جنوبی پنجاب میں ناکافی تعلیمی سہولتیں

جنوبی پنجاب میں ناکافی تعلیمی سہولتیں

مکرمی! مَیں آپ کے روز نامے کی وساطت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار اداکرتی ہے،اس لئے دنیا بھر کی حکومتیں اپنے شہریوں میں تعلیم عام کرنے کے لئے اقدامات کو ترجیح دیتی ہیں۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ”محکمہ تعلیم اور وزارت تعلیم“نے عوام کے اس بنیادی حق کو کاغذات تک محدود کردیا ہے۔خصوصاً جنوبی پنجاب کا علاقہ، جہاں کی60فیصد سے زائد آبادی آج بھی دیہاتوں میں رہتی ہے، تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق اس5کروڑ آبادی والے علاقے کے لئے تقریباً25ہزار سکول اور150کالج ہیں اور یہ سرکاری تعلیمی ادارے اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ان اداروں میں طلباءو طالبات کے لئے بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔5کروڑ آبادی والے اس خطے کے لئے 25ہزار سکول تعلیمی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں کا منہ تک نہیں دیکھتی۔بڑی تعداد ایسے اداروں کی ہے، جن کی چار دیواری تک نہیں ہے۔بعض 2کمروں پر مشتمل سکولوں میں طلباءٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں، ان سکولوں کی تعداد گننا آسان نہیں، جہاں ایک یا دواساتذہ پڑھاتے ہیں۔حکومت پرائمری،سیکنڈری ایجوکیشن کی ترقی میں سنجیدہ نہیں ہے۔صرف سیاسی بنیادوں پر پالیسی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کیس ٹوکیس اس معاملے کوحل کیا جائے۔ایک ایک سکول کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے۔آبادی کے تناسب سے نئے سکولوں کا اجرا کیا جائے۔ جنوبی پنجاب میں اگست 2012ءسے قبل صرف2یونیورسٹیاں تھیں۔ ایک بہاﺅالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان اور دوسری اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور.... جو اس بڑی آبادی کی اعلیٰ تعلیمی ضروریات کو کسی طور پورا نہ کررہی تھیں۔اب حکومت پنجاب نے الیکشن کا سال ہونے وجہ سے ”ایمرجنسی“ میںملتان میں2یونیورسٹیاں قائم کی ہیں۔ایک انجینئرنگ یونیورسٹی اوردوسری زرعی یونیورسٹی.... حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی میں کلاسیں شروع کرنے کے لئے صرف20لاکھ روپے جاری کئے گئے ۔اس طرح زرعی یونیورسٹی، محکمہ زراعت کی ایک عمارت پر قبضہ کرکے بنادی گئی۔ان یونیورسٹیوں کے طلباءکے لئے کوئی بس سروس نہیں،ہاسٹل پرائیویٹ کوٹھیاں کرائے پر لے کربنائے گئے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی بجٹ کا سارا پیسہ دانش سکولوں پر لگانے کی بجائے پنجاب کے60ہزار سے زائد سرکاری سکولوں پر، جو قدرت کے رحم وکرم پر چھوڑدئیے گئے ہیں،بھی توجہ دی جائے۔ان سکولوں میں سے اکثریت ایسے سکولوں کی ہے، جہاں چار دیواری نہیں،بجلی و پانی کی سہولتوں کا فقدان ہے،باتھ روم یا پھر عمارت خستہ حال ہے۔صوبے کے عوام دانش سکولوں کے خلاف نہیں، مگر پہلے سے موجود سکولوں کی حالت زار بھی کوئی اتنی تسلی بخش نہیںکہ نظرانداز ہی کردی جائے۔(عمران الحق، لاہور)

مزید : کالم