پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے چند مشورے

پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے چند مشورے
پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے چند مشورے

  

حکمت عملی اور تدبر۔ مقابلہ کرنے کے لئے صرف طاقت پر ہی انحصار نہیں کیا جاتا۔ حریف کی کمزوریوں کا بھی گہرا جائزہ لیا جاتا ہے۔ طاقت کا راستہ طاقت سے نہیں، بلکہ حکمت عملی سے روکا جاتا ہے۔ طاقت کا گھمنڈ اکثر سب سے بڑی کمزوری بن کر شکست کا منہ دکھا دیتا ہے اور ناکامی مقدر ٹھہرتی ہے۔

محرم5 ہجری، کفار اپنے ساتھ یہودیوں کو ملا کر چوبیس ہزار کا ایک بڑا لشکر لے کر مدینہ کی طرف بڑھے، راستے میں وہ فتح کے گیت گا رہے تھے کہ اس بار مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔ طاقت کا گھمنڈ سر چڑھ کر بول رہا تھا، مگر دنیا کے سب سے بڑے حکمت کار جرنیل جناب محمد رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے کو پسند کرتے ہوئے مدینہ میں داخل ہونے والے واحد راستے کے آگے پانچ گز چوڑی اور پانچ گز گہری ساڑھے تین میل لمبی خندق کھود کر کافروں کا راستہ روک دیا۔ آخر ستائیس روز تک وہ ناکام رہے اور اس طرح نامراد واپس پلٹے کہ پھر کبھی مقابلے کی آرزو نہ کر سکے۔

تبدیلی کا نعرہ لگانے والی تحریک انصاف کا یہ پہلا الیکشن ہے، جس میں وہ ملک گیر سیاسی جماعت بن کر اُبھری ہے۔ کپتان کی کرشماتی شخصیت سے نوجوان پُرامید ہیں کہ وہ اس کے ساتھ مل کر نیا پاکستان تعمیر کر لیں گے، جو اقبالؒ کے خواب کی حقیقی تعبیر ہوگا اور قائداعظمؒ کے اصولوں کا نمونہ....مگر ان کا مقابلہ ایک انتہائی طاقتور مافیا سے ہے، جس کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ اس طاقتور مافیا کا مقابلہ کرنے کے لئے تحریک انصاف کی کوئی مو¿ثر حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ سوائے اس کے کہ وہ بھی طاقت کا مقابلہ طاقت سے کرنے کے لئے بڑے بڑے الیکٹ ایبل کا سہارا لے رہی ہے، جس سے وہ طاقتور ہونے کی بجائے روز بروز کمزور ہوگئی اور تبدیلی کا خواہشمند نوجوان مایوس ہو رہا ہے۔

کپتان کو اپنی حکمت عملی بدلنا ہوگی، مافیا کا مقابلہ کرنے کے لئے مربوط حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی اور نوجوان کو متحرک کرنا ہوگا۔ نوجوان اس کی طاقت ہیں۔ مقابلے کے لئے صرف طاقت ہی نہیں، حکمت عملی ضروری ہے۔ ہنی بال کے بارے میں ہیرلڈلیم لکھتا ہے کہ ”ہنی بال کمال کا جنگجو تھا، لڑائی کے دوران بھرپور طاقت استعمال کرتا تھا، مگر جنگی محاصرہ کرنے کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے اکثر مشکلات کا شکار ہوتا اور طاقت ضائع ہو جاتی“....کپتان بھی کمال کا جنگجو ہے۔ میدان میں ہم نے اسے اپنی ٹیم کے ساتھ دلیرانہ لڑتے دیکھا، وہ بھرپور طاقت سے حریف پر حملہ آور ہوتا ہے اور میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے، لیکن سیاست کے میدان میں کپتان کو آئین کی طاقت سے ایک بھرپور حکمت عملی سے میدان میں اترنا ہوگا، نہیں تو کرپٹ مافیا اسے ناک آو¿ٹ کر دے گا۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ تحریک انصاف کو آزاد الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے کیا جدوجہد کرنی چاہئے؟

تحریک انصاف کو جلد از جلد ضلعی سطح پر انتخابی امور کی کمیٹیاں بنانا ہوں گی، جن میں تجربہ کار سیاسی کارکن اور وکلاءکو شامل کر کے اپنے مخالف امیدوار کے خلاف آئین کی شق 62،63 کے تحت ثبوت اکٹھے کرنا ہوں گے۔ اس کمیٹی میں متحرک اور با صلاحیت لوگ شامل ہونے چاہئیں جو کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران مکمل ثبوت کے ساتھ اپنے اعتراضات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں اور کرپٹ، ٹیکس چور، بے ایمان، بجلی ، گیس اور ٹیلی فون کے بل نہ جمع کرانے والوں اور اپنے گوشوارے اور انکم کی تفصیل نہ دینے والوں کا راستہ ابتدائی سطح پر روک سکیں۔ صرف باتوں سے نہیں، کامل یکسوئی اور سنجیدگی سے اعتراضات مع ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔ کپتان کا یہ راگ کہ دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈر کرپٹ ہیں، پرانا ہو چکا۔ اب اسے سن کر کانوں میں کوئی رس نہیں گھلتا۔ کپتان کو اپنی پارٹی کا ایسا پروگرام دینا ہوگا، جسے سن کر معاشرے کا پسا ہوا طبقہ اس کی طرف متوجہ ہو۔ کپتان یہ اعلان کر سکتا ہے کہ اس پسے ہوئے طبقے کو وہ پارلیمینٹ میں نمائندگی دے گا۔ کسانوں، بھٹہ خشت کے مزدوروں، ہاریوں، ڈرائیوروں، حجاموں، چھوٹے تاجروں، مزدور یونینوں اور ریٹائرڈ ملازمین کے طبقات سے ایک ایک فرد ، جسے وہ طبقہ اتفاق رائے سے اپنا نمائندہ چنے، کو سینٹ کا ٹکٹ دے کر ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائی جائے گی۔ کپتان اگلے چند روز میں ان طبقات کے نمائندوں کا اعلان کر کے متوسط طبقات کے دل جیت سکتا ہے۔

کپتان کی سب سے بڑی طاقت نوجوان ہیں، لیکن کپتان کے اردگرد ہمیں سوائے ابرار الحق کے کوئی نمایاں نوجوان نظر نہیں آ رہا۔ کپتان کو نوجوان طبقے کو زیادہ نمایاں کرنا ہوگا اور پچیس فیصد ٹکٹ دینے کا وعدہ نبھانا ہوگا تاکہ نوجوان متحرک ہو کر تبدیلی کے سفر میں زیادہ دلچسپی دکھائیں۔ کپتان کے مخالفین اس کے اسلام آباد میں کئی کنال پر پھیلے گھر پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہیں، جبکہ کپتان کا مو¿قف ہے کہ اس نے اپنے ذاتی پیسوں سے یہ گھر تعمیر کیا ہے اور اس پر اعتراضات بے جا ہیں، لیکن ایک بات تو یہ ہے کہ عام غریب متوسط ووٹر سوچتا ہے کہ اس کا لیڈر کئی کنال کے گھر میں رہتا ہے، جبکہ وہ اڑھائی مرلے کے مکان میں یا کرائے کے گھر میں.... لہٰذا اس کے لئے یہ رئیس شہزادہ کیا کرے گا؟ ہمیں امید تو نہیں کہ کپتان ہمارا مشورہ مان لے، لیکن اگر وہ قائداعظمؒ کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہے تو پھر اسے یہ وسیع و عریض گھر کسی یونیورسٹی کو دے کر قائداعظمؒ اور لیاقت علی خان کا حقیقی جانشین بننا ہوگا۔

کاش!23 مارچ کے جلسہ لاہور میں کپتان اپنے اس عالیشان وسیع و عریض گھر کو نمل یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس کے لئے وقف کر دے تو اس کے مقابل دوسری سیاسی پارٹیوں کے لیڈر بونے نظر آئیں گے۔ کپتان اکیلا آدمی ہے، اسے رہنے کے لئے کتنی جگہ چاہئے اور جہاں تک جاگنگ کا سوال ہے تو اسے بھی عام لوگوں کی طرح پارک یا گراو¿نڈ میں جاگنگ کرنی چاہئے۔ کپتان آج کل ہر فورم پر بہار کے وزیراعلیٰ نیتش کمار کے گن گاتا نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیتش کمار بہار کے لوگوں کے دل جیت چکا، لوگ اسے اپنے ہی جیسا سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ حقیقتاً ان جیسا ہے....اس کے اثاثوں کی ایک جھلک قارئین کے لئے....بہار کے وزیراعلیٰ کے کل اثاثے چھ لاکھ چالیس ہزار روپے مالیت کے ہیں۔ اس کے پاس نقد رقم چودہ ہزار چار سو پچھتر روپے ہے۔ باقی ایک کمپیوٹر جس کی مالیت پینتیس ہزار روپے، ایئر کنڈیشنر (38200)، ایئر کولر(7000)، گائے (5300) اور سینٹرو کار 2003ءماڈل سمیت دوسری عام استعمال کی اشیاء، جو ہر عام آدمی کے گھر میں ہوتی ہیں۔

 عام لوگوں جیسی زندگی جینے والا بہار کا وزیراعلیٰ آج ہر شہری کا ہیرو ہے۔ کپتان کو عام لوگوں کے برابر آنا ہوگا، پھر لوگ اسے اقتدار کا وہ تاج پہنائیں گے، جو کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتا، جسے کسی الیکٹ ایبل کی ضرورت نہیں ہوگی....حکمت عملی اور تدبر۔ مقابلہ کرنے کے صرف طاقت پر ہی انحصار نہیں کیا جاتا، بلکہ حریف کی کمزوریوں کا بھی گہرا جائزہ لیا جاتا ہے۔ کپتان کے مخالفین کی سب سے بڑی کمزوری جائیداد، دولت اور سرمایہ ہے۔ کپتان کو ان چیزوں سے بے نیازی ثابت کرنا ہوگی اور اپنی ذات سے وابستہ ایسے تمام داغ دھونے ہوں گے، اگر کپتان یہ کر گزرا اور اسے یہ کر گزرنا چاہئے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ مستقبل میں مہاتیر محمد، طیب اردگان اور احمدی نژاد ایسا مقام حاصل نہ کر سکے۔ حکمت عملی اور تدبر....کپتان اور پی ٹی آئی کو الیکشن کا معرکہ بھرپور طاقت سے لڑنا ہوگا، لیکن طاقت کے ساتھ حکمت عملی اور تدبر کا استعمال بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کرنا ہوگا، پھر حرام کے پیسے سے جنون جیت پائے گا، نہیں تو عام متوسط طبقے کے لوگ اسے طاقتوروں، سرمایہ داروں، اقتدار کے بھوکوں، عوام کو دھوکہ دینے والوں اور کرپٹ مافیا کا دنگل سمجھ کر لاتعلق رہیں گے یا پھر اپنا ذاتی مفاد دیکھ کر ووٹ کو ضائع کر دیں گے۔

مزید : کالم