی وباء مساجد سے نہیں پھیلی، چین میں کورونا پھیلنے کے بعد ہمیں اپنی سرحدیں بندکردینا چاہیے تھیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں آپس میں الجھنے کی بجائے وباء سے نمٹیں۔مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ کورونا کوئی سازش نہیں ایک حقیقت ہے، سازشی نظریوں کی وجہ سے عوام میں وبا ء سے متعلق کنفیوژن پھیلا، جس کو ختم ہوجانا چاہیے۔

مفتی تقی عثمانی

مزید :

صفحہ اول -