ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ

  



آج جب ہمارے حکمران اپنے پانچ سال پورے کرنے کے بعد قوم کو مہنگائی، قلت، بدامنی ، دہشت گردی اور بے روزگاری کا شکار کر کے، جمہوریت کے پانچ سال پورے کرنے کے نعرے لگاتے پوری تمکنت کے ساتھ اپنے جانے سے پہلے قوم کو واپس آنے کا مژدہ سنا رہے ہیں ۔ اس سے غریب اور بے بس عوام اور زیادہ ڈراور سہم گئے ہیں۔ کسی طرف سے بھی ایسی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی جو کہہ سکے کہ حضور اب ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیجئے ، رہی سہی کسر پوری کرنے کے لئے آپ کے دوبارہ زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ شاید لوگ خوفزدہ ہیں، جو یہ سب کچھ متحد ہو کر برسر عام کہنے کا حوصلہ نہیں کر پا رہے۔لیکن ان حالات میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے ہماری وفاقی حکومت کی بدعنوانیوں اور کرپشن سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے ایک رپورٹ شائع کردی ہے ،جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ہمارے قومی خزانے کو ایک سو اسی کھرب روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ عام آدمی کے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر یہ رقم امریکہ، جاپان، چین یا کسی امیر یورپین ملک کا نقصان نہیں ۔ ہمارے حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ایک ایسی قوم کا نقصان ہے، جس کے افراد کی بھاری اکثریت کے پاس تن ڈھانپنے کے لئے مناسب لباس اور پیٹ بھرنے کے لئے پوری خوراک نہیں ۔ جن کو پینے کے لئے صاف پانی تک میسر نہیں، جن کے لئے اپنے بچوں کو سکول بھیجنا اور ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، جن کی سٹرکیں اور گلیاں کوچے ٹوٹ پھوٹ اور گندگی کا شکار ہیں۔ حاکم جنہیں نہ بجلی فراہم کرسکے نہ گیس،جنہیں اپنی جان و مال کا تحفظ میسر آیا نہ کہیں سے انصاف، جنہیں حکمرانوں کی طرف سے اپنے فرائض پورے نہ کرنے کے لئے ہر بات پر ہمیشہ فنڈز نہ ہونے کا گھڑا گھڑایا بہانہ سننے کو ملا۔

اس ادارے نے ان پانچ سال کے دوران پاکستان کی حکومت کی نااہلی اور کرپشن ریکارڈ کی ہے اور کہا ہے کہ اگر اس سے قبل پاکستان دنیا میں کرپشن کے لحاظ سے اوپر والے ممالک میں 47ویں نمبر پر تھا تو اب کرپشن میں بہت زیادہ اضافے کی وجہ سے 35 ویں نمبر پر آچکا ہے۔ اس ادارے نے پاکستان کے مختلف صوبوں کی کرپشن کا بھی موازنہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ پنجاب جو پہلے پاکستان کا کرپٹ ترین صوبہ تھا اب یہ کم کرپشن والے صوبے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جبکہ دوسرے صوبوں میں کرپشن کے بہت سے واقعات مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی65 سال کی تاریخ میں گزشتہ پانچ سال کی حکومت کرپٹ ترین اور اپنی کارکردگی کے لحاظ سے ناکام ترین حکومت رہی ہے۔ گزشتہ دس سال میں سب سے زیادہ کرپشن لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور ایف بی آر میں ہوئی ہے۔ این آئی سی ایل میں ہونے والے زمین کے معاہدوں سے ثابت ہوا کہ لاہور میں آٹھ سو کنال زمین پرمارکیٹ کے نرخ سے آٹھ سو فیصد زائد رقم خرچ کی گئی۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران مارکیٹ ویلیو سے کم پر لاکھوں ایکٹر سرکاری زمین مبینہ طور پر الاٹ کی گئی۔ اس تباہ کن صورت حال نے سپریم کورٹ کو28 نومبر2012ءکو کراچی میں زمین کی ٹرانسفر پر پابندی کا حکم جاری کرنا پڑا۔ خود اس حکومت کے مقرر کردہ چیئرمین نیب نے 12 دسمبر 2012ءکو ایک پریس کانفرنس مین اعتراف کیا کہ ملک میں کرپشن تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور ٹیکس دینے کے ذمہ دار ٹیکس نہیں دے رہے۔گزشتہ برسوں میں حکومتی سرپرستی میں بڑے بڑے کرپشن کیسوں کا انکشاف ہوا۔ 500 ملین ڈالرز کا رینٹل پاور پروجیکٹ٬ آٹھ ارب روپے کا این آئی سی ایل سکینڈل، پی آئی اے میں کرپشن، پاکستان سٹیل ملز میں 20 ارب روپے کی کرپشن ،پنجاب بنک میں 10ارب روپے کی کرپشن، پاکستان ریلوے،اوگرا،واپڈا اور اَن گنت دوسرے اداروں کی کھربوں کی کرپشن کا اس رپورٹ میں تفصیلی ذکر ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ پانچ سال پورے کرکے جانے والے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اس کے علاوہ پوری قوم کے لئے باعث عبرت و موعظت ا ور ان کی غیرت کے لئے ایک چیلنج بھی۔ اب یہ قوم نے سوچنا ہے کہ سب کچھ چھین کر عام آدمی کے لئے مصائب اور مشکلات پیدا کرنے والی جماعتیں اور افراد حکومت کے قابل ہیں یا عبرت ناک سزاﺅں کے مستحق۔ اس سب کچھ کے ہوگزرنے کے بعد بھی اگر قوم ہوش کے ناخن نہیں لیتی۔ اپنے ووٹ کے استعمال کے لئے میدان میں نہیں نکلتی ۔ مستحق اور اہل امیدواروں کی کامیابی کے لئے کوشش نہیں کی جاتی تو پھر شاید ہمیں آئندہ برسوں میں اس سے بھی زیادہ بڑے عذاب برداشت کرنا پڑیں ۔ ہماری بے حسی اور بے دلی کا یہی عالم رہا تو آئندہ حکمران ہماری گردنوں پراس سے بھی برا سلوک کرنے کے عزائم کے ساتھ سوار ہوں گے۔ ہمارے لئے آزاد اور خود مختارقوم کی حیثیت سے زند گی گذارنا ممکن نہیں رہے گا۔

 لوٹ کھسوٹ کے ذریعے اپنے خزانے بھرنے والے حاکموں نے قوم کو اس کے حق سے محروم کرکے بدحالی اور مایوسی کے سپرد ہی نہیں کیا ۔ بلکہ انہوں نے قوم کے جن بے آواز اور کمزور لوگوں کے کھربوں روپے پر ہاتھ صاف کیا انہیں بے توقیر بھی کیا ، انہیں غیر مہذب جانا ، ان کا لوٹا ہوا مال مغرب کے معاشروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ان کے بنکوں میں رکھا۔ ان کی ظالمانہ اور ملک دشمن پالیسیوں اور کرپشن کی وجہ سے ہماری قوم دُنیا کے تمسخر کا نشانہ بنی۔ ملک میں ترقی نہ ہونے سے بیروزگاری بڑھی تو دشمنوں نے ہمارے ہی لوگوں کو سستے داموں خرید کر ملک کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں سے نہ صرف عام شہری کی زندگی دوبھر کردی بلکہ معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ یہ حاکم جاتے جاتے بھی اربوں کھربوں روپے سرکاری خزانے سے نکال کر اپنی جیبوںمیں ٹھونستے ہوئے پائے گئے۔ انہوں نے اپنے پانچ سال ہی پورے نہیں کئے بلکہ قوم کے مستقبل کو بھی ہزاروں ارب روپے کے قرضے لے کر گروی رکھ دیا۔ ان کی حکومت کے یہ پانچ اذیت ناک سال ہی قوم کا نصیب نہیں بنے آئندہ کا طویل دور بھی ان کے سیادہ کارناموں کی وجہ سے مخدوش نظر آرہا ہے۔

اس وقت ایک ہی صورت ہماری بقااور حالات کے سدھار کی ہوسکتی ہے کہ قوم کے تمام باشعور اور محب وطن افراد جاگ اٹھیں ۔ تمام افراد قوم میں شعور پیدا کریں۔ کسی کو انتخابات چرانے کی اجازت نہ دیں۔ سیاسی جماعتوں اور ان کی غلط لیڈر شپ پر واضح کردیں کہ ان کے ووٹ صرف اہل اور دیانتدار لوگوں ہی کو دئیے جائیں گے۔ انتخابات میں چار کروڑ کی سرمایہ کاری کرکے قوم کے ایک دو ارب پر ہاتھ صاف کرنے کے عزائم رکھنے والوں کے ارادوں کو ان کے ماضی اور کردار سے پہنچاننا مشکل نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قو م ذات برادری اور ذ اتی اور گرو ہی مفادات سے باہر نکل کرقومی اور صرف قومی سوچ اپنائے۔ اپنی تہی دامنی کے باوجود محض دوسروں پر بڑے بڑے الزامات عائد کرکے اپنی کامیابی کی راہ ہموار کرنے والوں کی کامیابی کے راستے بند کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم صاف ستھرے امیدواروں کو چھوڑ کر جھوٹے اور فریب کارقسم کے پیشہ وروں کے کرتوتوں سے ایک دوسرے کو دیانتداری سے آگاہ کرتے رہیں تو اس سے قوم آنے والے انتخابات سے بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہے۔ کم از کم آئندہ کے لئے ہم کرپشن کے عذاب اور برے حکمرانوں سے نجات پاسکتے ہیں۔ قوم کے لئے یہ انتخابات جمہوریت کے ذریعے اپنی تقدیر بدلنے کا آخری موقع ہے ۔ موجودہ نسل ہی کے لئے نہیں ہماری آئندہ نسلوں کے لئے بھی ان کے نتائج فیصلہ کن ہو ں گے۔ کیا ہم ایک باوقار ا ور روشن مستقبل ا پنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے اس ملک میں چاہتے ہیں یا اس ملک کو لٹیروں کے سپرد کرکے خو د بے حسی اور بے عملی کے اندھیاروں میں گم ہوجانا چاہتے ہیں۔ یہ فیصلہ قوم کے ہم عام لوگوں نے خود کرنا ہے۔                 

مزید : اداریہ


loading...