لاہور کے شہریوں نے پیپلزپارٹی کے منشور کو مسترد کردیا

لاہور کے شہریوں نے پیپلزپارٹی کے منشور کو مسترد کردیا
لاہور کے شہریوں نے پیپلزپارٹی کے منشور کو مسترد کردیا

  

لاہور (بابر بھٹی/الیکشن سیل) لاہور کے شہریوں نے پیپلزپارٹی کے منشور کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ساری زندگی کا ایک ہی منشور ہے اور انہوں نے پہلے بھی عوام کو جو کچھ دیا اور آگے جو انہوں نے دینا ہے سب کو معلوم ہے۔ ”روزنامہ پاکستان“ کے سروے کے دوران محمد وارث نے بتایا کہ کسی سے بھی پوچھیں گے تو وہ یہ ہی کہے گا کہ ان لوگوں نے اپنی عوام کو کیا دینا ہے ان کو آزمایا ہوا ہے جو انہوں نے پچھلے 5 سالوں میں عوام کو دیا سب کے سامنے ہیں۔ شہباز خالد نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی صرف ایک ہی پہچان ہے کہ عوام کی لمبی لمبی لائنیں لگانا، لوگوں کے پاس پیسے ہیں مگر ان کو چیز نہیں ملتی یہ بات ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے شروع ہوئی ہے۔ جب راشن ڈپو، چینی اور آٹا خریدنے کیلئے عوام کی تذلیل کی جاتی تھی لوگ لمبی لمبی لائنوں میں لگ کر چینی اور آٹا خریدتے تھے۔ پچھلی حکومت نے اس مثال کو زندہ رکھا اور چینی آٹے کی جگہ پٹرول، گیس، سی این جی کی ایک ایک کلو میٹر لمبی لائن لگی۔ محمد عرفان نے ہستے ہوئے کہا کہ یہ منشور نیا نہیں ہے یہ 1973ءمیں پیپلزپارٹی نے جاری کیا تھا۔ مگر آج تک کسی کو ملا ہے تو اس کو سامنے لائیں میں اس خوش نصیب کو دیکھنا چاہوں گا۔ خالد ابراہیم نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی بینظیر کے قتل کے بعد ہی ختم ہوگئی تھی۔ موجودہ دور حکومت میری ہوش میں پاکستان کا بدترین دور ہے اس میں صرف عوام پسی ان کے نعرے زبانی کلامی ہے آج تک عوام کو کچھ بھی نہیں دیا سوائے عوام کا خون چوسنے کے ۔ میاں محمد سجاد نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا دور حکومت گندہ ترین د ور ہے اس میں بے روزگاری اور جرائم میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا کیونکہ عوام کام کی تلاش میں جاتی تھی اور رات کو جمع پونجی خرچہ کر گھر واپس آجاتے تھے۔میربلال خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے اپنے منشور میں مزدور کی مزدوری 15ہزار رکھی ہے اس لئے پیپلزپارٹی والوں نے تین ہزار روپے زیادہ بتائے ہیں کونسے دینے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے تین ہزار بڑھائے ہیں 14 ہزار کا اعلان تو نہیں کرسکتی تھی۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳