رکن سندھ اسمبلی کی جدوجہدکورونا مریضوں کیلئے مشعل راہ بن گئی

رکن سندھ اسمبلی کی جدوجہدکورونا مریضوں کیلئے مشعل راہ بن گئی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)عالمی وبا کورونا نے جہاں دنیا بھر میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور لوگ اس مہلک مرض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار رہے ہیں تو ایسے میں کورونا کو شکست دینے والے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کی کہانی اس مرض میں مبتلا مریضوں کے جذبات اور حوصلوں کو بلند رکھنے میں مفید و معاون ثابت ہورہی ہے۔کراچی میں اس مہلک مرض کے ممکنہ پھیلاو سے بچاو کیلئے لگائے گئے لاک ڈاون کے آغاز کے ساتھ ہی سید عبدالرشید لیاری کے اپنے حلقے کے غریب اور مستحقین کی پریشانی کو دور کرنے کیلئے فلاحی کاموں میں سرگرم رہے اور خود بھی راشن اور دیگر امدادی سامان کی تقسیم کے کام میں پیش پیش رہے۔ماہرین صحت کے گھروں سے کم سے کم باہر نکلنے اور معاشرتی دوری اور احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنے کے مشورے پر عمل پیرا نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے رمضان کے اواخر میں کورونا کا مثبت تجربہ کرلیا اور اپنی فلاحی سرگرمیوں میں پیش پیش رہنے کی قیمت ادا کی۔لیاری سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس-108 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے سید عبدالرشید کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جب علامات ظاہر ہونے پر ان کے اہل خانہ کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے تو گھر میں موجود 18 افراد بھی اس وبا میں مبتلا پا ئے گئے تھے جن میں سید عبدالرشید کی 70 سالہ والدہ بھی شامل تھیں۔کورونا کا شکار ہونے کے بعد سید عبدالرشید نے بہار کالونی میں اپنے دو منزلہ گھر میں اہل خانہ کے ہمراہ از خود تنہائی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، 70 سالہ والدہ جو دیگر بیماریوں سمیت تپ دق کا بھی شکار تھیں، کورونا کو شکست دینے میں کامیاب رہیں۔کورونا کا شکار اس فیملی میں اس مرض میں مبتلا سب سے کم عمر 3 سال کا بچہ تھا جو ایم پی اے کا بیٹا ہے۔ 14 روزہ قرنطینہ کی مدت ختم ہونے پر اہل خانہ کے 18 لوگوں نے کورونا کا باآسانی منفی تجربہ کیا۔سید عبدالرشید کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس بیماری کو شکست دینے کیلئے اللہ پر پختہ یقین اور اللہ سے گہری وابستگی کا ہونا بہت ضروری ہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ ہمیں ہمت نہیں ہارنی اور حوصلے بلند رکھنے ہیں۔کورونا کو شکست دینے والے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید نے کورونا میں مبتلا مریضوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں بہت آگے جانے کی ضرورت ہے اور یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -