ہمارے ایک دوست کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کی فلسفیانہ گفتگو تیسرے دن سمجھ میں آتی ہے، اہل زبان تھا اور اردو اس کے گھر کی لونڈی تھی

ہمارے ایک دوست کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کی فلسفیانہ گفتگو تیسرے دن سمجھ ...
ہمارے ایک دوست کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کی فلسفیانہ گفتگو تیسرے دن سمجھ میں آتی ہے، اہل زبان تھا اور اردو اس کے گھر کی لونڈی تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:303
 ہمہ یاراں جنت
چلیں ہم ایساکیوں نہیں کرتے کہ اپنی لاہور روانگی کو کچھ دیر کے لیے مؤخر کرتے ہیں اور ریاض میں ہی ٹھہرتے ہیں تاکہ میں جاتے جاتے اپنے ان چند اور دوستوں کا ذکر بھی کر سکوں،جنہوں نے ہماری زندگی میں بے شمار خوشیاں شامل کیں اور دُکھوں میں سانجھ بھی ڈالی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ذکر کے بغیر میری یہ ساری کاوش ادھوری رہ جائے گی۔ وہ پہلے بیان کیے گئے کچھ دوستوں کی طرح میرے گھر کے نزدیک تو نہیں رہتے تھے مگر دل کے بے حد قریب تھے۔ یہ زیادہ تروہ دوست ہیں جو ہسپتال کی طویل ملازمت کے دوران میرے قریب ہوئے اور پھر ساتھ ساتھ ہی آگے بڑھتے گئے۔
ان میں سے ہر ایک کے ساتھ میری بہت ہی دلکش اور خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔ اب جب کہ میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں تو تقریباً سارے ہی دوست اپنے نئے ٹھکانوں کی طرف کوچ کر گئے ہیں۔ وہ بھی یقینا ایسی ہی حسین یادیں اپنے ہمراہ لے کر گئے ہوں گے۔ میں کتاب کا یہ حصہ ان سب کے نام معنون کرتا ہوں۔ حسب عادت ان کے ساتھ بھی کچھ ہنسی مذاق جاری رہے گا۔ 
دیوان اشتیاق احمد خان
دیوان کا نام جتنا لمبا چوڑا تھا، خود وہ اتنا ہی مختصر سا تھا۔ ہم اکثر اسے کہتے تھے کہ یا تو تم دیوان بن جاؤ یا خان ہی رہو، دوہرا بوجھ کیونکر اٹھاؤ گے؟ لیکن وہ اس بات پر اصرار کرتا تھا کہ وہ دونوں کے بیچ میں ہی رہنا پسند کرے گا اور یہ کہ دونوں ہی اس کے نام کے اٹوٹ انگ ہیں۔ وہ میرا ماتحت تو تھا ہی، لیکن اس سے بڑھ کر ایک اچھا دوست بھی تھا۔ کراچی سے تعلق تھا،بہت کم بولتا تھا لیکن جب بولتا تھا تو سیدھے سا دے لفظوں میں ایسی فلسفیانہ گفتگو کر جاتا تھا کہ بڑے بڑے عقلمند دانتوں تلے انگلیاں دبا کر گھنٹوں اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اس کے کچھ اقوال زریں تو زبان زد عام ہو گئے تھے اور سننے والے آخر کار اس بات پر متفق ہو جاتے تھے کہ افلاطون کے بعد اگر کوئی اس بگڑی تگڑی دنیا کو راہ راست پر لا سکتا ہے تو وہ یہی حضرت ہیں۔ ا س نے اپنے دو انتہائی مختصر مگر نصیحت آموز اقوال تو میری موجودگی میں ارشادکیے تھے، ایک تو یہ تھاکہ ”اپنا پیسہ وہی ہے جو اپنی جیب میں ہوتا ہے“ اور دوسرا یہ کہ ”یہاں کوئی کسی کو کما کر نہیں دیتا“۔ پہلی بار تو اس کی بات سر پر سے گزر جاتی، تاہم تھوڑی دیر بعد آہستہ آہستہ سمجھ آتی تو انسان حیران ہو جاتا کہ اتنامنحنی سا شخص اتنی بڑی بات کیسے کر گیا۔ اس کے بارے میں مشہور ہو گیاتھا کہ اس کی فلسفیانہ گفتگو اشفاق احمد کے ڈراموں کی طرح تیسرے دن ہی جا کر سمجھ میں آتی ہے۔ اہل زبان تھا اور اردو اس کے گھر کی لونڈی تھی اس لیے اکثر اس کے ساتھ لونڈیوں والا سلوک ہی کیا کرتا تھا۔ پیچھے سے اعظم گڑھ کا تھا اور روز مرہ کی بول چال میں وہاں کے لہجے کا تڑکا بھی لگاتا تھا۔مجموعی طور پر وہ ایک صلح  جُو اور شاندار شخص تھا۔
ایک فلسفی سے ہٹ کر اس میں دنیا داری کی ساری اچھائیاں اور کمزوریاں موجود تھیں۔ وہ دوسرے تمام مردوں کی طرح خاصہ دل پھینک واقع ہواتھا، خاص طور پر اپنے الاؤنسز کی وصولی کے لیے اس کے پاس آنے والی گوری نرسوں پر وہ بہت گہری، ناقدانہ اور قدرے پرجوش نظر رکھتا تھا۔ قانون و ضابطے کی کڑی گرفت ہونے کے باوجود ان کی مدد کی خاطروہ بڑی دور تک جا پہنچتا تھا۔ وہ عشق بڑی کثرت اور آسانی سے کر تو لیتا تھا لیکن اس کا اظہار کرنا اور نبھانا اسے نہ آیا۔ وہ اپنی ازلی شرافت یا بزدلی کے باعث دل کی بات زبان پر نہ لا سکتا تھا، اس لیے یہ محبت عموماً یک طرفہ ہی رہتی تھی۔ اس کے بالکل سامنے والی میز پر اس کی طرف رخ روشن کیے بیٹھی ہوئی نوجوان امریکی دوشیزہ ’ایملی‘ کی موجودگی اس کے لیے بہت سکون قلب اور کشش کا باعث تھی۔ چونکہ میرا کمرہ ان دونوں کے قریب ہی تھا اور اس کا دروازہ بھی ان ہی کی طرف کھلتا تھا اس لیے اکثر دیوان پر نظر پڑ جاتی تو وہ بڑی حسرت اور پیار بھری مسکراہٹ ایملی پر نچھاور کرتاہوا نظر آتا تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کے صدقے واری جا یا کرتا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -