خودکشی کی وجوہات

خودکشی کی وجوہات
خودکشی کی وجوہات

  

خود کشی جیسا انسانی ذاتی فعل زیادہ تر دو طرح کے افراد سے سرزد ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک پچھتاوے کے بعد انسان خود کو اس حد تک قصوروار بنا لیتا ہے کہ اس کا مداوا یا سزا بھگتنے کے باوجود وہ خود کو معاف نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا جب بہت ہی صاف گو اور سچا یا حق اور اصولوں پر ڈٹ جانے والا انسان اور اس حد تک کہ اس کے اندر ملاوٹاور دوغلہ پن جنم ہی نہیں لیتا یا ختم ہو چکا  ہوتا ہے اور معاشرہ جو کہ اکٽر اوقات  تمام ذاتی خصلتوں اور مفادات سے بھرا ہواہے، اور ایسے میں اس طرع کا انسان اپنے آپ کو معاشرے کا حصہ سمجھنے میں الجھن محسوس کرتا ہے وہ خود کو تنہا جان لیتا ہے۔اور  معاشرہ کے افراد اس طرع کے انسان کا تمسخر اڑانا شروع کر دیتے ہیں، جب کہ وہ ڈٹا رہتا ہے مگر بہت زیادہ ڈٹ جانا بھیایک دن اس کو اس حد تک تنہا کر دیتا ہے کہ اس کا لاشعور اس پر بھاری ہو جاتا ہے اور ا ایسے افراد کا خود پر قابو پانا  مشکل ہوجاتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں، لاشعور کا قبضہ اور اندر کی مایوسی اور پھر یہی مایوسی اس کو دنیا کے خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔آنکھیں موند لینا اور خود کے وجود کو چھپانے میں ناکام ہونے اور  اس کو     اذیت جانتے ہوئے ، ارد گرد کے ماحول سے اس حدتک نفرت کہ اپنے وجود کو ان افراد کے درمیان رکھنے کو توہین جان کر خودکشی کو ترجیع دیتا ہے۔

اگر ایسے حالات میں کوئی طاقت ان کو بچائے رکھتی ہے تو اس کا اپنے مذہب پر پختہ یقین ہے۔ اور مذہب بھی وہ جس میں ایسیکسی کوشش کی ممانعت اس حد تک کہ اس کی پاداش میں موت کے بعد زیادہ اذیت ناک زندگی کا خوف اس عمل کو ٹالنے میں مددگارہوتا ہے۔

آسان الفاظ میں ؛ انسان خود کو معاشرے کے روایات و اقدار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش میں ناکام ہو جاتا ہے اور خود کو مسفٹ محسوس کرتا ہے۔ بعض اوقات بندہ چھوٹی سے بات پر جذباتی ہو کر بھی ایسا قدم اٹھاتا ہے مگر اس کے اندر مسلسل مایوسی کااحوال  ہوتا ہے۔

 ہمارے معاشرے کے نامور کردار جن میں شاعر، ادیب، مصور، اداکار شامل ہیں جو شہرت کی بلندی کو چھولیتے ہیں وقت سے پہلےہر سہولت، دکھ درد ، شہرت، بدنامی اور خوشی جیسے جزبات  سے آشنا ہو جاتے ہیں  اس کو بھر پور گزار لیتے ہیں تو ان کو کچھ نیاچاہیے ہوتا ہے جب کچھ نیا نہیں رہتا تو اپنے ہونے کی وجہ تلاش کرتے ہیں۔ چند ایک اس کوشش کو لاحاصل سمجھ لیتے ہیں کچھجواب نہ ملنے کی صورت میں خود کشی کو گلے لگا لیتے ہیں۔ ایک معروف اردو شاعر مصطفے زیدی  زہن میں آتا ہے جس نے 34 سالکی عمر میں خودکشی کی اس نے اپنی موت کو پہلے ہی اپنا لیا تھا ۔ اس کے کچھ اشعار میں  مستقبل قریب کا ارادہ  عیاں تھا  کہ وہاپنے مرنے کے بعد کے حالات کو بیان کرتا ہے۔ اس کی شاعری انتہائ خوبصورت حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ چند ایک یہاںشامل کر رہا ہوں:

کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی

دنیا تو لطف لے گی میرے واقعات میں

/:;;;

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا کہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

اس شاعر کی طرع کے افراد جو خود کو تصور کر لیتے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں جو لطف اٹھانا تھا اور جو دنیا میں ان کو چاہئے تھا وہمل چکا ہے اور آئندہ اسی آسائشوں کے گرد ہی گھومنا ہے تو وہ لوگ دنیا کو خیر باد کہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اب جو بیان کرنے جا رہا ہوں یہ محض اندازے پر مبنی ہیں۔ ایک وجہ مشہور و معروف شخصیات  پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے بے جا تضحیک تمسخر اور الزام تراشی کرنا عرف عام میں بلنگ اور تحقیق کے بغیر دوسروں پر لفظی دھاوا بول  دیتے ہیں اور ان شخصیات  کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں ہر طریقہ اپناتے ہیں۔

بعض اوقات ایسی شخصیات اس تضحیک کو برداشت کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں اور ذہنی تناؤ کیوجہ سے خود کی کیفیت کو برقرارنہیں رکھ سکتے۔ اور لاشعور کا قبضہ  خود کشی جیسا فعل  کرنے پر مجبور کر دیتا  ہے۔ایکٹر سوشانت کی مینجر جس کا چوتھی منزل سے گرناخودکشی اور قتل بھی ہو سکتا ہے اور اس کو پوسٹ مارٹم نہ کروانا سب کچھ ادھورا چھوڑ گیا۔ اس کی بعد اگر سوشانت کی خودکشی پرتجزیہ کیا جائے ۔دنیا میں سب سے آسان سزا مجرم کی تلوار سے گردن اڑانا جس سے دماغ کا جسم سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اورانسان کا جسم درد اور دیگر تکالیف سے عاری ہو جاتا ہے اور  سب سے مشکل اور تکلیف دہ سزا مجرم کو گلے میں پھندا ڈال کرپھانسی دی جاتی ہے۔ جس میں انسان20 سے 30 منٹ تک تڑپتا رہتا ہے اور یہ قوانین کی رو سے کسی سزا کی پاداش میں حکومتیسطع پر درج دنیا کی اذیت ناک ترین موت تصور کی جاتی ہے ۔ سوشانت شرما ایک پڑھا لکھا اور  اداکار   تھا ۔ امید کی جا سکتی ہےکہ وہ  اپنی  زندگی میں  مطالعہ اور تجربات کی روشنی میں  اس اذیت ناک موت سے آگاہ ہو گا ۔ خود کشی کرنے کے دیگر طرائق بھیتھے مگر اس نے یہی اذیت ناک  طریقہ کیوں اپنایا ۔ میرے مطابق سوشانت کی موت خود کشی سے زیادہ قتل  کا اشارہ دیتی ہے ۔

بہرحال جب کوئی شخص خودکشی کرتا ہے تو اس کے قاتل اس کے ارد گرد کا معاشرہ ہوتا ہے ۔ خواہ وہ اپنے آپ کو اس سے لاعلمرکھنے کی کوشش بھی کریں مگر حقیقتًا وہ قاتل ہی ہیں ۔ بعض اوقات انسان کا بظاہر معمولی مگر قابل تضحیک عمل کسی انسان کی زندگیکا خاتمہ کا باعٽ بھی بنتا ہے  اور ایک مسلمان ہونے کی حصیت سے یہ میرا ایمان ہے کہ اسکی  سزا اگر دنیا میں نہیں تو دنیا سےچلے جانے کے بعد روز آخرت اس کا حساب بھی دینا ہو گا۔

بہت دیکھے کہ جن کی زندگی کی آخری سانسیں یوں اٹک گئیں

کہ ڈھونڈو ستم زدہ کو جس سے معافی آخری سانس سے پیوند ہے

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -