نوجوان لڑکیوں سے زبردستی فحش فلمیں بنوانے والے شخص کو اتنی سزا سنادی گئی کہ آئندہ کوئی ایسا کام نہ کرے

نوجوان لڑکیوں سے زبردستی فحش فلمیں بنوانے والے شخص کو اتنی سزا سنادی گئی کہ ...
نوجوان لڑکیوں سے زبردستی فحش فلمیں بنوانے والے شخص کو اتنی سزا سنادی گئی کہ آئندہ کوئی ایسا کام نہ کرے
سورس: Wikimedia Commons

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) لڑکیوں کو ورغلا کر فحش فلموں کی شوٹنگ پر مجبور کرنے پر فحش فلموں کی ویب سائٹ ’گرلز ڈو پورن‘ (GirlsDoPorn)کے ایک عہدیدار کو 20سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ نیوز ویب سائٹ این وائی ڈیلی نیوز کے مطابق یہ ویب سائٹ 2009ء میں مائیکل جیمز پریٹ نامی شخص نے بنائی تھی۔ اس کے ساتھ میتھیو وولف بھی اس ویب سائٹ کی ملکیت میں شراکت دار بن گیا۔ یہ دونوں شخص اور ان کی ٹیم لڑکیوں کو ماڈلنگ کا جھانسہ دے کر ان کی فحش فلمیں بناتی اور ویب سائٹ پر پوسٹ کرتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ ان کی فحش فلم بن رہی ہے اور وہ کسی فحش فلموں کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی جائے گی۔ دو سال قبل مائیکل پریٹ اور اس کی ٹیم ان سنگین الزامات کی زد میں آئی تو مائیکل پریٹ اور دیگر لوگ فرار ہو گئے جبکہ 31سالہ روبن گارشیا کو گرفتار کر لیا گیا۔ روبن گارشیا کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر اسے 20سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ 

روبن گارشیا لڑکیوں کو مجبور کرکے بنائی گئی ان فحش فلموں میں مرد اداکار کے طور پر کام کرتا تھا۔ایف بی آئی مائیکل پریٹ اور دیگر لوگوں کی گرفتاری کے لیے سخت کوششیں کر رہی ہے۔ ایف بی آئی کی طرف سے مائیکل پریٹ کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے 10ہزار ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔عدالت کی طرف سے ویب سائٹ کے 3ذمہ داروں کو 22متاثرہ لڑکیوں کو 1کروڑ 30لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا جا چکا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -