لاہور کے 20 علاقوں کو سیل کرنےکافیصلہ مگر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ پولیس نے تیاریاں شروع کردیں

لاہور کے 20 علاقوں کو سیل کرنےکافیصلہ مگر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ پولیس نے ...
لاہور کے 20 علاقوں کو سیل کرنےکافیصلہ مگر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ پولیس نے تیاریاں شروع کردیں

  

لاہور (خبر نگار)صوبائی دارالحکومت میں پہلے مرحلہ میں 20علاقوں کو سیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے, پولیس نے سیل کیے جانے والے علاقوں کیلئے سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا ہے , ان علاقوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا جائے گا۔ٹرالر اور رکاوٹوں کےلئے پولیس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔جس کے بعد آج رات 12 بجے سے اکثریتی لاہور کی گلیاں اور محلے و بازار ایک مرتبہ پھر سنسان ہو کر رہ جائیں گے اور ایک قسم کاآدھے لاہور میں نیم کرفیو کا منظر ہوگا۔اس حوالے سے سی سی پی او لاہور ذولفقار حمید کا کہنا ہے کہ سیل کیے جانے والے علاقوں میں آمدو رفت پر مکمل طور پر پابندی عائد ہوگئی اور ان علاقوں سے مکینوں کو دوسرے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی۔

انہوں نے بتایا کہ سیل کیے جانے والے علاقوں کےلئے سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا گیا ہے اور ان علاقوں کو مکمل طورپر سیل کرنے کے لیے خاردار تاروں کو پہنچایا جارہاہے جبکہ مکینوں کی آمدو رفت روکنے اور ان علاقوں میں دیگر علاقوں سے آمدو رفت کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور اس میں محکمہ خوراک سے تین سو ٹرالرز کراۓ پر حاصل کر لیے گئے ہیں۔سی سی پی او لاہور ذولفقار حمید نے بتایا کہ پولیس کے ساتھ ساتھ ٹائیگرز فورس بھی معاونت کرے گی اور اس کے لیے آئی جی پولیس پنجاب کے دفتر میں مرکزی کنٹرول بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں ادوایات یا دودھ دہی وغیرہ لینے کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی۔سی سی پی او لاہور ذولفقار حمید نے مزید بتایا کہ محکمہ ہیلتھ کی جانب سے تیار کردہ سمری انہیں موصول ہوگئی ہے اور صرف ان علاقوں کو مکمل طورپر سیل کیا جائے گا جن علاقوں کی محکمہ ہیلتھ نے نشاندہی کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں اگلے دو ہفتوں کے لیے ان علاقوں کو مکمل طورپر سیل کیا جائے گا اور شہری اپنے اپنے اپنے گھروں میں رہیں گے ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلہ میں لاہور کے 9کی بجائے 20علاقوں کو خاردار تاروں سے مکمل طور سیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہےاور ان علاقوں میںآمدو رفت پر مکمل طور پر پابندی عائد ہوگئی، دوسری جانب ممکنہ سیل رکھنے والے علاقوں کے مکینوں نے راشن جمع کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور مکینوں نے سبزی منڈی،فروٹ منڈی،مارکیٹوں اور بازاروں کا رخ کر لیا ہے۔جس میں صبح سویرے ہی مارکیٹوں اور بازاروں سمیت سبزی منڈی اور فروٹ منڈی میں زبردست رش دیکھنے میں آیا ہے۔اس موقع پر بڑے پیمانے پر مارکیٹوں اور بازاروں میں خریدوفروخت کا سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے۔اس موقع پر مکینوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے باعث گھروں میں راشن اور روزمرہ کی اشیاء کے سٹاک کے لیے گھروں سے نکلے ہیں تاہم اس موقع پر مارکیٹوں اور بازاروں میںآٹا اورچینی نہ ملنے پر مزنگ۔گلبرگ۔ ہربنس پورہ۔مکھن پورہ اور شادباغ کے مکین سراپا احتجاج بنے رہے ہیںجبکہ۔اگلے دو ہفتوں کے لیے بند کئے جانے والے علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔اس حوالے سےمکینوں کا کہنا تھا کہ حکومت کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے اور حکومت نے ہسپتالوں میں سہولیات کو بڑھانے کی بجائے شہریوں کو گھروں میں قید رکھنے کا پلان بنا رکھا ہے جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری جنم لے گی اور لوگ بھوک اور پیاس سے مر جائیں گے اور الٹا پولیس کی جانب سے دفعہ 144کے تحت مقدمات درج کرنے کا خوف ذہنوں پر سوار رہے گا۔

مکینوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے کچھ دینے کی بجائے الٹا قید کرنے کے لیے نئے نئے طریقے تلاش کرنے شروع کر رکھے ہیں۔مکینوں کا کہنا تھا کہ اس حکومتی فیصلے کے خلاف جتنی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہےاس کے علاوہ۔پولیس نے کمشنر لاہور کی جانب سے حکم ملتے ہی معتدد علاقوں کو محاصرے میں لینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اور ان علاقوں سے پہلے مرحلے میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے متعلقہ محکموں نے کام شروع کر دیا ہے۔ جبکہ پولیس نے بھی منتخب علاقوں کو مکمل طورپر سیل کرنے کے لیے تیاریاں پکڑ لی ہیں۔اور ان علاقوں میں خاردار تاروں کو پہنچایا جارہاہے۔جبکہ بئیریر اور رکاوٹوں کےلئے ٹرالرز بھی پہنچانے شروع کر دیئے گئے ہیں۔

اس حوالے سےڈی آئی جی آپریشن لاہور اشفاق خان صبح سویرے کینٹ اور شادباغ کے علاقوں کا دورہ کیا ہے اس موقع پرایس پی کینٹ آپریشن فرقان بلال اور ایس پی سٹی ڈویژن رضا صفدر کاظمی نے ڈی آئی جی اشفاق احمد خان کو بریفنگ دی ہے۔کینٹ اور شادباغ کے مکین ڈی آئی جی آپریشن کو دیکھتے ہی سراپا احتجاج بن گئے اور ڈی آئی جی آپریشن لاہور کے سامنے پھٹ پڑے۔اس موقع پر مکینوں نے علاقوں کو سیل کرنے کے عمل کو زیادتی قرار دے دیا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کا عوام دشمن اقدام ہے۔۔

مزید :

کورونا وائرس -