امریکہ میں سیاہ فام شہری کے قتل کیخلاف مظاہرے جاری

امریکہ میں سیاہ فام شہری کے قتل کیخلاف مظاہرے جاری

  

واشنگٹن(اظہر زمان بیورو چیف) سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کی مذمت میں امریکہ کے مختلف شہروں میں ہونیوالے مظاہرے چوتھے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔25مئی کو ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں اس سیاہ فام باشندے کو چار سفید فام پولیس افسروں نے قابو کیا جن میں سے ایک نے اسے گھٹنے کے نیچے دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے بعد اس ریاست میں اور پھر پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور یہ مظاہرے ایک تحریک کی صورت اختیار کر گئے۔ مظاہرین نے سیاہ فاموں کیخلاف نفرت پر اظہار کیا اور ”سیاہ فاموں کی زندگیاں اہم ہیں“ کے نعرے کو مقبول بنا دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عوامی دباؤ پر پولیس کے نظام میں تبدیلیاں لا کر اس کی ایسی اصلاحات لانے کا وعدہ کیا جن سے پولیس افسروں کو پرتشدد کارروائیوں سے روکا جا سکے۔ امریکہ میں نسلی منافرت کیخلاف یہ تحریک دنیا کے دیگر ممالک تک پھیل گئی۔ ہنگاموں کے دوران امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں ایک اور سیاہ فام شارڈ بروکس پولیس کی شوٹنگ سے ہلاک ہو گیا۔گزشتہ روز نیو یارک میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بدھ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سیر حاصل بحث کی جائے گی جس میں پولیس کے اختیارت کے بے دریغ استعمال اور پرامن احتجاج کو روکنے کی کوششوں کے بارے میں ایک قرار داد منظور ہونے کی توقع ہے۔ امریکہ کی شمال مغربی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں مظاہرین نے کچھ حصے پر قبضہ کر لیا تھا، ریاستی پولیس کے سربراہ نے ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ پولیس پرامن طریقے سے مقبوضہ علاقہ واگزار کرائے گی۔

امریکہ مظاہرے

مزید :

صفحہ اول -