سپریم کورٹ کا اورنگی اورگجرنالے پر تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم

سپریم کورٹ کا اورنگی اورگجرنالے پر تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم
سپریم کورٹ کا اورنگی اورگجرنالے پر تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ نے کراچی میٹروپولٹین کارپوریشن (کے ایم سی )کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اورنگی اورگجرنالے پر تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم جاری کردیا۔عدالت کی جانب سے اورنگی اورگجرنالہ پرمتبادل پلان بھی طلب کرلیاگیا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کراچی رجسٹری میں اورنگی اورگجرنالہ آپریشن سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ اٹارنی جنرل سندھ اور کے ایم سی ایڈمنسٹر سماعت کے دورا ن عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت کی جانب سے اینڈمنسٹر کے ایم سی سے استفسار کیا گیا کہ ایڈمنسٹریٹر صاحب،آپ بتائیں اب تک گجرنالہ آپریشن میں کیاکیا؟آپ کو 2 دن دیئے گئے تھے، ایڈمنسٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پویلین اینڈکلب پرکام شروع ہوچکا ہے ،الہ دین پارک اور دیگر تجاوزات پر بھی کام شروع کردیا ہے، تجاوزات بہت زیادہ ہیں اس لئے مزیدمہلت کی ضرورت ہے،کام بہت بڑاہے،فنڈزکی قلت کابھی سامناہے۔

چیف جسٹس گلزار احمدنے ریمارکس دئیے کہ آپ لوگوں نے ہی یہ سب تجاوزات کرائی ہیں،کے ایم سی تو اپنے آمدن ذرائع خود پیدا کرتی تھی،کے ایم سی کو اتنے اسٹاف کی ہرگز ضرورت نہیں، کے ایم سی کا کوئی ملازم کام کرتا نظر نہیں آتا، آپ 80 فیصد سٹاف کو نکالیں،کے ڈی اے، کے ایم سی کو بٹھا کر رکھ دیا گیا،یہ ادارے کراچی کا قیمتی اثاثے ہوتے تھے، ان کو تباہ کر دیا اورکراچی برباد کردیا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی کے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی ہے،نارتھ ناظم آباد میں گٹر بھرے ہوئے، سٹرکیں ٹوٹی ہوئیں ہیں،نارتھ ناظم آباد پاکستان کی بہترین آبادی تھی، آج کچی آبادی سے بھی بدتر ہے،لائنز ایریا کو آپ کے افسران نے فروخت کردیا،کے ایم سی کے ایک نوٹس سے لوگ ہل جاتے تھے، آج کوئی اہمیت نہیں،آج کراچی میں کوئی آفت آجائے، کے ایم سی کہیں نظر نہیں آتی،لوگوں کے اٹھنے سے پہلے کراچی صاف ہوتا تھا،ہمارے زمانے میں رات 3 بجے صفائی ہوتی تھی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ گجرنالہ آپریشن سے متعلق بڑاانسانی المیہ پیداہونے کاخدشہ ہے،40ہزارلوگ متاثرہوں گے،متبادل جگہ دینے تک لیزگھروں کونہ گرایاجائے۔

عدالت نے سوال کیا کہ متاثرین کوآبادکرنے کیلئے سندھ حکومت کے پاس کیاپلان ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ سندھ اورچیئرمین این ڈی ایم اے سے مشاورت کیلئے تیارہوں، میری گزارش ہے اگلی سماعت تک آپریشن روک دیاجائے۔

عدالت نے اورنگی اورگجرنالے پر تجاوزات کےخلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کوکھوکھلاکردیاگیا ہے،یہ ابتداہے،سب کچھ ٹوٹے گا، ایک ایک ذمہ دارشخص کوپکڑیں گے۔عدالت نے اورنگی اورگجرنالہ پرمتبادل پلان بھی طلب کرلیا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -