شنگھائی تعاون تنظیم کے 20 برس 

شنگھائی تعاون تنظیم کے 20 برس 
شنگھائی تعاون تنظیم کے 20 برس 

  

جمعرات 15 جون کو شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 20 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ 2001 میں اس کے قیام کے بعد سے شنگھائی تعاون تنظیم آج  دنیا کی ایک وسیع تر اور سب سے زیادہ آبادی کی حامل ایک جامع علاقائی تنظیم بن گئی ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں زیادہ سے زیادہ بااثر تنظیم اور کلیدی قوت ہے۔ سیکیورٹی کے میدان میں ، شنگھائی تعاون تنظیم نے سیکیورٹی تعاون کا ایک نیا تصور قائم کیا  ہے جو دیگر علاقائی تنظیموں سے مختلف ہے۔ 

کچھ مغربی ذرائع ابلاغ نے شنگھائی تعاون تنظیم کو یوریشیا خطے میں  نیٹو کی مترادف تنظیم قرار دیا، تاہم دنیا نے یہ دیکھا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی تیز رفتار ترقی کے 20 سالوں کے دوران، "باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات، مشاورت، متنوع تہذیبوں کے احترام، اور مشترکہ ترقی کی تلاش" کی وکالت کرنے والی "شنگھائی روح" بین الاقوامی تنازعات کے تصفیے،اور غیر سرکاری ڈپلومیسی اور تبادلےکو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے. اس وقت تک، شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کی تعداد چھ سے آٹھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے  چار مبصر ممالک اور چھ  مکالمہ شراکت دار بھی ہیں۔  "شنگھائی روح " نے متنوع ثقافتی اور انتظامی نظام رکھنے والے ممبر ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ترکی شنگھائی تعاون تنظیم کے مکالمہ شراکت دار ممالک میں شامل ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم معاملات میں مساوات اور پرامن حل کے جذبے کو برقرار رکھتی ہے۔ یہ مغربی تنظیموں کی یکطرفہ جیت کے سوچ سے بالکل مختلف ہے۔ یہ"جیت جیت "کے تصور کے مطابق کام کرتی ہے اور تمام ارکان کے تحفظات پر پوری طرح غور کرتی ہے۔ میں اس طرح کی تنظیم میں یقین رکھتا ہوں اور یہ بہت کامیاب ہوگی۔ 

 بیس برسوں میں شنگھائی تعاون تنظیم نے نئی طرز کی علاقائی تنظیم کی ترقی و تعاون کے سفر کا آغاز کیا،علاقائی امن و امان،ترقی و خوشحالی کے لیے اہم تعمیری نوعیت کا کردار ادا کیا ،نئے طرز کے بین الاقوامی تعلقات اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے لیے اہم تجربات بھی کیے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے ثمرات سے رکن ممالک بھر پور انداز میں مستفید ہورہے ہیں۔ جن میں سب سے پہل یہ کہ ،جدید تعاون کے تصور کو پیش کیا گیا۔دوسرا،دوطرفہ تعلقات کی ترقی کو فروغ دیا گیا۔تیسرا،علاقائی امن و امان کا تحفظ کیا گیا۔دہشت گردی اور منشیات کے خاتمے،سرحدی دفاع اور انفارمیشن سیکورٹی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا گیا ۔چوتھا،مختلف ممالک کی مشترکہ ترقی کو فروغ دیا گیا،دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کی مشترکہ تعمیر سمیت تعاون سے عوامی زندگی کو بہتر بنانے کے منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا۔پانچواں،کثیرالجہتی کو فروغ دینے کی مثال قائم ہوئی۔

 اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کو دنیا میں آبادی اور وسعت کے اعتبار سے سب سے بڑی جامع علاقائی تنظیم کا درجہ حاصل ہے۔ تنظیم کے آٹھ رکن ممالک، چار مبصر ممالک اور چھ مذاکراتی شراکت دار ممالک ہیں۔ "شنگھائی اسپرٹ" کی رہنمائی میں شنگھائی تعاون تنظیم نے ایک شاندار راستہ اختیار کیا ہے۔ بیس برسوں کے دوران رکن ممالک نے نہ صرف موثر  تعاون جاری رکھا بلکہ ایسے تمام چیلنجوں کا مناسب طور پر جواب دیا ہے جو رکن ممالک کے مفادات اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کی نصف آبادی کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ایک بہت بڑی صارف مارکیٹ ہے،  بلکہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور مستحکم پیداواری صلاحیت کی بھی حامل ہے۔ بیس برسوں کے دوران  اقتصادی و تجارتی شعبوں میں شنگھائی تعاون تنظیم نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تجارتی و مالیاتی تعاون کا مستقبل انتہائی روشن ہے۔

آج شنگھائی تعاون تنظیم کا مجموعی معاشی حجم 20 ٹریلین امریکی ڈالرز تک جاپہنچا ہے، جو اس تنظیم کے آغاز کے وقت سے 13 گنا زائد ہے۔ بیرونی تجارت کا حجم6.6 ٹریلین امریکی ڈالرز تک جا پہنچا ہے ، جس میں 20 سال قبل کے مقابلے میں  100 گنا کا اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال اپریل میں جاری کردہ "ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ چائنا تجارتی انڈیکس" ظاہر کرتا ہے کہ  شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ چین کی درآمدات و برآمدات کی مجموعی مالیت 2001 میں 17.14 بلین امریکی ڈالرز سے بڑھ کر 2020 میں 244.85 بلین امریکی ڈالرز تک جا پہنچی ہے ،یوں اوسطاً سالانہ شرح نمو پندرہ فیصد بنتی ہے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ ، چھینگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے "لوکل اکنامک اینڈ ٹریڈ کوآپریشن ڈیمونسٹریشن زون" کے قیام کے بعد سے  نمایاں ثمرات حاصل ہوئے ہیں اور یہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم قوت بن چکا ہے۔ 

کووڈ-۱۹ کی وبا پھیلنے کے بعد سے، شنگھائی تعاون تنظیم کے متعلقہ ممالک ایک دوسرے کو مشترکہ طور پر موجودہ وبا سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔ چین نے نہ صرف ایس سی او کے متعدد رکن ممالک، مبصر ممالک اور بات چیت کے شراکت دار ممالک میں طبی ٹیمیں بھیجیں، بلکہ چین ایس سی او سمیت بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر متعلقہ وبائی معلومات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے عام طور پر موجودہ وبا سے لڑنے میں ایس سی او سیکریٹریٹ اور عالمی ادارہ صحت کے قائدانہ کردار کو تسلیم کیا ہے۔ مختلف ممالک نے وبا کے خلاف جنگ میں تجربہ کی تقسیم، ویکسین اور ادویات کی تحقیق اور نشوونما اور طبی سامان کی فراہمی کی ضمانت سمیت  شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

   اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -