تھیلی سیمیا کامرض کینسر اور ایڈز سے زیادہ خطرناک ہے:ماہرین

تھیلی سیمیا کامرض کینسر اور ایڈز سے زیادہ خطرناک ہے:ماہرین

  



 کراچی(ما نیٹرنگ ڈیسک) تھیلی سیمیا کامرض کینسر اور ایڈز سے بھی زیادہ خطرناک ہے،اس کا کوئی علاج نہیںہے۔ والدین ایک معمولی سا ٹیسٹ کراکے ہمیشہ کیلئے اس بیماری سے بچوں کومحفوظ رکھ سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارمقررین نے پاکستان پروفیشنل ایسوسی ایشن اور تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی کے زیر اہتمام ہاﺅس آف کامن میں تھیلی سیمیا کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔ سیمینارمیں کاشف اقبال تھیلسیمیا ٹرسٹ انٹرنیشنل کراچی کے محمد اقبال خان نے خاص طور پر شرکت کی جن کے صاحبزادے اس مرض سے 18 برس قبل لندن میں انتقال کرگئے تھے۔ مقررین نے کہا کہ یہ بیماری والدین کے جینز سے بچوں کو منتقل ہوتی ہے اور جب تک بچے زندہ رہتے ہیں عذاب میں مبتلا رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر خان ، لارڈ نذیر احمد اور محمد اقبال نے کہا کہ اگر شادی سے قبل ٹیسٹ کے ذریعے اس بات کو یقینی بنالیا جائے کہ شادی کرنے والاجوڑا تھیلی سیمیا کا کیریئر نہیں ہے تو ان کی اولاد کو تھیلسیمیا میجر نہیں ہو گا جوایک موذی مرض ہے۔ 

مزید : تعلیم و صحت