پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو نکالنے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج

  پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو نکالنے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان اسٹیل کی نجکاری اور ملازمین کو نکالنے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل کی نجکاری اور ملازمین کو فارغ کرنے کے معاملے پر پاکستان اسٹیل لیبر یونین پاسلو کے صدر عاصم بھٹی و دیگر نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔درخواست میں وفاقی حکومت اور وزارت پیداوار و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیل کو اس حالت میں پہنچانے کے ذمہ دار ملازمین نہیں، ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے اسٹیل ملز کو خسارہ ہوا۔ پی ٹی آئی حکومت نے بھی 2 سال میں اسٹیل ملز چلانے کا اقدام نہیں کیا، وفاقی حکومت اب اسٹیل ملز نجی شعبے کو دینا چاہتی ہے، اور ہزاروں ملازمین کو نکالنے کا غیر قانونی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس کو نج کاری اور ملازمین نکالنے سے روکا جائے۔درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے وفاقی حکومت، وزارت پیداوار، اور اے جی سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر دیا، اور فریقین سے 23 جون کو جواب طلب کر لیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے اسٹیل مل کی نج کاری سے متعلق تفصیل بھی طلب کر لی ہے، اس سلسلے میں عدالت کی جانب سے اٹارنی جنرل پاکستان کو وفاقی حکومت سے جواب لے کر جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔اسٹیل مل سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملے کی بھی تفصیل طلب کر لی گئی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کیا اسٹیل ملز کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے؟۔واضح رہے کہ9 جون کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدرات منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کی نج کاری کا اصولی فیصلہ کیا تھا، اجلاس میں ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے پر اتفاق کیا گیا۔پاکستان اسٹیل ملز کے 8884 میں سے 7784 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اسٹیل میں صرف ایک ہزار ملازمین کی گنجائش ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -