وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے،وزیراعظم اورصدرنے معلومات کی تصدیق کرائی ہے،بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل

وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے،وزیراعظم اورصدرنے ...
وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے،وزیراعظم اورصدرنے معلومات کی تصدیق کرائی ہے،بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پرجسٹس مقبول باقر نے کہاکہ سوال یہ ہے کیا جج اہلیہ کی جائیدادوں پرجوابدہ ہیں،فروغ نسیم نے کہاکہ یہ سوال نہیں آرٹیکل 209 بڑی سنجیدہ کارروائی ہے،وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے،وزیراعظم اورصدرنے وحید ڈوگرکی معلومات کی تصدیق کرائی ہے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوزکے مطابق سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پرسماعت جاری ہے، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا10رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔حکومت وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ریفرنس میں خامیاں نہیں ہیں،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ ہدایات لے لیں ،اگر ہدایات منفی آتی ہیں تودلائل دیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ سوال یہ ہے کیا جج اہلیہ کی جائیدادوں پرجوابدہ ہیں،فروغ نسیم نے کہاکہ یہ سوال نہیں آرٹیکل 209 بڑی سنجیدہ کارروائی ہے،وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے،وزیراعظم اورصدرنے وحید ڈوگرکی معلومات کی تصدیق کرائی ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ اس کارروائی میں صدرکیخلاف بدنیتی کا الزام نہیں ،صدرمملکت کے پاس بھی انکوائری کا اختیار نہیں،ریفرنس میں کرپشن کاکوئی مواد نہیں ،صدرمملکت کا اپنی رائے بنانا آئینی رائے ہے۔

حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے مشاورت کے لیے کل تک وقت مانگ لیا ،فروغ نسیم نے کہاکہ مجھے عدالت نے جو آپشن دیا ہے اس پرکل جواب دوں گا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -