تیمرگرہ،طلباء کی جانب سے آن لائن کلاسز شروع کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

تیمرگرہ،طلباء کی جانب سے آن لائن کلاسز شروع کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  

تیمرگرہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ضلع دیر بالا اور لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے مختلف یونیورسٹوں اور کالجوں میں زیر تعلیم طلباء نے فری پروموشن کی حق میں ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے آن لائن کلاسز شروع کرنے کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ڈسٹر کٹ پریس کلب تیمرگرہ کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیااور دھمکی دی کہ اگر حکومت اور ایچ ای سی نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو پرتشدد مظاہرے شروع کریں گے ا س حوالے سے اسلامی جمعیت طلباء تیمرگرہ مقام کے ناظم اظہار اللہ،ہزارہ یونیورسٹی میں دیر سٹوڈنٹس ویلفیئرسوسائٹی کے چیئر مین طارق عزیز،صدر خالد سیف اللہ،لعل قلعہ ڈگری کالج کے حسنان،شیرنگل یونیورسٹی کے ساجد جان ودیگر ڈسٹر کٹ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے احمقانہ فیصلہ کرکے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا ان کا کہناتھا کہ یونیورسٹوں اور کالجوں میں اکثریت طلباء کا تعلق پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں سے ہیں جہاں انٹر نیٹ کی سہولیات موجود نہ ہونے اور ہرطالب علم کے ساتھ سمارٹ فون ہی نہیں تو کس طرح طلباء آن لائن کلاسز سے استفادہ حاصل کریں گے،اپر اور لوئر دیر کے طلباء نے کہاکہ حکومت نے لاک ڈاون سے متاثرہر طبقہ کو کچھ نہ کچھ ریلیف فراہم کیا ہے لیکن یونیورسٹوں اور کالجوں کے طلباء جو اس وقت ذہنی دباؤ کے شکار ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا تعلیمی سال بھی ضائع ہورہاہے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا ہے انھوں نے کہاکہ حکومت اور ایچ ای سی حکام کو چاہئے کہ پہلے ان پہاڑی اور دورافتادہ علاقوں میں انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ اسکیم بحال کیا جائے پھر آن لائن کلاسز شروع کیے جائیں طلباء نے مزید کہاکہ آن لائن کلاسز سے اصل پڑھائی نہیں بلکہ یہ صرف گپ شپ کیلئے شروع کیا گیا جوکہ قومی خزانے کا بے دریغ ضیاع ہے انھوں نے حالیہ وفاقی بجٹ میں تعلیم کے شعبے کیلئے انتہائی کم روپے رکھنے پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے فنکاروں کا بجٹ قرار دے دیا اگرچہ موجودہ حکومت نے وعدہ کیاتھا کہ ملک کے کونے کونے تک مفت تعلیم فراہم کریں گے لیکن افسوس موجودہ حکومت نے علم اور روشنی پھیلانے کے گھر بند کرکے ویراں کر دئے انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ایچ ای سی اور حکومت نے آن لائن کلاسز کا فیصلہ واپس لینے،فیسوں کو معاف کرنے کی احکامات جاری نہ کیے اورور ایس او پیز کے تحت فوری طورپر یونیورسٹوں اور کالجوں کو کھولنے اور تعلیمی بورڈز کی طرح پروموشن دینے کا اعلامیہ جاری نہ کیاگیا تو طلباء پرتشدد مظاہروں پر مجبور ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -