سعودی عرب میں ’بغاوت کے جرم‘ میں نوجوان کا سر قلم

سعودی عرب میں ’بغاوت کے جرم‘ میں نوجوان کا سر قلم
سعودی عرب میں ’بغاوت کے جرم‘ میں نوجوان کا سر قلم
سورس: Social Media

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں حکومت کے خلاف مسلح بغاوت، سرکاری اہلکاروں پر حملوں کے منصوبوں کا حصہ بننے اور ریاست مخالف مظاہروں میں شرکت کے الزامات کے تحت ایک نوجوان کا سر قلم کر دیا گیا۔

 ڈیلی سٹار کے مطابق اس نوجوان کا نام مصطفی ہاشم الدرویش تھا، جس کی عمر اب 26سال ہوئی تھی۔ اسے6 سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ چل رہا تھا جس میں اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مقدمے کی دستاویزات میں اس احتجاج کی حتمی تاریخ بھی نہیں بتائی گئی، جس میں شرکت کا الزام مصطفی ہاشم پر عائد کیا تھا تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ احتجاج ستمبر 2012ء میں ’عرب بہار‘ کے دوران ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ہاشم کے خلاف یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ وہ خود اس احتجاج میں شریک ہوا تھا۔ اس کے فون سے محض احتجاجی مظاہرے کی تصویر برآمد ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیا تھا اور ہاشم کی دل گرفتہ فیملی کا کہنا ہے کہ پولیس نے تشدد کے ذریعے ہاشم سے جرم قبول کرایا۔ ورنہ وہ اس احتجاج میں شریک ہی نہیں ہوا تھا جس میں شرکت کے جرم میں اسے سزائے موت دی گئی ہے۔ گرفتاری کے بعد اسے 6ماہ تک کسی نامعلوم مقام پر قید رکھا گیا اور اس دوران اسے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایاجاتا کہ وہ بے ہوش ہو جایا کرتا تھا۔ اس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تاہم اس کا فون پولیس نے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور چند ہفتے بعد اس فون میں احتجاج کی تصویر دیکھنے پر اسے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

مصطفٰی ہاشم کے خاندان کے مئوقف کے برعکس سعودی حکام کا مئوقف ہے کہ ملزم کے خلاف ریاست مخالف مسلح سرگرمیوں کے الزامات عدالت میں ثابت کئے گئے۔

مزید :

عرب دنیا -