جناب محسن نقوی صاحب وحدت اور ملتان روڈ کے رہائشیوں کی فریاد سنیے!

 جناب محسن نقوی صاحب وحدت اور ملتان روڈ کے رہائشیوں کی فریاد سنیے!
 جناب محسن نقوی صاحب وحدت اور ملتان روڈ کے رہائشیوں کی فریاد سنیے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


نگران حکومت کے آئینی ہونے یا غیر آئینی ہونے کی عوام کو کوئی غرض نہیں عوام پر مہنگائی، یوٹیلٹی بلز،تعلیمی اورصحت کے اخراجات نے جو اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے ہیں اس میں ذمہ داری سے اگر کہوں پاکستان کا ایک بڑا طبقہ تیزی سے ذہنی مریض بن رہا ہے اب ایک سوال اٹھ رہا ہے یہ کیونکر ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے اس کا پتہ کیسے چلتا ہے۔ گھر گھر لڑائیاں، خاندانوں کے تنازعات، بڑھتی ہوئی طلاقوں کی شرح، خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان، بڑھتے ہوئے حادثات، ہسپتالوں میں خوار ہوتے عوام، بچوں کو تعلیمی اداروں سے اٹھا کر مزدوری پر لگانا، نئی نسل کی طرف سے ملک چھوڑنے کی رفتار میں خطرناک حد تک اضافہ درجنوں ایسے مسائل کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔آج کا کالم میں بے بس عوام کے چند مسائل کا ذکر کرنا ہے جس کی وجہ سے ملتان روڈ اور وحدت روڈ کے مرد خواتین بچے معذور ہونے کے ساتھ ساتھ زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اہم فیصلے کے حل کے لئے نگران وزیراعلیٰ جناب محسن نقوی کے سامنے گزارشات اور حکومتی اداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات رکھوں دو سال اپنے لکھے ہوئے کالم اور اس پر آنے والے ردعمل کا ذکرکرنا چاہوں گا میں نے اس کالم میں منصورہ کے نام سے مسلم لیگ(ن) کے بغض کی بات کی تھی۔ 


میٹرو ٹرین سپیڈو بس کے اسٹیشن بنانے کے حوالے سے ملک بھر بلکہ دنیا بھر میں مقبول امن کی آماجگاہ منصورہ کے سامنے ٹرین کے اسٹیشن کا نام منصورہ رکھنے کی بجائے وحدت روڈ اسٹیشن رکھا گیا۔ وحدت روڈ پر سید مودودی انسٹیٹیوٹ منصورہ کالج جو سید مودودی کی یادیں تازہ کرنے سمیت سید مودودی انسٹیٹیوٹ سے تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی اور غیر ملکی طالب علم دنیا بھر میں نام کما رہے ہیں بلکہ مالدیپ، کویت اور دیگر ممالک میں اہم عہدوں پر فائز بھی ہیں۔ سید مودودی انسٹیٹیوٹ کے علاوہ جامع مسجد سید مودودی انسٹیٹیوٹ دارالقرآن اور 400بچوں کا ہوسٹل موجود ہے۔ سپیڈو بس کا سٹاپ منصورہ کالج، سید مودودی انسٹیٹیوٹ رکھنے کی بجائے ہاتھی چوک رکھ دیا گیا ہے جب میں نے ٹرین اور بس کے سٹاپ اور سٹیشن کا نام غیر متعلقہ رکھنے کے حوالے سے توجہ دلائی تو پتہ چلا جماعت اسلامی مرکز صوبہ اور مقامی جماعتوں کی طرف سے اس وقت بھی توجہ دلائی گئی اور باقاعدہ احتجاج بھی ہوا منصورہ اسٹیشن کی بجائے وحدت روڈ نام رکھنا درست عمل نہیں اسی طرح منصورہ کالج یا سید مودودی انسٹیٹیوٹ سپیڈو بس کے سٹاپ کا نام رکھنا مذاق بنے گا میں حیران رہ گیا بتایا گیا (ن) لیگ کے مرکزی اور صوبائی قیادت سے وفود ملے اور درخواست کی ان دو سٹیشنوں کا نام منصورہ، سید مودودی انسٹیٹیوٹ رکھا جائے۔ ملتان روڈ اور وحدت روڈ کی یہی مقامات پہچان ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے وعدہ کیا گیا یقین دہانی کرائی گئی، مگر عملاً بغض موجودہ ناموں کے ساتھ سامنے آیا  ہے۔
میں نے کالم لکھا تو ایک دو ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے وزیر میاں محمود الرشید سے اس ناانصافی کا ذکر کیا اور کردار ادا کرنے کا کہا انہوں نے بھی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آزاد اتھارٹی ہے جس میں مداخلت نہیں کر سکتے میں نے کہا چلو نام آپ نے بدل دیئے کم از کم ملتان چونگی پر 24گھنٹے جو بے ہنگم ٹریفک کا دنگل ہوتا ہے کوئی نظام نہیں کوئی سگنل کی پاس داری نہیں ہے ٹریفک کا نظام درہم برہم رہتا ہے۔ ملتان چونگی میں گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے۔ منصورہ کے بالمقابل لاکھوں کی آبادیوں کو جانے کا راستہ نہیں بنایا گیا سب ملتان چونگی چوک سے ون وے کی خلاف رزی کرکے جاتے ہیں جس سے روزانہ حادثات ہو رہے ہیں۔


دلچسپ امر جو تکلیف دہ بھی ہے  (ن) لیگ کی بار بار کی حکومت کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی دلچسپی نہیں لی اور مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ ملتان روڈ پر منصورہ اور اس سے ملحقہ اس کے ادارے منصورہ ہسپتال، منصورہ سکولز میں ہزاروں طلبہ اور سینکڑوں مریض روزانہ آ رہے ہیں۔ جامع مسجد منصورہ میں منصورہ ٹو اور ملحقہ آبادیوں کے رہائشی نماز پڑھنا سعادت سمجھتے ہیں۔ پانچ وقت آنا معمول ہے قابل افسوس عمل یہ ہے صوبائی حکومتیں اور اس کے ادارے ایل ڈی اے ہویا ٹیپا سیاسی ہو چکے ہیں جہاں حکومت کہتی ہے ضرورت ہو یا نہ ہو وہاں انڈر پاس بن جاتا ہے اور برج بن جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں کی تفصیل سامنے آئی ہے منصورہ مسجد جاتے ہوئے سٹرک کی کراسنگ میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور درجنوں افراد زخمی ہو کر معذور ہو چکے ہیں۔


اہل علاقہ ملتان روڈ کو خونی علاقہ قرار دے رہے ہیں اور برج بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں حالانکہ منصورہ اور اس سے ملحقہ اور بالمقابل منصورہ حبیب پارک، جمیل پارک وغیرہ میں زندہ رہنا بھی مشکل ہے۔ ہسپتالوں اور سکولوں میں جانا بھی مسئلہ ہے اگر اللہ کو پیارے ہو جائیں تو قبرستان بھی نہیں ہے۔ عظیم سکالر نعیم صدیقی مرحوم کے داماد ارشد فارانی جیسی شخصیات کا روڈ کراسنگ میں وفات پا جانا بہت بڑا المیہ ہے۔ایسی ہی صورتحال وحدت روڈ ہاتھی چوک اور علامہ اقبال ٹاؤن کے نشتر،کامران، مہران بلاک اور سبزی اور فروٹ منڈی کے رہائشی دوچار ہیں ان کو سودا سلف لینے، مسجد جانے،سکول جانے،سٹاپ پر جانے کے لئے منصورہ کالج اور سید مودودی انسٹیٹیوٹ کے سامنے سے سڑک کراس کرنا پڑتی ہے جو مشکل ترین مرحلہ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر حادثات ہو رہے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی سے جتنا مرضی اختلاف کر لیں  میں ان کی جہد مسلسل سے متاثر ہوں ان سے درخواست کروں گا گزشتہ حکومتیں ان علاقوں میں اربوں لگا چکی ہیں برج انڈر پاس بنا چکی ہیں جہاں ضرورت کم تھی۔ ملتان روڈ منصورہ کے سامنے برج اور سید مودودی انسٹیٹیوٹ کے سامنے اشارے لگانا آپ کے لئے بڑی بات نہیں ہے۔ اہل علاقہ اس سلسلے میں آپ کو بلانے اور موقع دکھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کریم بلاک  انڈر پاس نہ بنائیں جب پیسے ہوں بنا لیں۔ منصورہ کالج جامع مسجد سید مودودی انسٹیٹیوٹ کے سامنے اشارے فوری لگائیں۔ ٹیپا آپ کے ایک اشارے پر عمل کرے گا ملتان روڈ پر سیاستدان حمایت لینے سراج الحق کے پاس منصورہ پہنچ جاتے ہیں آپ سیاسی نہیں ہیں عوامی خواہش کا احترام کرتے ہوئے منصورہ کے سامنے برج فوری بنانے کے احکامات جاری کریں، بڑی دعائیں ملیں گی۔

مزید :

رائے -کالم -