مہمند،حالیہ وفاقی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے،نثار محمد

مہمند،حالیہ وفاقی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے،نثار محمد

  

مہمند(نمائندہ پاکستان)مہمند،موجودہ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ صرف الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے۔اس میں عوام اور سرکاری ملازمین کیلئے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔قبائیلی اضلاع کی بحالی اور آباد کاری کے لئے مختص فنڈ پر کٹ لگا کر دہشت گردی سے متاثر قبائیلی عوام کے ساتھ ظلم کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار قبائیلی ضلع مہمند پی کے 103 سے عوامی نیشنل پارٹی کے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی نثار مومند نے ایک ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا موجودہ قبائیلی اضلاع کے مختلف منصوبوں کے لیے 48 ارب روپے مختص تھے۔جس میں 20ارب روپے دہشتگردی سے متاثر بے گھر افراد کے بحالی اور دوبارہ آبادکاری کیلئے رکھے گئے تھے لیکن موجودہ بجٹ میں اس پر بھی کٹ لگا دیا گیا اور 10 ارب سیکیورٹی کے نام پر کاٹ دیے گئے۔ اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے تمام صوبوں سے تین فیصد ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لئے مختص کیا گیا تھا۔لیکن بدقسمتی سے دو سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیاگیا۔2019-20 کے بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لئے 152 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جس میں 83 ارب ترقیاتی منصوبوں کیلئے رکھے تھے اور32ارب روپے دہشتگردی سے متاثر بے گھر افراد کیلئے اور 10ارب بے روزگار نوجوانوں کے لئے تھے۔مگر32 ارب روپے میں سے 15 ارب اور نوجوانوں کے لیے مختص 10 ارب میں سے 5ارب بھی سیکیورٹی کے نام پر خرچ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ قبائیلی ضم شدہ اضلاع میں اب تک صرف 12.73 ارب روپے دیے گئے اس میں بھی رواں سال جنوری سے جون تک 6 ارب سے زیادہ رقم خرچ کی گئی۔اس میں بھی ترقیاتی منصوبوں کی بجائے زیادہ تر پیسے سیکیورٹی مسائل پر خرچ ہوئے ہیں۔ایم پی اے نثار مومند کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع دہشتگردی سے شدید متاثر ہوئے ہیں لیکن ان کی آباد کاری اور فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔نثار مومند نے کہا کہ موجودہ حکومت کا شروع کردہ امبریلا فنڈز پراجیکٹ کرپشن اور اقربا پروری کے لیے بنایا گیا ہے جس کے ذریعے وزیر اعلیٰ اپنی پارٹی کے نمائندوں کو نواز رہے ہیں۔سیاسی مقاصد سے بالاتر ہوکرقبائیلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز براہِ راست عوامی نمائندوں کو ملنا چاہیے۔ تاکہ یہ فنڈز صحیح جگہ پر خرچ ہوکر محروم قبائیلی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پایہ تکمیل تک پہنچائے جاسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -