این اے 107پرامن انتخابات کاخواب لئے ووٹرالیکشن کاانتظار کرنے لگے ،مسلم لیگ (ن)کی گرفت مضبوط

این اے 107پرامن انتخابات کاخواب لئے ووٹرالیکشن کاانتظار کرنے لگے ،مسلم لیگ ...
این اے 107پرامن انتخابات کاخواب لئے ووٹرالیکشن کاانتظار کرنے لگے ،مسلم لیگ (ن)کی گرفت مضبوط

  

لاہور( شہباز اکمل جندران ، معاونت مرزا نعیم الرحمن بیورو چیف) قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 107کے ووٹر آنکھوں میں پرامن انتخابات کا خواب لیے ، اگلے الیکشن کا انتظار کرنے لگے۔ ماضی میںگجرات کے ہر حلقے نے الیکشن میں عوامی خون کا خراج مانگا ہے۔حلقہ این اے 107سے مسلم لیگ ن دو مرتبہ قومی اسمبلی کا الیکشن جیتی۔ پہلی مرتبہ ملک جمیل اعوان اس سیٹ پر کامیاب ہوئے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ چند ماہ قبل مستعفی ہو گئے اور ان کی جگہ ملک محمد حنیف اعوان قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے‘ انکے انتخاب میں چودھری عابد رضا نے مرکزی کردار ادا کیا ان کے مقابلے میں رحمان نصیر مرالہ جو سابق صدر چودھری فضل الہی کے قریبی عزیز ہیں ہار گئے وہ ایک مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں مگر بعد ازاں وہ الیکشن ہارتے رہے قومی اسمبلی کی یہ واحد سیٹ ہے جس پر مسلم لیگ ن کی گرفت کافی مضبوط ہے ا ب اس حلقہ سے چودھری عابد رضا امیدوار ہونگے اور وہ کسی صورت بھی اس سیٹ سے دستبردار نہیں ہونگے باور کیا جا رہا ہے مسلم لیگ ن کے وہی امیدوار ہیں اور ملک محمد حنیف اعوان کو اب قربانی دینا ہوگی مسلم لیگ ق کے چودھری رحمان نصیر امیدوار ہیں تو دوسری طرف جماعت اسلامی کے سید ضیاءاللہ شاہ ایڈووکیٹ تحریک انصاف کے محمد الیاس چودھری ودیگر امیدوار ہیں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور ق کے درمیان ہو گا پیپلز پارٹی کے پاس اس سیٹ کے لیے تاحال کوئی موزوں امیدوار نہیں چودھری عابد رضا ایک طویل عرصہ سے عوامی خدمت کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں اس حلقہ سے میں دوصوبائی اسمبلی کی سیٹیں PP114اور PP115ہیں پی پی 114سے چودھری عابد رضا گروپ دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ حاصل کر چکا ہے عثمان رضا اور عرفان الدین ایڈووکیٹ صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں درحقیقت حلقہ کے عوام نے چودھری عابد رضا کو ہی ووٹ دیا تھا اور اب بھی اس سیٹ پر چودھری عابد رضا گرو پ کا امیدوار ہی حیران کن نتائج دے سکتا ہے حلقہ پی پی 115سے سابق صوبائی وزیر چودھری فاروق کے بھائی چودھری محمد ارشد صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں اور وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوئے تو پھر فارورڈ گروپ میں چلے گئے اور علاقے میں ترقیاتی کام کراتے رہے ملک حنیف اعوان گروپ اگر قومی اسمبلی کی سیٹ سے امیدوار نہ ہوا تو صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے الیکشن لڑ سکتاہے اور عین ممکن ہے کہ وہ اس سیٹ سے کامیابی بھی حاصل کر لیں دیگر امیدوارں میں جماعت اسلامی کے چودھری لطیف لنگڑیا ل ‘ تحریک انصاف کے چودھری مختار ڈھل ‘ ناصر چھپر ‘ خلیل الرحمان ‘ تیمور اکرم وغیرہ شامل ہیں امیدوار ہیں حالات خواہ کچھ بھی ہوں مقابلہ مسلم لیگ ن ‘ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے امیدواروں میں ہوگا تبدیلی کی خواہش ابھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گی لوگ پھر بھی پرانے چہروں کو ہی آزمائیں گے الیکشن کمیشن کی بے شمار پابندیوں کے باوجود امیدوار درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے جب انتخابی دنگل سجے گا تو امیدوار اور انکا قد کاٹھ سامنے آ سکے گا قبل از وقت کوئی پیش گوئی کرنا ابھی مناسب نہیں آزاد امیدوار بھی میدان میں اترینگے اور کسی کو ہرانے اور کسی کو کامیاب کرانے کا ذریعہ بنیں گے چودھری برادران گجرات سے اپنا حصہ ضرور وصول کرینگے تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں حاصل کر سکے گی ایسے لگتا ہے کہ جیسے ایک ہی فلم دوبارہ ریورس کر کے چلائی جائیگی عین ممکن ہے کہ دوبارہ چلائی گئی فلم میں چند ایک نئے چہرے سامنے ا ٓجائیں مذکورہ حلقہ انتہائی پسماندہ حلقہ ہے مجرمانہ اشتہاری ‘ گجراتی انتخابات میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں لڑائی مار کٹائی اور خون خرابہ سے بھر پور انتخابی فلم میں مردہ باد اور زندہ باد کے نعرے گونجتے ہیں تو دوسری طرف کئی گھرانوں کے چراغ بھی گل ہو جاتے ہیں گجرات میں ایک بھی حلقہ انتخاب ایسا نہیں جہاں کبھی پر امن الیکشن منعقد ہوں گجرات کی چاروں قومی اور صوبائی کی آٹھ نشستیں حساس ہیں اور پر امن انتخابات کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا ۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳