آئندہ عام انتخابات اور عوام کی ذمہ داریاں

آئندہ عام انتخابات اور عوام کی ذمہ داریاں
 آئندہ عام انتخابات اور عوام کی ذمہ داریاں

  

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازرکھاہے، لیکن دوسری جانب جب ہم پاکستانی عوام کی حالت دیکھتے ہیں تو دن بدن اس مریض کے جیسی ہوتی جارہی ہے، جس کا جس قدر علاج کیا جاتا ہے وہ اتنا ہی موت کے قریب ہوتا جاتا ہے، اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ملک میں ایک کلچر کی شکل اختیار کرجانے والی بدعنوانی اور کرپشن ہے، جس کا ذکر میں اور میرے اور کئی دوست اپنے کالموں میں کرتے رہتے ہیں اور قوم سے یہ عرض کرتے رہتے ہیں کہ ایک دیانتدار قیادت ہی ملک کو مسائل و بحرانوں سے نکال سکتی ہے اگر ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے تواپنے ووٹ کی طاقت صرف ان لوگوں کے پلڑے میں ڈالنی ہوگی، جو اس کے حق دار ہوں یہی وجہ ہے کہ جب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کے مطالبات میں جس مطالبے کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی وہ آئین کی دفعہ 62اور 63کے عملی نفاذ کی تھی، جس کے مطابق اسمبلی میں صرف ایماندار،سچے اور اچھے کردار کے حامل افراد ہی جاسکتے ہیں چیف الیکشن کمیشن نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے امیدواروں کی سکروٹنی لازمی قراردیدی ہے اور اس کے لئے سات دن بھی مقرر کردیئے ہیں۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام محکموں کو یہ نوٹس جاری کردئے گئے ہیں کہ ان کے علاقہ میں کھڑا ہونے والا امیدوار اگر ان کا ڈیفالٹر ہے تو اس کی اطلاع فوراً الیکشن کمیشن کو دی جائے تاکہ اسے الیکشن کے قواعد کے مطابق نااہل قراردیا جائے ہم سمجھتے ہیں کہ اگرچہ یہ ایک بہت ہی اچھا اقدام ہے، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے اٹھایا گیا ہے جس سے قومی خزانے میں لوٹی گئی رقم واپس ہوگی لیکن اصل بات تو وہی ہے جو میں ایک عرصہ سے کہہ رہا ہوں اور وہ یہ کہ اصل منصف خود عوام ہیں اور یہ انہیں ہی کرنا ہوگا کہ وہ اب اپنا مستقبل کسی کرپٹ ،رسہ گیر اور بے ایمان شخص کے حوالے نہ کریں کیوں کہ بیشک موجودہ چیف الیکشن کمشنر ایک ایماندار ، غیرمتنازعہ اور غیرجانبدار شخصیت ہیں،جنہیں متفقہ طور پر اس منصب پر تعینات کیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی کون نہیں جانتا کہ ان کے احکامات پر عمل درآمد تو وہی بیوروکریسی کروائے گی ،جس نے پہلے ہی اس ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔

 بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سب کچھ فخرو بھائی پر چھوڑ دینے سے کام نہیں چلے گا عوام کو خود بھی شعور و بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چلے ہوئے کارتوسوں اور کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرنا ہوگا اور اگر ملک کی فلاح واقعی پیاری ہے اور وہ ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں اپنے حلقوں میں اچھی شہرت کے حامل امیدواروں کو کامیاب کروانا ہوگا ،دوسری بات جس کی جانب الیکشن کمیشن کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے وہ یہ کہ ماضی میں جن وزیروں نے غیر ضروری اور غیر قانونی طور پر اسلحہ لائسنس جاری کئے اس کی تحقیقات کرکے یہ لائسنس منسوخ کر کے یہ اسلحہ ضبط اور اس کے ذمہ داران کو نااہل قراردینا چاہئے کیوں کہ یہی اسلحہ الیکشنوں میں بدامنی اور قتل و غارت گری کا سبب بنتا ہے اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ وہ منتخب نمائندے جنہیں عوام اپنے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری سونپنے جارہے ہوتے ہیں خود انہی لوگوں کی اندھا دھند فائرنگ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیںالیکشن کمیشن کو چاہئے کہ جس امیدوار کے سپورٹر الیکشن ڈے پر اسلحہ کی نمائش کریں یا فائرنگ کریں اس امیدوار کے خلاف فوراً عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے جرم میں قانونی کارروائی کی جائے ۔

آخر میں عوام سے ایک بار پھر اپیل ہے کہ یہ الیکشن عوام کے لئے آخری امتحان کی حیثیت رکھتا ہے اس میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے قیمتی ووٹ کاحق ضرور استعمال کریں کیوں کہ یہ بھی پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے کہ ہمارے انتخابات میں ٹرن آﺅٹ بہت کم ہوتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار دُنیا کے ان 20 ممالک میں ہوتا ہے جہاں کا ٹرن آو¿ٹ پچاس فی صد سے کم ہوتا ہے جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی آدھی آبادی تو ان انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتی جو کہ ایک غلط چیز ہے کیوں کہ ان کی خاموشی کی سزا پورے پاکستان کو بھگتنا پڑتی ہے کیونکہ یہ کم ٹرن آو¿ٹ بھی انہی لوگوں کو فائدہ دیتا ہے جو صرف اپنے ”بندوں“ کو پولنگ سٹیشن لا کر ووٹ کاسٹ کروالیتے ہیں اور عام آدمی کو خراب حالات کا پروپیگنڈہ کر کے انہیں گھروں میں رہنے پر مجبور کردیا جاتا ہے جیسا کہ اب ایک عرصے سے خونی انتخابات ،خونی انتخابات کہہ کہہ کر عوام کو ڈرایا جارہا ہے ایسے میں سوچیں کہ عوام کیسے ووٹ ڈال سکیں گے۔ چیف الیکشن کمیشن کو اس بارے بھی سخت اقدامات اٹھانے چاہیںکیونکہ یہ انتخابات عوام کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیںاور عوام کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ یہ انتخابات اس کے لئے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کا آخری چانس ہیں اگر انہوں نے اب بھی ہوش سے کام لیتے ہوئے الیکشن میں بھرپور حصہ لے کر کرپٹ عناصر کا راستہ ووٹ کے ذریعے نہ روکا، تو پھر ہمیں حکمرانوں سے گلہ ہرگز نہیں کرنا چاہئے کہ انہوں نے اس ملک کی رہی سہی کسر نکال دی تو پھر اس جرم میں برابر کے شریک ہم خود بھی ہوں گے ۔

مزید : کالم