سرکاری ملازم اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصرہوتوکیاہوگا؟،جسٹس منصور علی شاہ، سرکاری ملازم اگر اہلیہ کا بہانا بنائے تواسے جیل بھیج دیا جائے گا،بیرسٹر فروغ نسیم

سرکاری ملازم اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصرہوتوکیاہوگا؟،جسٹس منصور علی شاہ، ...
سرکاری ملازم اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصرہوتوکیاہوگا؟،جسٹس منصور علی شاہ، سرکاری ملازم اگر اہلیہ کا بہانا بنائے تواسے جیل بھیج دیا جائے گا،بیرسٹر فروغ نسیم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پرسماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ سرکاری ملازم اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصرہوتوکیاہوگا؟،حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہاکہ سرکاری ملازم اگر اہلیہ کا بہانا بنائے تواسے جیل بھیج دیا جائے گا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوزکے مطابق سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پرسماعت جاری ہے، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا10رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ سرکاری ملازم اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصرہوتوکیاہوگا؟،حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہاکہ سرکاری ملازم اگر اہلیہ کا بہانا بنائے تواسے جیل بھیج دیا جائے گا،جج نے نہیں کہا میری اہلیہ مجھے معلومات فراہم نہیں کر رہیں۔

عدالت نے کہاکہ خاوند ایف بی آرسے ریکارڈنہیں لے سکتاتوپھراس کے ہاتھ باندھ دیئے گئے،انکم ٹیکس مشینری کا استعمال کیاگیا،جوقانونی طریقہ کارہے اس کوچلنے دیں،فروغ نسیم نے کہاکہ فاضل جج سے اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ حکومت نے نہیں مانگا،ایف بی آر سے ٹیکس کا ریکارڈ جوڈیشل کونسل نے منگوایا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ فاضل وکیل صاحب ایسا نہ کریں، ایف بی آرکوپہلے خط حکومت نے لکھا،فروغ نسیم نے کہاکہ بطوررکن پارلیمنٹ اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیل نہ بتاو¿ں تونااہل ہوجاو¿ں گا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ لمبی بات نہ کریں وقت تھوڑا ہے،انکم ٹیکس کاسیکشن 216 پڑھیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیاخاوندایف بی آرسے براہ راست اہلیہ کاٹیکس ریکارڈمانگ سکتاہے؟،حکومتی وکیل نے کہاکہ میرے خیال سے خاوند ریکارڈ مانگ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ خیال نہیں،آپ قانون سے بتائیں،اہلیہ انکارکرے توپھرخاوند ٹیکس ریکارڈ کیسے حاصل کرےگا۔

عدالت نے استفسار کیاکہ ریفرنس سے پہلے ایف بی آراوراے آریونے کیسے معلومات لے لیں؟،جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ معاملہ ایف بی آرکوبھجواسکتا ہے،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ اے آریوکیسے بنایاگیا،وزیراعظم صرف وزارت بناسکتے ہیں۔

جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کیاہے،معلومات کیسے حاصل کی گئیں؟،آپ پہلے معاملے پروزیراعظم یاصدرسے ہدایت لے لیں،فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آرپرمعاملہ چھوڑ دیاجائے توٹیکس اتھارٹی کوکتنا وقت دیاجائےگا؟،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ایف بی آرکوچھٹیوں میں معاملے پرفیصلہ کرنے کا کہہ دیں گے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -