پاک بھارت تعلقات، ٹھیک نہیں ہو پا رہے!

پاک بھارت تعلقات، ٹھیک نہیں ہو پا رہے!
پاک بھارت تعلقات، ٹھیک نہیں ہو پا رہے!

  

ورلڈ پنجابی کانگرس کے وفود اور پھر لاہور پریس کلب کی طرف سے بھارت جانے کا کئی بار اتفاق ہوا اور اسی طرح بھارت سے آنے والے وفود اور مہمانوں کا استقبال کر کے خوشی ہوتی، ان دوروں کے دوران جو بھی گفتگو ہوتی ہمیشہ حوصلہ افزا رہی اور یہ احساس ہوتا کہ پڑھے لکھے لوگ زمینی حقائق کو تسلیم کر چکے اور ان کی بہترین خواہش ہے کہ پاک بھارت تعلقات اس سطح پر آ جائیں کہ تنازعہ نہ رہے اور آمد ورفت میں کوئی وقت نہ ہو ۔ حتیٰ کہ یہ تجویز پیش کی جاتی رہی کہ دونوں حکومتیں تعلقات کو ایسی سطح پر لائیں جہاں ویزے کی تمام مشکلات دُور ہو جائیں اور امریکہ کینیڈا جیسا حساب ہو کہ بھارت اور پاکستان کے شہری سرحد پر جا کر پاسپورٹ اور اپنی شناختی دستاویزات دکھائیں اور ان کو دوسرے ملک میں داخلے کی اجازت دے دی جائے۔ اس جذبے میں یہ پڑھے لکھے لوگ ہی شامل نہیں ، عام لوگ اس سے زیادہ نیک خیالات کا اظہار کرتے خصوصاً لاہور آنے والے یاتری، وفود یا سیاح تو ”جنے لہور نہیں ، ویکھیا او جمیا ای نئیں“ کا مقولہ دہراتے، لیکن یہ سب پر لاگو نہیں ، بھارت اور پاکستان دونوں اطراف سخت گیر لوگ موجود ہیں جو تعلقات کے لئے شرائط عائد کرتے۔ بھارت میں تو اکھنڈ بھارت والی لابی ذرا زیادہ مضبوط ہے، حیرت تو میڈیا والوں پر ہوتی ہے۔ بھارت کی نسبت پاکستان کا میڈیا زیادہ اعتدال پسند ہے، لیکن بھارتی میڈیا تعصب کی حد سے گزر جاتا ہے اس سلسلے میں جب صحافتی وفود کا تبادلہ ہوتا ہے تو کارکن صحافیوں کا مو¿قف مختلف ظاہر ہوتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا کو سرکاری پالیسی متاثر کرتی اور مالکان اسے تسلیم بھی کرتے ہیں، چنانچہ آخری الزام سیاست دانوں پر ہی آتا ہے۔

ممبئی میں ہونے والے واقعات کے بعد اچھے ہوتے تعلقات خراب ہوئے تو ابھی تک بہتر نہیں ہو پائے۔ درمیان میں بات چیت اور مذاکرات سے فضا بہتر ہوئی، دوبارہ ”کمپوزٹ ڈائیلاگ“ کا سلسلہ شروع ہوا تو آمدورفت کے حوالے سے ویزا پالیسی پر ایک معاہدہ ہو گیا۔ معاہدے کی تمام شقوں پر اتفاق رائے اسلام آباد میں ہوا اور دستخط دہلی میں ہو گئے۔ مبارک سلامت بھی ہوئی، لیکن کپ اور ہونٹوں کے درمیان پھسلن موجود تھی، اسی اثناءمیں لائن آف کنٹرول پر واقعہ ہوا۔ ایک بھارتی فوجی کی سر کٹی لاش بھارتی کنٹرول والے علاقے میں ملی، واویلا شروع ہو گیا۔ کسی تصدیق اور تحقیق کے بغیر کنٹرول لائن پر حملہ کر کے ابتدا میں ایک فوجی اور ایک شہری شہید کئے گئے۔ اس کے بعد کی جھڑپوں یا اچانک فائرنگ نے ایک بھارتی اور تین پاکستانیوں کی جان لی۔ جنرل آفیسرز کمانڈنگ کی سطح پر بات چیت کے بعد پھر سے فائر بندی ہوئی اور معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔

اس مرحلے پر بھارتی قیادت کو قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا کے ہنگاموں نے کانگرس کی مخلوط حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اس سے کھیل اور کھلاڑی متاثر ہوئے تو بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے15جنوری کو جب ویزا والے معاہدے کی پہلی شق پر عمل ہونا تھا۔ معاہدہ ہی معطل کر دیا نتیجے میں دو پاکستانی ”سینئر شہری“ جو 65سال والے تھے۔ سرحد سے واپس کر دیئے گئے کہ بھارت والوں نے داخلے کے لئے ویزا لگانے سے انکار کر دیا۔ اسی معاہدے کے تحت یہ بھی طے پایا تھا کہ دونوں ممالک سیاحت کے لئے سیاحتی گروپوں کو ویزے جاری کریں گے۔ اس کے لئے 15مارچ کی تاریخ کا تعین تھا۔ بھولے لوگ سمجھتے تھے کہ منموہن سنگھ نے معاہدہ معطل کیا ہے تو اس شق پر عمل ہو گا حالانکہ جب15جنوری کو معاہدے کو التوا میں ڈال دیا گیا تو معاہدے کی ہر شق معطل ہو گئی تھی اس لئے سیاحتی گروپ والا معاملہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود یار لوگوں نے خبر چلائی کہ بھارت نے سیاحتی گروپوں کو ویزا دینے کی پالیسی بھی ختم یا معطل کر دی ہے۔

اس سارے عمل میں افسوس اور دُکھ کا پہلو یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہوا وہ بھارت کی طرف سے ہو رہا ہے۔ بھارت کی اندرونی سیاست یہاں بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ بی جے پی پر حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے الزام کے بعد بی جے پی والے مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ایک طرف تو بیان کی مذمت اور تردید کی اور دوسری طرف دہشت گردی ہی کا ثبوت دینا شروع کر دیا۔ بے جا دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہاکی کے نو کھلاڑی واپس ہوئے، ورلڈکپ کرکٹ (خواتین) کے دوران پاکستان وومن کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم کی حدود میں محدود کر دیا گیا۔ یوں تعلقات کو ٹھیک کرنے کی بجائے خراب کرنے کا عمل کیا گیا۔

ہم اپنے مشاہدے کے مطابق گزارش کرتے ہیں کہ اس تمام تر عمل کے ذمہ دار سیاست دان حضرات ہیں۔ انہیں جرا¿ت اور ہمت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی بھی پُرامن تعلقات کی اہمیت سے آگاہ ہے، جس کا ثبوت سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کا دورہ پاکستان اور مینار پاکستان جا کر پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان ہیں لیکن یہی بی جے پی اب کانگرس کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے واجپائی کے عمل اور مو¿قف سے منحرف ہو گئی، جبکہ ایل کے ایڈوانی بھارت میں قبل از وقت انتخابات کی توقع میں سخت گیر موقف اختیار کر رہے ہیں اور کانگرسی مخلوط حکومت گھٹنے ٹیکتی چلی جا رہی ہے، حالانکہ یہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ خطے کے امن کے لئے دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات لازمی ہیں۔

جہاں تک بھارتی میڈیا کا تعلق ہے تو ایک سے زیادہ مرتبہ کارکن صحافیوں سے تبادلہ خیال ہوا وہ سب ایک سے تو نہیں لیکن سخت گیر موقف والے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے اچھے تعلقات ضروری ہیں اور بہتر تعلقات سے تنازعات بھی طے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ فیصلے اپنے حق میں چاہتے اور اُن کے لئے دلائل بھی دیتے ہیں۔ ایک دو نہیں تین چار مرتبہ کانفرنسوں میں یہ طے ہوا کہ کارکن صحافی اپنا فرض جان کر امن اور دوستانے کے حق میں فضا ہموار کریں گے لیکن جب بھی کوئی وقت آیا ،یہ ارادے ختم یا ناکام ہو گئے۔

اب بھارت نے معاہدہ معطل کیا ہے تاہم ہماری وداع ہونے والی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر جاتے جاتے فرماتی ہیں کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاک بھارت تعلقات بہتر ہونا ہی خطے کے حق میں ہے، دونوں ممالک کی ترقی اور عوامی بہبود اسی میں مضمر ہے۔ یہ بات بھارتی زعماءحکمرانوں اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو بھی تو سوچنا چاہئے۔ دوستی اور بہتر تعلقات کی گاڑی یکطرفہ نہیں چل سکتی۔ بھارتی قیادت کو جرا¿ت مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔ ہمارے پاکستان والے محترم بھارت دوست یا اعتدال پسند عناصر کو بھی بھارتی رویے کا جائزہ لینا چاہئے۔ یکطرفہ ٹریفک سے گریز اور بھارت کی طرف سے نیک عمل اور خواہش کا ثبوت لینا چاہئے، فیصلہ بہرحال سیاست دانوں ہی کو کرنا ہے۔

مزید : کالم