لاہور سمیت 20شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن، کورونا سے مزید 88افراد جان کی بازی ہار گئے نئے مریض 3991، مجموعی اموات 2751، متاثرین 146254تک پہنچ گئے

لاہور سمیت 20شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن، کورونا سے مزید 88افراد جان کی بازی ہار ...

  

لاہور، پشاور،اسلام آباد(جنرل رپورٹر، نیوز ایجنسیاں))نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرنے ملک بھر سے کورنا کے ہاٹ سپاٹ 20 شہروں کے مقامات کی نشاندہی کر دی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، ڈی جی خان، گھوٹکی، سوات، مالاکنڈ، مردان کراچی،حیدرآباد،کوئٹہ، پشاورکے مقامات شامل۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نیسمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے تحت ملک بھر کے 20 شہروں کے سلیکٹڈمقامات کو مکمل بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔این سی او سی کی جانب سے شہروں کورونا ہاٹ اسپاٹ قرار دیے گئے ہیں۔ترجمان این سی اوسی کا کہنا تھا کہ خیرپور، ڈی جی خان، مالاکنڈ اور مردان کے مختلف علاقے بھی کورونا سے بہت زیادہ متاثر قرار دیے گئے ہیں جب کہ اسلام آباد میں جی نائن، ٹو، تھری سیل کردیے گئے اور کراچی کی ایک کمپنی بھی 300 سے زیادہ کیسز آنے پر سیل کردی گئی ہے۔دوسری جانب اسلام آباد میں آئی ایٹ، آئی ٹین، غوری ٹاؤن، بارہ کہو، جی سکس، جی سیون بھی نئے ہاٹ اسپاٹ بن گئے، ان نئے ہاٹ اسپاٹس کی مانیٹرنگ جاری ہے جو کبھی بھی سیل کئے جا سکتے ہیں۔دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاہور میں کورونا سے متاثرہ علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، متاثرہ علاقے 2 ہفتے کے لئے بند رہیں گے۔ لاہور کے اندرون شہر، مزنگ، شاہدرہ، شاد باغ، ہربنس پورہ، علامہ اقبال ٹاؤن، کینٹ، گلبرگ، نشتر ٹاؤن کے ہاٹ سپاٹ ایریاز شامل ہیں، پابندی کم سے کم 2 ہفتے کیلئے ہوگی۔ سیل کیے گئے علاقوں میں تمام مارکیٹس بند ہوں گی، سیل علاقوں میں کسی بھی فرد کو نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی، لاہور کے اہم علاقوں اور گلیوں کو مکمل بند کر دیا جائے گا، گروسری، میڈیکل سٹورز، دددھ دہی کی دکانیں اور تندور کھلے رہیں گے۔وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا لاہور میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، وزیراعظم نے کہا جن علاقوں میں پھیلاؤ ہے وہاں اقدام کریں، متاثرہ علاقوں کو رات 12 کر دیا جائے گا، صورتحال دیکھ کر علاقے کھولنے کا فیصلہ کریں گے، افسوس ہوتا ہے جب ہمارا موازنہ نیوزی لینڈ جیسے ملک سے کیا جاتا ہے، عوام ایس او پیز کو سختی سے فالو کرتے رہیں۔ یاسمین راشد کا کہنا تھا لاہور کورونا کا گڑھ بنتا جا رہا ہے، علامہ اقبال ٹاؤن کے محلے میں 358 اور واپڈا ٹاؤن کے متاثرہ علاقے میں 250 سے زائد کیسز سامنے آئے، عوام کو حفاظتی تدابیر پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا، ماسک پہن کر بیماری سے 50 فیصد بچا جاسکتا ہے۔لاہور کل سے سیل ہونے والے علاقوں کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں جس کے مطابق لاہور کے 81 علاقہ جات سیل کیے جائیں گے تفصیلات کے مطابق لاہور کے9 ٹاؤنز میں 81 علاقوں کو سیل کیا جائے گا،بتایا جاتا ہے کہ راوی ٹاؤن سے بیگم کورٹ، بارہ دری روڈ، راوی کلفٹن شاہدرہ، حنیف پارک بادامی باغ، ملک پارک بادامی باغ، سید مٹھا بازار کو سیل کیا جائے گا۔سمن آباد ٹاؤن سے ستلج، جہازیب، راوی، کشمیر، نرگس، ہما اور رچنا بلاکس سیل کئے جائیں گے،رضا، کامران، عمر، کریم، مہران، نشتر اور سکندر بلاکس کو سیل کیا جائے گا، کینٹ ٹاون سے، ڈی ایچ اے فیز,1,2,3,4,5,8 سمیت صدر، سرور روڈ، کیولری گراؤنڈ، آفیسرز کالونی، سیل ہوں گے۔کینٹ ٹاون سے عسکری 8، عسکری 9، عسکری 10، علاؤالدین روڈ سیل ہوں گے۔داتا گنج بخش ٹاؤن میں میں ساندہ، گوالمنڈی، راجگڑھ، چمن باغ، پیر مکی، جیل روڈ، جی او آر، قلعہ گجر سنگھ سیل ہوں گے۔علامہ اقبال ٹاؤن میں جوہر ٹاون A, B1,E,F2,G,H,J اور R بلاکس، مصطفی ٹاون، کنال ویو سوسائٹی، ای ایم ای سوسائٹی، واپڈا ٹاون، پی سی ایس آئی آر فیز 2 سیل ہوں گے۔بحریہ ٹاون کے جاسمین، گلبہار اور ایگزیکٹو بلاج سیل ہوں گے۔واہگہ ٹاون کے مناواں، محلہ شاہ نور داروغہ والا، بسمہ اللہ ہاوسنگ سکیم مناواں کے علاقے سیل ہوں گے، گلبرگ ٹاون میں گارڈن ٹاؤن احمد بلاک، ٹیپو بلاک، بابر بلاک، اورنگزیب بلاک، طارق بلاک شیر شاہ بلاک سیل ہوں گے۔گلبرگ، گلبرگ 1 اور گلبرگ 3، قصوری روڈ، ایم ایم عالم روڈ، گرومانڈ روڈ اے 1 بلاک، B1 بلاک کبوتر پورہ، نبی پورہ کے علاقے سیل ہوں گے۔گلبرگ 3، ظفر علی روڈ، ظہور الہی روڈ، صدر اقبال روڈ، مین مارکیٹ، سینٹ میری کالونی سیل ہوں گے۔شالامار ٹاون کے گجرپورہ، رحمت پورہ، بیگم پورہ، چاہ میراں، بلال پارک، مکہ پورہ، کوٹ خواجہ سعید، شاد باغ، وسن پورہ، فیض باغ، کراون پارک۔مادھو لال حسین، محمدن کالونی، باغبان پورہ، انگوری باغ اور مجاہدباغ کے علاقے سیل ہوں گے۔عزیز بھٹی زون کے کنال بینک ہاوسنگ سکیم، نبی پورہ، نصرت کالونی، مدینہ سٹریٹ نمبر 35، گلستان کالونی، نور کالونی غازی آباد بعد شاہ عالم کالونی نظام آباد تاجپورہ کے علاقے سیل ہوں گے۔دوسری طرف کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر پشاور کے چار علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر نے اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن اشرفیہ کالونی، چنار روڈ، یونیورسٹی ٹاؤن، ڈانش آباد اور سیکٹر ای ٹو فیز ون حیات آباد میں لگایا گیا ہے۔ان علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کیسز کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے

سمارت لاک ڈاؤن

اسلام آباد، کراچی،پشاور، اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا سے مزید 88 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2751 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 146254 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 1031 اور سندھ میں 853 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 675 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 85، اسلام آباد میں 78، گلگت بلتستان میں 16 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بروز پیر ملک بھر سے اب تک کورونا کے مزید 3991 کیسز اور 88 اموات سامنے آئی ہیں جن میں پنجاب سے 1537 کیسز 62 ہلاکتیں، سندھ 1776 کیسز 22 ہلاکتیں، اسلام آباد 635 کیسز 3 ہلاکتیں اور آزاد کشمیر سے 43 کیسز ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔سندھ سے کورونا کے مزید 1776 کیسز اور 22 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جن کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بذریعہ ٹوئٹر بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 9080 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 1776 نئے کیسز سامنے آئے اور مزید 22 افراد انتقال کرگئے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1537 کیسز اور 62 ہلاکتیں سامنے آئیں جن کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 54138 اور اموت 1031 تک جا پہنچی ہیں۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا سے 17650 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سیکورونا کے مزید 635 کیسز اور 3 اموات سامنے آئیں ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 8569 ہوگئی ہے۔آزاد کشمیر سے کورونا کے مزید 43 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی ہے۔آزاد کشمیر میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 647 ہوگئی ہے اور اموات کی تعداد 13 ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 254 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔اتوار کو خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 14 افراد جان کی بازی ہارگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 675 تک جاپہنچی ہے۔۔اتوار کو بلوچستان میں کورونا سے مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 85 ہوگئی۔۔اتوار کو گلگت بلتستان میں مزید 85 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 1129 ہو گئی ہے۔دریں اثناچین کے قومی صحت کمیشن نے کہاہے کہ اتوار کے روز چینی مین لینڈ پر نوول کروناوائرس کے 49نئے مصدقہ کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 39مقامی سطح پر ترسیل جبکہ 10درآمدی کیسز ہیں۔قومی صحت کمیشن نے پیر کے روز اپنی روزانہ کی رپورٹ میں کہاہے کہ مقامی سطح پر ترسیل کے کیسز میں سے 36بیجنگ اور3صوبہ ہوبے میں سامنے آئے ہیں۔کمیشن کے مطابق اتوار کے روز ایک شخص کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 79 لاکھ 95 ہزار 480 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 4 لاکھ 35 ہزار 593 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 34 لاکھ 49 ہزار 827 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 54 ہزار 153 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 41 لاکھ 10 ہزار 60 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 17 ہزار 853 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 21 لاکھ 62ہزار 144 ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 76 ہزار 442 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 16 ہزار 704 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ 67ہزار 849 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 8 لاکھ 67ہزار 882تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 43ہزار 389زندگیاں نگل چکا ہے۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 6 ہزار 948ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 28 ہزار 964 ہو چکی ہے۔بھارت میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔بھارت میں کورونا وائرس سے 9 ہزار 520ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 33ہزار 8 ہو گئی۔

کورونا ہلاکتیں

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حفاظتی اقدامات کی بدولت کرونا کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے، حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، عوام کا تعاون حکومتی کوششوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار کا حامل ہے، صوبوں کو متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے لئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، آئندہ آنے والے چند مشکل ہفتوں کے دوران حفاظتی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں میں توازن رکھا جا سکے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہواجس میں وزیرِ اطلاعات سینٹر شبلی فراز، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، فوکل پرسن برائے کوویڈ ڈاکٹر فیصل سلطان، چئیرمین این ڈی ایم اے اور سینئر افسران شریک تھے۔ اجلاس میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال، آئندہ چند دنوں کے تخمینوں اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر غور کیا گیا۔ ملک کے مختلف صوبوں میں کورونا مریضوں کے لئے موجود بیڈز، آکسیجن، وینٹی لیٹرز اور سہولیات کی موجودہ صورتحال اور اس میں اضافے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی ایک سو سات لیبارٹریز کام کررہی ہیں اور روانہ کی بنیاد پر پچیس ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ شروع میں ان کی تعداد محض دو تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں چار ہزار آٹھ سو وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ شروع میں ان کی کل تعداد سات سو تھی۔ موجود چار ہزار آٹھ سو وینٹی لیٹرز میں مزید سولہ سو کا اضافہ بہت جلد ہو جائے گا۔ملک میں این -95اور وینٹی لیٹرز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی تک تمام صوبوں کے مختلف ہسپتالوں میں دو ہزار کوویڈ بستروں کا مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔ کورونا سے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بیس بڑے شہروں میں ان مقامات کی نشاندہی کردی گئی ہے جہاں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتظامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں کورونا سے متعلق حفاظتی لباس اور پرسنل پروٹیکٹیو کٹس کی تمام ضروریات با احسن طریقے سے پوری کی جار ہی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی اقدامات کی بدولت کرونا کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں عوام کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک سامنے آنے والے تخمینوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہیہیں تاہم اس حوالے سے عوام کا تعاون حکومتی کوششوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار کا حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام مقامی قیادت اور لیڈرشپ اپنے اپنے علاقوں میں انتظامیہ کی مدد سے نہ صرف ہسپتالوں میں کوویڈ سہولیات کا جائزہ لیں بلکہ اپنے اپنے حلقوں کی عوام کا حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تعاون یقینی بنانے میں بھی متحرک کردار ادا کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ صوبوں کو متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے لئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اس حوالے سے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ آنے والے چند مشکل ہفتوں کے دوران حفاظتی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں میں توازن رکھا جا سکے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -