باغبانوں کیلئے آم کی برداشت اور سنبھال بارے حکمت عملی جاری

باغبانوں کیلئے آم کی برداشت اور سنبھال بارے حکمت عملی جاری

  

لاہو(سٹی رپورٹر) محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں آم کا زیرکاشت رقبہ ایک لاکھ 11ہزار 432 ایکٹرہے۔آم کی پیداوارکے لحاظ سے پاکستان دنیا کاساتواں بڑا ملک ہے جہاں اس کی سالانہ پیداوار 20لاکھ میٹرک ٹن ہے جس میں سے صرف صوبہ پنجاب میں 13لاکھ میٹرک ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہوتی ہے۔جب آم کا پھل در خت پرپک کر تیا ر ہو جا ئے تو اس کی پختگی کو جانچنے کیلئے کچھ مشاہداتی اور سائنسی عوامل پر انحصار کیا جاتا ہے جس میں آم کے کندھوں کے مکمل ابھار، قسم کے مطابق شکل و صورت اور آم کے اندر شکر کی مقدار کو شناخت کرنا ہے۔ جب پھل میں مٹھاس یا شکر کی مقدار 10 سے 12 ڈگری برکس ہو جائے تو آم کا پھل برداشت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس مرحلہ پر آم کو درخت سے توڑلیا جائے تو پکنے پر آم کی تمام خصوصیات بہتر طور پر نمایاں ہوتی ہیں۔ اگر آم کو برآمد کرنا مقصود ہو تو پھر شکر کی مقدار 8 سے 10 ڈگری برکس ہونی چاہیے کیونکہ اس سے آم کے پھل کی بعداز برداشت زندگی بڑھ جاتی ہے۔ جب کسی بھی آم کو درخت سے الگ کیا جا تا ہے تو اس کی با قی ماندہ زندگی کا انحصار اس کی پختگی کے مرحلہ پر ہوتا ہے۔ پختگی کے معیار کو عام طور پر تین مختلف مراحل نا پختگی،درمیانی پختگی اورمکمل پختگی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ مراحل سائنسی بنیادوں پر تشکیل دئیے گئے ہیں جو کہ آم کی بعد از برداشت زندگی پر نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ناپختگی کے مر حلہ کے دوران ایسا محسوس ہو تا ہے کہ پھل کا سائز مکمل ہو چکا ہے جو کہ بظاہر صحیح نظر آتا ہے مگر ابھی اس کے اندر گٹھلی کا سائز اور مٹھاس کی مقدار صحیح نہیں ہوتے۔

ا

مزید :

کامرس -