ایف بی آر اور تاجروں میں اعتماد کا فقدان ہے ، صدر ایف پی سی سی آئی 

ایف بی آر اور تاجروں میں اعتماد کا فقدان ہے ، صدر ایف پی سی سی آئی 
ایف بی آر اور تاجروں میں اعتماد کا فقدان ہے ، صدر ایف پی سی سی آئی 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات نے  کہا کہ ایف بی آر اور تاجروں میں اعتماد کا فقدان ہے ، پہلے الزام لگتا ہے ، ثابت ہوتا ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں ،یہ تو نہیں کہ جا کر پکڑ لو ۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ شوکت ترین نے 203 اے میں جو بات کی ہے وہ اپنی بات سے ایک قدم پیچھے ہو گئے ، وہ جانتے ہیں کہ اس اختیار کا نچلی سطح پر غلط استعمال ہو گا، 203 اے میں نچلی سطح کے افسران کو اختیار دیا گیا ہے ، آپ لوگوں سے پیسے لینا چاہتے ہیں ان کو تنگ کرنا چاہتے ہیں ۔

ناصر حیات کا کہنا تھا کہ دو ہزار سال پرانے قوانین لاگو کئے جا رہ ہیں ، لوگوں کو دبایا جا رہا ہے اور تنگ کیا جا رہا ہے ، باہر سے مال منگوانے میں نئی کنڈیشن لگائی گئی ہیں جو دنیا میں کہیں نہیں ، شرط عائد کی گ۴ی ہے کہ درآمد کئے گئے کنٹینرز سے انوائس نکلنی چاہئی ، انوائس نہ نکلی تو ایک لاکھ جرمانہ ، دوسری بار دو لاکھ روپے جرمانہ ہوگا یا مالک ضبط کر لیا جائے گا۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ 15 فروری کو وزیر اعظم کو پروپوزل بھیجے ہیں کہ ٹیکس سسٹم سب کیلئے برابر ہونا چاہئے ، گزشتہ ماہ ایف بی آر نے 40 سے 50 ہزار نوٹسز جاری کئے ، چیئرمین ایف بی آر سے پوچھا ہے کہ آپ نے کتنے نوٹسز جاری کئے اور کتنے وصول ہوئے جس کا جواب نہیں دیاگیا۔

مزید :

بزنس -