ضم اضلاع کونظر انداز کرنے سے احساس محرومی بڑھنے کا خدشہ ہے: ایمل ولی

ضم اضلاع کونظر انداز کرنے سے احساس محرومی بڑھنے کا خدشہ ہے: ایمل ولی

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ضم اضلاع کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے سے مقامی سطح پر احساس محرومی میں اضافہ پیدا ہوگا۔ انضمام کے وقت ہر سال 100ارب روپے کا پیکج دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت دونوں وفاقی بجٹ میں ضم اضلاع کو انکا حصہ دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ موجودہ بجٹ نے ان اضلاع کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے گذشتہ بجٹ میں رکھی گئی رقم سے بھی مزید 35ارب کم کردیے ہیں۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ضم اضلاع کیلئے خصوصی پیکج دینے کی بجائے انہیں یکسر نظرانداز کردیا ہے کیونکہ یہ عوامی حکومت ہی نہیں۔ اگر یہ عوامی حکومت ہوتی تو عوام کا سوچتے، وفاقی بجٹ کے بعد صوبائی بجٹ سے بھی کوئی توقع نہیں۔ ضم اضلاع کیلئے ہر سال 100ارب روپے دینے کا وعدہ ہواؤں میں اڑچکا ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ایسے اقدامات دراصل انضمام کے عمل سے مقامی عوام کو بدظن کرنے کی سازش ہے جسے ہر گز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ گذشتہ سال ضم اضلاع کے بجٹ کو دیگر اخراجات کیلئے استعمال کیا گیا لیکن صوبائی حکومت سوئی رہی اور اب بھی سوئی ہوئی ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت مرکز سے اپنا حصہ لینے میں بھی ناکام ہوچکی ہے۔ ضم اضلاع میں امن و امان قائم کرنے کیلئے مقامی انتظامیہ و عدلیہ کے دفاتر وہاں قائم کرنے ہوں گے۔ جب تک اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوں گے تب تک مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کا اجراء جلد سے جلد کیا جائے کیونکہ صوبے کو خسارے کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت مرکز سے اپنا حق نہیں مانگ سکتی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -