ہم سب توہینِ رسالت کے مجرم ہیں

ہم سب توہینِ رسالت کے مجرم ہیں
ہم سب توہینِ رسالت کے مجرم ہیں

  



جوزف ٹاﺅن لاہور میں عیسائیوں کے مکانات جلانے والے سارے کے سارے توہین رسالت کے مجرم ہیں اور ان پر توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ چلا کر سب کو سزائے موت دی جائے....شاید آپ سوچ رہے ہوں گے۔مَیں کچھ زیادہ جذباتی ہوگیا ہوں۔ یہ بات نہیں ہے،اگر کسی مسلمان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ گستاخی رسول کی وجہ سے کسی جماعت ،کسی فرقے یا کسی بستی کو اجاڑنے کا کوئی حق نہیں ہے تو ایسے مسلمان کے مسلمان ہونے میں بھی شک ہے۔پھر قانون توہینِ رسالت صرف ہمارے پیغمبرﷺ کی شان میں گستاخی کو روکنے کے لئے نہیں بنایا گیا، ورنہ اس کا نام توہین محمدﷺ کا قانون ہوتا۔ قانون توہین رسالت سے ہی واضح ہے کہ یہ قانون تمام پیغمبروں کی توہین کو روکنے کے لئے ہے۔ایسے میں جن لوگوں نے جوزف ٹاﺅن کے گھروں کے مال اسباب کو جلایا ہے،وہاں ضرور انجیل مقدس بھی موجود رہی ہوگی اور ان جاہلوں، ظالموں نے اسے بھی نذر آتش کردیا ہوگا۔اس طرح یہ سارے کے سارے قانون توہین رسالت کے تحت مستوجب سزا ہیں ۔

اس واقعے سے ایک بار پھر یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں صرف تعلیم پر زور دیاجاتا ہے اور کم یا زیادہ ،لیکن تعلیم بہرحال کسی حد تک ضرور ہے۔اس کے برعکس تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی تربیت سرے سے نہیں ہے۔ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔جوزف ٹاﺅن میں جو کچھ ہوا اور پھر اس کے ردعمل میں جس طرح عیسائی نوجوانوں نے توڑپھوڑ کی ، اس پر کسی کو کیا دوش دیا جائے کہ ہمارے ڈاکٹر ہڑتال کرتے ہیں تو معصوم بچوں کو لگی ہوئی ائی وی(I V)اُتار پھینکتے ہیں ، گویا اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو اس کے دفتر میں مارپیٹ دیتے ہیں اور دھرنا دیتے ہوئے میٹروبس کا گھیراﺅ کرکے توڑ پھوڑ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ہمارا وکیل بھی پڑھا لکھا طبقہ ہے۔قانون کی بات کرنے والے لوگ اور عدالتوں میں قانون کی خاطر لڑنے والے لوگ، لیکن جب احتجاج کرتے ہیں تو ججوں سے مارپیٹ گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور ہنگامے و تشدد کی شرمناک مثالیں قائم کرتے ہیں ۔ ہمارے نوجوان یعنی طلبہ تو ماشاءاللہ اس کے لئے بطور خاص بدنام ہیں ۔طلبہ پہلے تو صرف ٹریفک لائٹیں اور تجارتی بورڈ وغیرہ توڑنے پر اکتفا کیا کرتے تھے،اب اساتذہ سے مارپٹائی بھی اس ڈرامے میں شامل ہوچکی ہے۔یہ قوم کے معمار بننے کی تیاری کرنے والوں کا حال ہے ۔یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں قوم کامستقبل قرار دیا جاتا ہے۔قوم کا یہی مستقبل آگے چل کر وکلاءاور ڈاکٹروں کی صورت میں اپنی ناقص تربیت کا افسوس ناک نمونہ پیش کرتا ہے تو قوم کے سرشرم سے جھک جاتے ہیں ۔

یہ بات نہیں کہ قوم اس بات کو جانتی نہیں....نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔جب اس غیر تربیت یافتہ قوم کو بھی اس کے رہنما صحیح رہنمائی فراہم کریں تو اس قسم کے شرمناک واقعات سامنے نہیں آتے ۔پرویز مشرف کے دور میں عدلیہ بحالی کی تحریک میں انہی وکلاءنے مثالی ضبط اور امن و امان کو نقصان نہ پہنچانے کا مظاہرہ کیا۔نوازشریف کی قیادت میں عدلیہ بحالی کا لانگ مارچ لاہور سے چلتا ہوا گوجرانوالہ پہنچ گیا، لیکن راستے نہ کسی کا نقصان کیا،نہ کوئی ہنگامہ آرائی کی۔سانحہ کوئٹہ کے سلسلے میں شیعہ خواتین و حضرات نوے جنازوں کے ساتھ دھرنا دیئے بیٹھے رہے، لیکن نہ کوئی گملا ٹوٹا، نہ کسی کی نکسیر پھوٹی۔مجھ سمیت ہم سب نے شیخ الاسلام کے نام نہاد دھرنے کو بجا طور پر تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن یہ توفیق مجھے سمیت کسی کو نہیں ہوئی کہ اس کے مثالی اورپُرامن دھرنا ہونے کی داد بھی دے دیتا۔افسوس کہ تربیت کے معاملے میں ہمارے مسجد و خانقاہ مدرسہ و کالج اور مندر وگرجا سب کے سب ملزم ہیں ۔

مساجد میں نفرت تو سکھائی جاتی ہے ،لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ جس نبیﷺ کی شان میں گستاخی کے سلسلے میں ہم بجا طور پر بہت جذباتی ہیں ، اسی نبیءرحمت نے اقلیتوں کی حفاظت کے لئے ہمیں کیا سبق دیا ہے۔یہ ایک سبق ہے جو ہماری مساجد و مدارس میں پوری توجہ سے پڑھایا جانا چاہیے۔ سیدنا حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام، جنہوں نے اپنے پیروکاروں کو سبق دیا ہے کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے دوسرا گال پیش کردو،افسوس کہ اس عظیم الشان نبی کے پیروکاروں نے بھی اس جذبے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بے شک ان کے قلب مجروح تھے اور جذبات آتش بجاں تھے،لیکن انہیں اگر اپنے پیغمبر کی تعلیمات کا پاس اورلحاظ ہوتا تو بلوچستان کے ہزارہ قبیلے کے شیعہ رہنماﺅں والا طرز عمل بھی اختیار کرسکتے تھے،لیکن عیسائی اقلیت سے کیا گلہ کریں، اگر ہم خود ان کے سامنے اچھی مثالیں پیش کرنے میں بُری طرح ناکام ہورہے ہوں۔

اس واقعے سے ایک بار پھر یہ بات یا کمزوری بھی سامنے آئی ہے کہ ہماری سرکاری مشینری میں دور اندیشی اور تیز رفتاری کا خوفناک فقدان ہے۔یہ مسئلہ ہماری سول انتظامیہ کی مشینری تک محدود نہیں ہے،ہماری فوج بھی اس کا شکار ہے۔ہماری فوج ایک بھاری بھرکم جنگی مشینری کی حامل ہے، لیکن بروقت فیصلے کرنے اور فوری ردعمل کے فقدان کے باعث ہمیشہ نقصان اٹھاتی رہی ہے۔سیاچن، سلالہ چیک پوسٹ اور ایبٹ آباد آپریشن ہی اس کی مثالیں نہیں،جی ایچ کیو اور مہران نیول بیس پر حملے بھی اس افسوسناک سست روی کی بدترین مثالیں ہیں ۔سانحہ عباس ٹاﺅن کے بارے میں خبروں کے مطابق دہشت گردی کی اطلاعات ہونے کے باوجود سست روی سے کام لیا گیا اور اس بھاری جانی و مالی نقصان سے بچا نہیں جا سکا۔جوزف ٹاﺅن لاہور میں اگرچہ جوزف ٹاﺅن کے مکینوں کو بچا لیا گیا اور شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد جس پھرتی اور چابک دستی کی ضرورت تھی، اس سے کام نہیں لیا گیا، نہ دونوں فریقوں کو ایک جگہ بٹھا کر معاملہ سلجھانے کی کوئی کوشش کی گئی،نہ بستی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکا۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سے پہلے کہ لوگ بستی کا گھیراﺅ کرتے، انہیں ان کے ٹھکانوں پر قابو کرلیا جاتا۔پنجاب پولیس اگر معاملے کو اپنی روایتی سستی کی نذر نہ کرتی تو ایسا ہو سکتا تھا۔پنجاب پولیس کو چوری کی وارادت ہونے سے پہلے چور کے نقشِ قدم دکھائی دے جاتے ہیں اور وہ بروقت عمل کرے تو مجرم اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔

اس افسوسناک واقعہ میں اطمینان کی ایک ہی جہت ہے کہ حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب نے فوری کارروائی کی اور ذمہ دارپولیس افسران کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ متاثرین سے اظہار ہمدردی ،ان کے لئے امداد کا صرف اعلان نہیں امداد کی بہم رسانی، فوری رہائش، کھانے پینے اور طبی امداد کی فراہمی اور مکانوں کی ازِ سر نو تعمیر و مرمت کے کام کاآغاز ،مکینوں کی دل جوئی اور لاہورہائیکورٹ سے معاملے کی تحقیق کے لئے جوڈیشل انکوائری کی درخواست ایسے عمل ہیں ، جنہوں نے ایک بار پھر پنجاب حکومت کی کارکردگی کو نمایاں کردیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب تک کسی اقلیتی رہنما نے حکومت پنجاب کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے متاثرین میں فوری امدادی چیک تقسیم کرنے کے عمل کو سراہا ہے، لیکن یہ حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس فورس کو مزید بہتر بنائیں ، خاص طور پر اس قسم کی افسوسناک وارداتوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے کے اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل وضع کریں۔حکومت پنجاب کی یہ بات بھی سراہنے کے قابل ہے کہ سانحہ کے ردعمل میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کرنے والے عیسائی نوجوانوں کو رہا کردیا ہے۔اگرچہ ان کا یہ فعل قابل مذمت بھی ہے اور قانون شکنی بھی، لیکن میرے خیال میں ان کے تالیف قلب کے لئے ایسا کرنا کوئی غلط بھی نہیں ہے، جبکہ انہوں نے وہی کچھ کیا، جو ہمارا قومی کلچر ہے۔شاید یہ بات بھی خوشی کی ہے کہ ہماری عیسائی اقلیت بھی اس ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑکلچر سے آراستہ ہے جو اکثریتی عوام اور ساری قوم کا کلچر ہے۔کیا یہ یک جہتی کی علامت نہیں ہے۔بجا طور پر ساری قوم کو اس کلچر کو تبدیل کرنے کے بارے میں کچھ کرنا چاہےے۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں ۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں ۔)

مزید : کالم


loading...