طبی تعلیم  ، اِس تباہی کا ذمہ دار کون ؟

  طبی تعلیم  ، اِس تباہی کا ذمہ دار کون ؟
  طبی تعلیم  ، اِس تباہی کا ذمہ دار کون ؟

  

" میں اپنی ٹریننگ کے دو سال ضائع کر چکی ہوں ، میرا کیا مستقبل ہے"؟؟؟ " میں چار سال سے پارٹ ون کر کے بیٹھا ہوں اور اس امید پہ بیسک ہیلتھ یونٹ ( بنیادی مرکز صحت )میں کام کر رہا تھا کہ اس سال CIP کے ذریعے میرا داخلہ ہو جائے گا مگر اب سیٹیں اتنی کم کر دی گئی ہیں کہ مجھے یہ خواب لگتا ہے کہ میں کبھی ماہر ڈاکٹر بن سکوں گا۔۔۔ سر یہ طبی تعلیم ہے یا جبر مسلسل کا ایک نظام۔۔۔۔ یہ تھے وہ چند فقرے جو چند نوجوان ڈاکٹر مجھے اور میرے صدر کے ساتھ پی ایم اے ہاؤس میں لڑتے ہوئے کہہ رہے تھے ۔

اب سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟؟جب میں نے دماغ میں مجرمین کی فہرست مرتب کرنی شروع کی تو مجھے بیوروکریٹس ، سیاستدان، میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، میڈیکل کالجوں کے پرنسپلز اور ڈاکٹروں کی تنظیموں کے کچھ لیڈروں کے نام چمکتے نظر آئے۔۔۔۔ میں نے محکمہ صحت کی سنٹرل انڈکشن پالیسی اور ڈاکٹروں پر اس کے اثرات کے بارے یہ چند لائنیں لکھی ہیں اور توقع ہے کہ سٹیک ہولڈرز اس مسئلے کے حل کیلئے سامنے آئیں گے۔۔۔

 میرے سامنے عدالتوں کے دو فیصلے پڑے ہیں جو اپریل 2021ءاور مئی 2021ءمیں ہوئے ہیں۔ اِن میں سے ایک مقدمے کا ٹائٹل ڈاکٹر آصف بنام حکومت پنجاب، پاکستان میڈیکل کمیشن، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز اور کالج آف فزیشنز ہے اور دوسرے مقدمے میں ایک میڈیکل کالج کے پرنسپل نے سنگل بنچ کا یہ فیصلہ چیلنج کیا اور عدالت نے اُن کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنگل بنچ کا فیصلہ بحال رکھا ہے۔ان عدالتی مقدمات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ نوجوان ڈاکٹروں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں سرگودھا میڈیکل کالج یونیورسٹی کے ٹیچنگ کے ایک پروگرام میں محکمہ صحت نے داخلہ دیا جبکہ یہ پروگرام پاکستان میڈیکل کمیشن سے منظور شدہ نہیں تھا اور پچھلے دو سال میں بار بار محکمہ صحت کے چکر لگائے مگر ہمارے مسئلے کو حل نہیں کیا گیا۔۔۔ ہماری ٹریننگ چار سال کی ہے اور ہم تقریباً دو سال ضائع کر چکے ہیں۔۔۔

عدالت نے اس مقدمے میں محکمہ صحت ، پاکستان میڈیکل کمیشن اور ٹریننگ ادارے کو سنا اور جو صورتحال واضح ہوئی وہ کچھ یوں تھی۔محکمہ صحت نے ایف سی پی ایس(FCPS)ایم ایس(MS) اور ایم ڈی (MD)جیسےپروگرام کیلئےپی آر پی(PRP)پنجاب ریزیڈنسی پروگرام نامی پالیسی 2016میں نوجوان ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر بنائی جو اپنا مفاد لیکر الگ ہو گئے اور مستقبل کے تمام نوجوان ڈاکٹروں کو اس گورکھ دھندے میں پھنسا دیا۔

یہاں یہ یاد رہے کہ 2015ء تک محکمہ صحت ایک محکمہ تھا۔ 2016ءمیں محکمہ کے دو حصے کر کے دو  دوکانیں کھول دی گئیں۔ بیوروکریسی کے چند گلیلیونام نہاد پروگرامز لے کہ برڈ ووڈ روڈ پر بیٹھ گئے اور بیورو کریسی کے آئن سٹائن نہام نہاد کمپنیوں کی زنبیل لے کر لارنس روڈ لاہور پر بیٹھ گئے۔ اس دو عملی سے بیڈ گورنس کا ایک نہ رکنے والا عمل شروع ہو گیا۔ ۔۔ اس پالیسی کے مقاصد تین تھے۔۔۔ ہسپتالوں کے ٹریننگ Potentialکو Identify کرنا ، ٹریننگ کے معیار کی Improvement کرنا اور ٹرینیز کا داخلہ اور مقام تعیناتی کا فیصلہ کرنا۔

اس ضمن میں ایک ضابطہ بنایا گیا جسے PPM (پالیسی پروسیجر مینوئل)کا نام دیا گیااور اب تک اس کے اندر تین مرتبہ ترامیم کی جا چکی ہیں۔ یہ ایک مستقل عمل تھا اور جس کےلئے ہر متعلقہ ادارے کے پاس تمام معلومات کا ہونا ضروری تھا۔یہاں یہ یاد رہے کہ ایک ماہر ڈاکٹر کا تربیتی سرکل اُنیس سال پر محیط ہے جس میں گریجوایٹ سطح کیلئے چھ سال، لیول ون کیلئے دو سال، ٹرمینل کوالیفکیشن (FCPS) کیلئے پانچ سال Sub speciality کے دو سال شامل ہیں۔ ٹریننگ اور ڈگری ایوارڈ کرنے والے اداروں کی چار اقسام ہیں ۔ جن میں پہلی قسم وہ ادارے ہیں جو CPSP اور یونیورسٹی سے منظور شدہ ہیں۔ دوسری قسم اُن اداروں کی ہے جو CPSPسے منظورشدہ ہیں اور یونیورسٹی سے نامنظور ہیں۔ تیسری قسم کے وہ ادارے ہیں جو CPSPسے نامنظور اور یونیورسٹی سے منظورشدہ ہیں اور چوتھی قسم کے ادارے CPSPاور یونیورسٹی دونوں سے نامنظور ہیں۔ 

ٹریننگ اور ٹرینیز کے مسائل کے حل کیلئے تین کمیٹیاں ہیں۔ PAC پوسٹ گریجوایٹ ایڈمیشن کمیٹی کا سربراہ سیکریٹری ہیلتھ ہے۔Grivance Sub Committee جس کاسربراہ وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی( FJMU) ہے اور تیسری کمیٹی Hardship Sub Committee ہے جس کا سربراہ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی( KEMU) ہے۔

ٹریننگ میں داخلے کے راہنماءاصول یہ مقرر ہوئے کہ ادارے اپنے پروگراموں کی منظوری PMC سے لیں گے اور وہ اُن کی منظوری ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے لے گا اور یہ عمل ہر داخلے سے پہلے مکمل ہو گا۔ تمام اداروں کے سربراہان کو اپنے اہل سپروائزروں کا سٹیٹس اور سنٹر کی موجودہ صورتحال کا مکمل علم ہو گا۔ ہسپتال کی منظوری، اہل سپروائزروں کی تعداد اور دس  بستروں کیلئے ایک ٹرینی کا پیمانہ لاگو ہو گا۔ ہر ادارے میں ادارے کا ایک پرگرام ڈائریکٹر، پروگرام فیکلٹی کمیٹی اور Institutionalپوسٹ گریجوایٹ میڈیکل کمیٹی نوٹیفائی کی جائے گی۔ 

 یہ داخلے پہلے PITB اپنے ایک نام نہاد Hungry پروٹوکول کے پورٹل کے ذریعے کرتا رہا جو کہ ایک انتہائی غیر شفاف اور مبہم طریقہ تھاجسے 2020ء میں ڈی نوٹیفائی (Denotify)کردیا گیا اور اب یہ کام پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ٹریننگ ہوتی ہے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے کنٹرولڈ ہسپتالوں میں، داخل ہونے والے متاثرہ ڈاکٹر یا تو پرائمری ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ہیں یا پرائیویٹ سیٹ اپ سے آتے ہیں کیونکہ اِن کو داخلہ لینےبیسک ہیلتھ یونٹ( BHU) میں تعیناتی ضروری ہے جن کا حقیقی مالک پرائمری ڈپارٹمنٹ ہے مگر یہ ایک کمپنی کے حوالے کر دیئے گئے ہیں جو گڈ گورننس کا چورن بیچ کر حکومتی خزانے کو اربوں کا چونا لگا رہی ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گڈگورننس اس کمپنی نے بیچنی ہے تو صحت کے محکموں کی بیوروکریسی کیا بیچتی ہے؟ اور اس گورکھ دھندے میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مبینہ طور پر BHU میں تعیناتی کا ریٹ 5لاکھ تک پہنچ چکا ہے اور اس صورتحال میں محکمہ صحت کی اصطلاح Periphery پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے کیونکہ BHUs کی تعداد کم اور تعیناتی کے امیدوار ڈاکٹروں کی لمبی قطار ہے جن کی باری سالوں بعد آئے گی۔ 

 یہاں ایک اور صورتحال بتانا چاہتا ہوں کے سپیشلائزڈ ڈپارٹمنٹ کے تمام ہسپتال PGRs چلا رہے ہیں جو پانچ سال تربیت حاصل کرنے کے بعد اس مبہم اور ظالمانہ صورتحال کے بعد محکمہ چھوڑ دیتے ہیں اور دوسری طرف محکمے اپنی ٹرینڈ ہیومن ریسورس کو پرائیویٹ مارکیٹ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کیونکہ متحدہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں جو ٹریننگ ریگولر میڈیکل افسر اپنی سروس کے دوران اپنی تعلیمی استعداد بڑھا لیتا تھا وہ محکمے کے پاس بھی رہتا تھااب وہ دو محکموں میں خوار ہوتا ہے کیونکہ اسے حکم ہے کہ اپنی سروس والی سیٹ چھوڑو اور سنٹرل انڈکشن پالیسی کے گھنٹہ گھر کے ذریعے اپنی تعلیمی استعداد بڑھاؤ۔

 مضحکہ خیز صورتحال دیکھئے کہ محکمہ صحت کو دو محکموں میں ایک کے پاس متوقع ٹرینی ہیں ، دوسرے کے پاس سپروائزر ہیں اور دونوں محکموں کے پاس خطرناک حد تک رابطوں کا فقدان ہے۔ یونیورسٹیوں اور CPSP کو کچھ پتہ نہیں کہ کونسے سنٹر کے کس پروگرام کا کونسا سپروائز کس وقت ریٹائر ہو چکا ہے اور وہ اپنے کس اہل سپروائز کی تعیناتی وہاں کروا سکتے ہیں؟؟؟۔ریگولیٹر یعنی PMC کو کچھ علم نہیں کہ کس یونیورسٹی میں کونسا پروگرام کس مرکز میں چل رہا ہے اور وہ منظورشدہ ہے بھی یا نہیں؟؟؟۔ ایک محکمہ ٹرینی دیتا ہے اور دوسرا محکمہ انہیں ایک نام نہاد داخلے کے ذریعے کسی ٹیچنگ ہسپتال میں بھیج دیتا ہے، یہ معلوم کیئے بغیر کہ وہاں سپروائزر ہے یا نہیں؟ تنخواہ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟وہاں سیٹ ہے یا نہیں؟۔۔۔۔

 یہ صورتحال جب عدالتوں کے سامنے آئی تو وہاں PMC نے یہ موقف لیا کہ ہم تو کہہ چکے ہیں کہ جو غیر منظور شدہ پرگراموں میں ٹرینی ہیں اُنہیں منظورشدہ پروگراموں میں شفٹ کیا جائے۔ کیونکہ ہماری متوقع انسپکشن کا ابھی کچھ پتا نہیں۔۔۔ محکمہ صحت کا موقف یہ تھا کہ پروگرام منظوری کا پہلا سٹیپ یونیورسٹی کی منظوری ہے اور یونیورسٹی دوسرے سٹیپ میں PMC سے منظور کروائے گی اور PMC یہ منظوری HEC سے لے گا اور یہ عمل 2016سے جاری ہے۔

متاثرہ ڈاکٹروں کا موقف یہ تھا کہ غیر منظورشدہ پروگراموں میں بھیج کر محکے نے ہمیں ایک رسک میں ڈال دیا ہے اور تمام پروگرام Presumptionsپر مبنی ہے کہ منظوری ہو جائے گی۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیرمنظورشدہ درمیانی عرصے کا مستقبل کیا ہو گا؟؟۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عدالت نے جو فیصلے دئے ہیں اُس کے چار پہلو ہیں۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ محکمہ کسی ٹرینی کو غیرمنظور یا زیر منظور پروگرام میں نہیں بھیجے گا۔ کوئی ادارہ کسی غیرمنطور یا زیرمنظور پروگرام میں کسی ٹرینی کو نہیں رکھے گا، سرگودھا یونیورسٹی کے ٹیچنگ ہسپتال کے متاثرہ ڈاکٹروں کو فی الفور منظور شدہ پروگرام اور سنٹرز میں ٹرانسفر کیا جائے اور پاکستان میڈیکل کمیشن دو مہینے کے اندر اپنی مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ 

 میں قارئین کے سامنے ایک اور صورتحال رکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ کبھی کسی ملک میں ایسا ہوا کہ ایک یونیورسٹی کسی دوسری یونورسٹی کے داخلے کرے؟؟؟ یہ کہیں نہیں ہوتا مگر وطن عزیز میں UHS نے KEMUکے داخلے کئے ہیں۔۔۔۔ کیا کسی ملک میں یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک یونیورسٹی کا امتحان دوسری یونیورسٹی لے؟؟؟۔ یہاں کھوکھوں کی طرح کھلنے والی میڈیکل یونیورسٹیوں کے امتحان UHS لے رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں نوجوان ڈاکٹروں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے اور اس کا فوری عارضی حل یہ ہے کہ محکمہ صحت سیٹوں میں ہرگز کمی نہ کرے بلکہ PMC سے ان سیٹوں اور پرگراموں کی منظوری لے تاکہ بچوں کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ کیونکہ اس مجرمانہ غفلت کی ذمہ داری محکمہ صحت کی بیوروکریسی ، PMC کی نااہل انتظامیہ ، وائس چانسلرز اور پرنسپلز پر عائد ہوتی ہے جس کا احتساب ضروری ہے مگر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ :

 گھر کس نے جلایا ہے؟ کون کس سے کہے؟؟

 منصف ہے یہاں آگ، گواہوں میں دھواں ہے

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -